فرمائیں تم سے عشق تو نیکی کمائیں کیا؟
دنیا میں مل گئے ہو تو جنت میں جائیں کیا؟ ہو جب زمانہ حسن کا، ایمان سے کہو
عاشق مزاج لوگ زمانے سے پائیں کیا؟ فرقت کے روز و شب کی کہانی نہ چھیڑیے
یہ لازوال دکھ ہے، سنیں کیا؟ سنائیں کیا؟ اچھی ہوئی بری ہوئی، ہونی تو ہو گئی
اب کیا کریں؟ خدا کو کٹہرے میں لائیں کیا؟ مرنے کو اِس گلی میں بلایا گیا ہمیں
راحیلؔ اگر بلائے نہ جائیں تو آئیں کیا؟ راحیلؔ فاروق 26 دسمبر 2010ء
فرقت کے روز و شب کی کہانی نہ چھیڑیے
یہ لازوال دکھ ہے، سنیں کیا؟ سنائیں کیا؟ اچھی ہوئی بری ہوئی، ہونی تو ہو گئی
اب کیا کریں؟ خدا کو کٹہرے میں لائیں کیا؟
آپ کی داد سے اصل میں دل بڑھ گیا ہے!
مذاق برطرف، پیارے بھائی ۔ پتا نہیں کیسے یہ چوک ہو گئی۔ نظر کمزور ہے میری۔ دوسرا ابھی ابھی سو کر اٹھا ہوں۔ تیسرا آپ کا دیوانہ ہوں۔ دیوانوں کو تو ایمبولینس کی طرح عام معافی ہوتی ہے۔ درخواست ہے کہ دیوانہ یا کم از کم ایمبولینس سمجھ کر چشم پوشی فرمائی جائے۔
عرضے
راحیل فاروق
Arshad khan — اپریل 18، 2016 9:47 صبح
واہ بہت خوب سبحان اللہ
عبیر خان — اپریل 18، 2016 11:56 صبح
دنیا میں بھی ساتھ اور جنت میں بھی ساتھ۔
سلمان دانش جی — اپریل 18، 2016 12:28 شام
واہ صاحب۔ پرلطف کلاسیک انداز میں غزل کیا لکھی ، چچا غالب اور تایا نظیر اکبرآبادی یاد دلوائے دئے ہیں۔
اسی غزل پر سچے دل سے مزید محنت ہووے تو اور بھی نکھر سکتی ہے