دل کی ہر ہر تمنا دھواں ہوگئی

راسخ کشمیری — نومبر 29، 2006 1:30 شام
دل کی ہر ہر تمنا دھواں ہوگئی
بات تیری جفا کی بیاں ہوگئی
ضبط کرتے رہے آہ بھرتے رہے
بات آئی زباں پر رواں ہوگئی
وہ کے بے رخ رہا، پوجتے ہم رہے
زندگی آہ نذرِ بتاں ہوگئی
ہم چھپاتے رہے چاہتوں کو مگر
یہ حقیقت نظر سے عیاں ہوگئی
جرمِ الفت جو سرزد ہوا ہم سے یار
ہمری عزت سپردِ جہاں ہوگئی
پاکستانی — دسمبر 11، 2006 12:22 شام
بہت خوب راسخ بھیا
عبدالرحمٰن — دسمبر 11، 2006 1:16 شام
:zabardast1:
دوست — دسمبر 11، 2006 1:48 شام
پسند آئی۔۔
راسخ کشمیری — دسمبر 11، 2006 1:56 شام
پاکستانی
عبد الرحمن
دوست
سب کا شکریہ
سیمل — دسمبر 11، 2006 2:00 شام
بہت خوب راسخ بھائی عمدہ۔۔۔ اور جہاں تک میرا ادھورا علم۔۔۔۔ اور خام مطالعہ کہتا ہے اگر آپ تیسرے شعر میں
“وہ کے“ کی بجائے “ وہ کہ“ لگائیں تو بات میں وزن بڑھے گا۔۔۔ اور باقی تو استاد محترم ہی بتائیں گے کہ کیا صحیح ہے
راسخ کشمیری — دسمبر 11، 2006 2:20 شام
شکریہ سیمل
آپکی بات درست ہے
سیمل کا مطلب کیا ہے؟؟
علم میں اضافہ کردیجئے :)
سیمل — جنوری 27، 2007 6:13 صبح
راسخ نے کہا:
شکریہ سیمل
آپکی بات درست ہے
سیمل کا مطلب کیا ہے؟؟
علم میں اضافہ کردیجئے :)

سیمل وہ درخت ھے جو پھل کے بوجھ سے جھکا ہوا ہو۔۔۔۔
مجیب — جولائی 25، 2009 1:00 شام
آپ کی کوشش پسند آئی
ہر ایک شعر قابل تعریف ہے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AF%D9%84-%DA%A9%DB%8C-%DB%81%D8%B1-%DB%81%D8%B1-%D8%AA%D9%85%D9%86%D8%A7-%D8%AF%DA%BE%D9%88%D8%A7%DA%BA-%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A6%DB%8C.4868/