آصف شفیع — مئی 5، 2009 4:57 صبح
آیک غزل احباب کی خدمت میں۔
دل و دماغ میں تکرار ہو نہ جائے کہیں
ترے وجود سے انکار ہو نہ جائے کہیں
میں ایک اور جنم اب کہاں سے لاؤں گا
وہ شخص پھر مجھے درکار ہو نہ جائے کہیں
مخالفوں کو یہی ایک فکر لاحق ہے
یہ قوم نیند سے بیدار ہو نہ جائے کہیں
مرے خیال میں ہر دم جو محو رہتا ہے
مرے ہی نام سے بیزار ہو نہ جائے کہیں
مرے پڑوس کی دیوار گرنے والی ہے
مرا مکان بھی مسمار ہو نہ جائے کہیں
اسی لیے تو میں اکثر خموش رہتا ہوں
مرے ملال کا اظہار ہو نہ جائے کہیں
متاعِدرد کو دل سے نکال مت آصف
یہ جسم اور بھی بیکار ہو نہ جائے کہیں
( آصف شفیع)
مغزل — مئی 5، 2009 5:25 صبح
دل و دماغ میں تکرار ہو نہ جائے کہیں
ترے وجود سے انکار ہو نہ جائے کہیں
میں ایک اور جنم اب کہاں سے لاؤں گا
وہ شخص پھر مجھے درکار ہو نہ جائے کہیں
مخالفوں کو یہی ایک فکر لاحق ہے
یہ قوم نیند سے بیدار ہو نہ جائے کہیں
مرے خیال میں ہر دم جو محو رہتا ہے
مرے ہی نام سے بیزار ہو نہ جائے کہیں
مرے پڑوس کی دیوار گرنے والی ہے
مرا مکان بھی مسمار ہو نہ جائے کہیں
اسی لیے تو میں اکثر خموش رہتا ہوں
مرے ملال کا اظہار ہو نہ جائے کہیں
متاعِدرد کو دل سے نکال مت آصف
یہ جسم اور بھی بیکار ہو نہ جائے کہیں
( آصف شفیع)
سبحان اللہ سبحان اللہ ،کیا کہنے آصف صاحب ایک ایک شعر اپنی جگہ آفتا ب ہے ، میں تو مخمصے میں پڑگیا کہ کس شعر کا اقتباس کروں ، صبح صبح تازہ غزل پڑھ کر تازہ دم ہوگیا ہوں ، صاحب سدا خوش رہیں ، ایک ایک مصرعے پر صمیم ِ قلب سے مبارکباد ، گر قبول افتد زہے عزو شرف
والسلام
محمد وارث — مئی 5، 2009 8:50 صبح
بہت خوبصورت غزل ہے آصف صاحب، بہت داد قبول کیجیئے محترم۔
سبھی اشعار اچھے ہیں لیکن یہ بہت اچھے لگے مجھے:
مخالفوں کو یہی ایک فکر لاحق ہے
یہ قوم نیند سے بیدار ہو نہ جائے کہیں
مرے پڑوس کی دیوار گرنے والی ہے
مرا مکان بھی مسمار ہو نہ جائے کہیں
متاعِ درد کو دل سے نکال مت آصف
یہ جسم اور بھی بیکار ہو نہ جائے کہیں
واہ واہ واہ، لاجواب
فرخ منظور — مئی 5، 2009 9:44 صبح
واہ واہ بہت خوبصورت غزل ہے آصف صاحب۔ اور مطلع تو بہت ہی جاندار ہے۔
آصف شفیع — مئی 5، 2009 11:55 صبح
سبحان اللہ سبحان اللہ ،کیا کہنے آصف صاحب ایک ایک شعر اپنی جگہ آفتا ب ہے ، میں تو مخمصے میں پڑگیا کہ کس شعر کا اقتباس کروں ، صبح صبح تازہ غزل پڑھ کر تازہ دم ہوگیا ہوں ، صاحب سدا خوش رہیں ، ایک ایک مصرعے پر صمیم ِ قلب سے مبارکباد ، گر قبول افتد زہے عزو شرف
والسلام
جی حوصلہ افزائی کا بے حد شکریہ۔ بہت محبت آپ کی۔
آصف شفیع — مئی 5، 2009 11:57 صبح
بہت خوبصورت غزل ہے آصف صاحب، بہت داد قبول کیجیئے محترم۔
سبھی اشعار اچھے ہیں لیکن یہ بہت اچھے لگے مجھے:
واہ واہ واہ، لاجواب
شکریہ وارث صاحب۔
آصف شفیع — مئی 5، 2009 11:58 صبح
واہ واہ بہت خوبصورت غزل ہے آصف صاحب۔ اور مطلع تو بہت ہی جاندار ہے۔
فرخ بھائی شکریہ غزل کی پسندید گی کا۔
عمران شناور — مئی 6، 2009 8:07 صبح
واہ جی واہ!
