دن جوانی کے گنوا کر رو دیئے

Raza Qaseer — ستمبر 13، 2014 7:48 صبح
دن جوانی کے گنوا کر رو دئیے
پیار میں سب کچھ لٹا کر رو دیئے
تُو نہ آیا تو تری تصویر کو
ہجر کی باتیں سنا کر رو دیئے
ہم کبھی فرقت میں روئے اور کبھی
سامنے اُن کو بیٹھا کر رو دیئے
ڈائری میں جا بجا صفحات پر
تیری تصویریں بنا کر رو دیئے
اُن کا دل رکھنے کی خاطر میں ہنسا
وہ مگر مجھ کو ہنسا کر رو دیئے
تیری رسوائی سے ڈرتے ہیں بہت
اس لئے شمعیں بجا کر رو دیئے
رات بھر ذیشان ؔ اپنے آپ کو
غم کی سولی پر چڑھا کر رو دیئے
الف عین — ستمبر 14، 2014 3:05 صبح
ابھی سے اتنا مت روو، عمر پڑی ہے رونے کے لئے!!
شمعیں ”’بجا‘ کر شاید مپوزنگ کی غلطی ہے۔ ’بجائے ’بجھا‘ کے
اسی طرح ’بیٹھا‘ کا نہیں ’بٹھا‘ کا محل ہے
Raza Qaseer — ستمبر 14، 2014 8:25 شام
شکریہ جناب الف عین صاحب غلطیوں کی نشاندہی کرنے پر دل کی گہرائیوں سے مشکور ہوں
عظیم — ستمبر 17، 2014 12:13 صبح
غم جدائی کا سہا جاتا نہیں - آپ کے بن اب رہا جاتا نہیں -
توصیف یوسف مغل — ستمبر 17، 2014 2:01 صبح
عمدہ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AF%D9%86-%D8%AC%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%8C-%DA%A9%DB%92-%DA%AF%D9%86%D9%88%D8%A7-%DA%A9%D8%B1-%D8%B1%D9%88-%D8%AF%DB%8C%D8%A6%DB%92.77526/