دور تک اک سراب دیکھا ہے

ذوالفقار نقوی — دسمبر 11، 2013 5:27 صبح
دور تک اک سراب دیکھا ہے
وحشتوں کا شباب دیکھا ہے
ضو فشاں کیوں ہیں دشت کے ذرے
کیا کوئی ماہتاب دیکھا ہے
بام و در پر ہے شعلگی رقصاں
حُسن کو بے نقاب دیکھا ہے
نامہ بر اُن سے بس یہی کہنا
نیم جاں اک گلاب دیکھا ہے
اب زمیں پر قدم نہیں ٹکتے
آسماں پر عقاب دیکھا ہے
میری نظروں میں بانکپن کیسا
جاگتا ہوں کہ خواب دیکھا ہے
ذوالفقار نقوی
ذوالفقار نقوی — دسمبر 12، 2013 12:42 شام
قیصرانی صاحب....بہت شکریہ
قیصرانی — دسمبر 12، 2013 12:53 شام
بہت خوب
ضو فشاں کیوں ہیں دشت کے ذرے
کیا کوئی ماہتاب دیکھا ہے
پہلے مصرعے سے مجھے لگا کہ شاید اقبال کی طرز پر ہم سائنس کی طرف جا رہے ہیں۔ لیکن دوسرے مصرعے سے بات واضح ہوئی کہ ایسا نہیں
ذوالفقار نقوی — دسمبر 12، 2013 1:15 شام
بہت شکریہ قیصرانی صاحب .... اگر آپ سائنسی اشعار پسند فرمائیں تو پیش کروں...
قیصرانی — دسمبر 12، 2013 6:41 شام
بہت شکریہ قیصرانی صاحب .... اگر آپ سائنسی اشعار پسند فرمائیں تو پیش کروں...
نیکی اور پوچھ پوچھ :)
ذوالفقار نقوی — دسمبر 13، 2013 6:12 صبح
یہ نیکی کسی نئی لڑی کے تحت پیش کر دی جائے گی...ان شا اللہ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AF%D9%88%D8%B1-%D8%AA%DA%A9-%D8%A7%DA%A9-%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%A8-%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7-%DB%81%DB%92.70038/