ظہیراحمدظہیر — مارچ 2، 2016 4:20 شام
دل کو ٹٹولئے ، کوئی ارمان ڈھونڈئیے
پھر سے کسی نظرمیں پرستان ڈھونڈئیے
یونہی گزر نہ جائے یہ موسم شباب کا
آرائشِ حیات کا سامان ڈھونڈیئے
کب تک گلاب ہاتھ میں لیکر پھریں گے آپ
موسم بہت شدید ہے گلدان ڈھونڈئیے
دیوار ہی گری ہے ، یہ بازو نہیں گرے
ملبہ اٹھا کے سائے کا امکان ڈھونڈیے
اٹھتی ہے اک صدا سی مشینوں کے شور میں
ہوگا یہیں کہیں کوئی انسان ، ڈھونڈیئے
ملیے کبھی اکیلے میں خود اپنے آپ سے
سارے نقاب اُتار کے پہچان ڈھونڈیئے
ظہیر احمد ظہیر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۲۰۰۸
سارہ خان — مارچ 2، 2016 4:21 شام
اٹھتی ہے اک صدا سی مشینوں کے شور میں
ہوگا یہیں کہیں کوئی انسان ، ڈھونڈیئے
واہ ۔۔۔
محمد تابش صدیقی — مارچ 2، 2016 4:38 شام
بہت عمدہ، ظہیر بھائی۔ کیا خوب غزل کہی ہے۔
کب تک گلاب ہاتھ میں لیکر پھریں گے آپ
موسم بہت شدید ہے گلدان ڈھونڈئیے
دیوار ہی گری ہے ، یہ بازو نہیں گرے
ملبہ اٹھا کے سائے کا امکان ڈھونڈیے
اٹھتی ہے اک صدا سی مشینوں کے شور میں
ہوگا یہیں کہیں کوئی انسان ، ڈھونڈیئے
ملیے کبھی اکیلے میں خود اپنے آپ سے
سارے نقاب اُتار کے پہچان ڈھونڈیئے
کاشف اختر — مارچ 2، 2016 4:49 شام
واہ واہ ! بہت خوب ظہیر بھائی ! ماشاء اللہ
کاشف اختر — مارچ 2، 2016 4:50 شام
واہ واہ ! بہت خوب ظہیر بھائی ! ماشاء اللہ
دیوار ہی گری ہے ، یہ بازو نہیں گرے
ملبہ اٹھا کے سائے کا امکان ڈھونڈیے
فاتح — مارچ 2، 2016 5:35 شام
واہ ظہیر بھائی، ایک اور کمال غزل۔
یہ اشعار تو حاصل غزل ہیں:
دیوار ہی گری ہے، یہ بازو نہیں گرے
ملبہ اٹھا کے سائے کا امکان ڈھونڈیے
اٹھتی ہے اک صدا سی مشینوں کے شور میں
ہو گا یہیں کہیں کوئی انسان، ڈھونڈیے
ظہیراحمدظہیر — مارچ 3، 2016 12:36 صبح
اللہ ذوق سلامت رکھے آپ کا ۔ بہت ممنون ہوں ۔
ظہیراحمدظہیر — مارچ 3، 2016 12:36 صبح
بہت عمدہ، ظہیر بھائی۔ کیا خوب غزل کہی ہے۔
تابش بھائی ، بہت محبت ! بہت نوازش! اللہ خوش رکھے آپ کو!
ظہیراحمدظہیر — مارچ 3، 2016 12:38 صبح
واہ واہ ! بہت خوب ظہیر بھائی ! ماشاء اللہ
بہت شکریہ کاشف بھائی ۔ سلامت رہیں ۔
ظہیراحمدظہیر — مارچ 3، 2016 12:40 صبح
واہ ظہیر بھائی، ایک اور کمال غزل۔
یہ اشعار تو حاصل غزل ہیں:
دیوار ہی گری ہے، یہ بازو نہیں گرے
ملبہ اٹھا کے سائے کا امکان ڈھونڈیے
اٹھتی ہے اک صدا سی مشینوں کے شور میں
ہو گا یہیں کہیں کوئی انسان، ڈھونڈیے
فاتح بھائی ، آپ کو پسند آئے تو مجھے بھی اعتبار آگیا ۔ اللہ تعالیٰ آپ کو سدا شاد آباد رکھے ! میں سراپا سپاس ہوں ۔
نیرنگ خیال — مارچ 4، 2016 7:07 صبح
اٹھتی ہے اک صدا سی مشینوں کے شور میں
ہوگا یہیں کہیں کوئی انسان ، ڈھونڈیئے
واہ۔۔۔۔ عہد حاضر کا المیہ۔۔۔ بہت ہی خوب سر۔۔۔ ماشاءاللہ