سواد آگیا بادشاہو!
الف عین — مئی 6، 2009 6:10 شام
مبارک ہو آصف،، اچھی غزل ہے واقعی۔۔
شناور نے چکھ کر بھی داد دی ہے کیا؟
شاہ حسین — مئی 6، 2009 8:40 شام
مخالفوں کو یہی ایک فکر لاحق ہے
یہ قوم نیند سے بیدار ہو نہ جائے کہیں
بہت خوب فکر ہے ! نہایت عمدہ غزل ہے
عمران شناور — مئی 7، 2009 3:25 شام
غزل ہی اتنی ذائقہ دار تھی کہ
سواد آگیا بادشاہو
ش زاد — مئی 8، 2009 1:22 شام
آیک غزل احباب کی خدمت میں۔
دل و دماغ میں تکرار ہو نہ جائے کہیں
ترے وجود سے انکار ہو نہ جائے کہیں
میں ایک اور جنم اب کہاں سے لاؤں گا
وہ شخص پھر مجھے درکار ہو نہ جائے کہیں
مخالفوں کو یہی ایک فکر لاحق ہے
یہ قوم نیند سے بیدار ہو نہ جائے کہیں
مرے خیال میں ہر دم جو محو رہتا ہے
مرے ہی نام سے بیزار ہو نہ جائے کہیں
مرے پڑوس کی دیوار گرنے والی ہے
مرا مکان بھی مسمار ہو نہ جائے کہیں
اسی لیے تو میں اکثر خموش رہتا ہوں
مرے ملال کا اظہار ہو نہ جائے کہیں
متاعِدرد کو دل سے نکال مت آصف
یہ جسم اور بھی بیکار ہو نہ جائے کہیں
( آصف شفیع)
آصف بھائی اچھی غزل ہے
جانے کیوں کچھ اشعر پر گماں گزر رہا ہے کہ پہلے کہیں پڑہے ہیں
دل و دماغ میں تکرار ہو نہ جائے کہیں
ترے وجود سے انکار ہو نہ جائے کہیں
مرے پڑوس کی دیوار گرنے والی ہے
مرا مکان بھی مسمار ہو نہ جائے کہیں
ان اشعار کا زکر کر رہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔
آصف شفیع — مئی 10، 2009 5:32 صبح
آصف بھائی اچھی غزل ہے
جانے کیوں کچھ اشعر پر گماں گزر رہا ہے کہ پہلے کہیں پڑہے ہیں
ان اشعار کا زکر کر رہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ غزل کئی انتخابات میں بھی چھپ چکی ہے اور میری کتاب" کوئی پھول دل میں کھلا نہیں" میں بھی شامل ہے۔ ہو سکتا ہے آپ کی نظر سے یہ غزل گزری ہو۔
ایم اے راجا — مئی 12، 2009 10:29 صبح
دل و دماغ میں تکرار ہو نہ جائے کہیں
ترے وجود سے انکار ہو نہ جائے کہیں
میں ایک اور جنم اب کہاں سے لاؤں گا
وہ شخص پھر مجھے درکار ہو نہ جائے کہیں
مخالفوں کو یہی ایک فکر لاحق ہے
یہ قوم نیند سے بیدار ہو نہ جائے کہیں
متاعِ درد کو دل سے نکال مت آصف
یہ جسم اور بھی بیکار ہو نہ جائے کہیں
واہ بہت لاجواب، آصف صاحب داد قبول ہو، واہ واہ، کیا بات کہی ہے واہ واہ۔