دو شعر

امر شہزاد — جولائی 9، 2009 8:47 صبح
آج آفس میں اپنی باسکٹ خالی کرتے ہوئے پرانے نوٹ پیڈ سے اپنے دو شعر ملے ہیں۔
تاریخ تو یاد نہیں‌کہ کب کے ہیں ، اور میرا خیال ہے کہ بس یہی تواٰم ہی تھے مزید نہیں ہو سکے۔
ریگزارِحیات میں اب کے، چلو قصداً سراب دیکھتے ہیں
زندگی جس امید میں گزرے، آو ایک ایساخواب دیکھتے ہیں
پیش بینی نظر کو وہ بخشی ہے کہ حیران کر دیا اُس نے
اب شگوفے بہار کی رت میں بھی خزاں کے عذاب دیکھتے ہیں
الف عین — جولائی 9، 2009 6:16 شام
اچھے اشعار ہیں امر۔
محمداحمد — جولائی 15، 2009 7:07 صبح
بہت خوب امر بھائی!
اچھا لکھتے ہیں آپ! آتے رہا کیجے محفل میں ہم ایسوں کا بھی دل لگا رہتا ہے۔
جُنید — جولائی 15، 2009 9:43 صبح
بہت خوب امر بھائی!
اچھا لکھتے ہیں آپ! آتے رہا کیجے محفل میں ہم ایسوں کا بھی دل لگا رہتا ہے۔

احمد صاحب !
ہم بھی محفل میں ہیںاور ، اور بھی کئی لوگ ہیں.
امر کے ساتھ کچھ خصوصی لگاوٹ ہے آپ کی؟
جُنید — جولائی 15، 2009 9:46 صبح
بہت عمدہ شعر ہیں امر صاحب!
مغزل — جولائی 15، 2009 10:40 صبح
کیا کہنے واہ واہ ۔۔ مگر یہ وہاں ٹوکری میں کیا کررہے تھے؟
امر شہزاد — جولائی 25، 2009 6:32 صبح
دراصل کام کچھ بڑھ گیا ہے، فرصت ہی کم ملتی ہے، نہیں تو یہ بہت پہلے پوسٹ کر چکا ہوتا.

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AF%D9%88-%D8%B4%D8%B9%D8%B1.23574/