دھواں تھا چار سو اتنا کہ ہم بے انتہا روئے

ذوالفقار نقوی — دسمبر 9، 2013 11:48 صبح
دھواں تھا چار سو اتنا کہ ہم بے انتہا روئے
فلک محو ِ تماشا تھا، نہ کیوں تحت الثریٰ روئے
عجب حدت مرے اطراف میں جلوہ فروزاں تھی
کہ میری خاک سے شعلے لپٹ کر بار ہا روئے
کسی پتھر کے سینے میں مری آواز یوں گونجے
کہ اِس کے دل کے خانوں میں چھپا ہر اژدھا روئے
سریرِحجت یزداں، زمیں پر کیا اُتر آیا ؟
اَنا سر پیٹتی آئی، جفاؤں کے خدا روئے
مرے آغاز میں مجھ کو ہی رونا تھا، سو میں رویا
نہ جانے کیوں مرے انجام پہ شاہ و گدا روئے
کریں انکار تیری خاک سے ارض و سما نقوی
عبث ہے آنکھ بھر آئے ، یا تیرا نقش ِ پا روئے
ذوالفقار نقوی
سید شہزاد ناصر — دسمبر 9، 2013 12:29 شام
حسب معمول بہت خوب غزل
بہت لطف آیا پڑھ کر
درج ذیل اشعار تو بہت خوب ہیں
عجب حدت مرے اطراف میں جلوہ فروزاں تھی
کہ میری خاک سے شعلے لپٹ کر بار ہا روئے
مرے آغاز میں مجھ کو ہی رونا تھا، سو میں رویا
نہ جانے کیوں مرے انجام پہ شاہ و گدا روئے
شراکت کا شکریہ
سلامت رہیں
ذوالفقار نقوی — دسمبر 9، 2013 12:30 شام
سید شہزادناصر صاحب۔۔۔۔نہایت ممنون ہوں، اس قدر اعلیٰ ریٹنگ !!!
آپ کے الفاظ میرے حوصلے بلند کرتے ہیں، بہت شکریہ
سید شہزاد ناصر — دسمبر 9، 2013 12:31 شام
سید شہزادناصر صاحب۔۔۔ ۔نہایت ممنون ہوں، اس قدر اعلیٰ ریٹنگ !!!
تکلف برطرف
آپ کی غزل بہت خوب ہے سو آپ کا حق بنتا تھا
اور کسی کو اس کا حق دینے میں کوتاہی نیں کرنی چاہئے
بہت آداب :)
ذوالفقار نقوی — دسمبر 9، 2013 3:52 شام
آپ دوستوں کی محبت کا مقروض ہوں ....
ابن سعید بھائی....بہت شکریہ
ظفری — دسمبر 19، 2013 3:10 صبح
مرے آغاز میں مجھ کو ہی رونا تھا، سو میں رویا
نہ جانے کیوں مرے انجام پہ شاہ و گدا روئے
بہت خوب نقوی صاحب ۔ بہت اعلیٰ ۔
محمد اسامہ سَرسَری — دسمبر 19، 2013 3:29 صبح
ماشاءاللہ۔۔۔
بہت ہی عمدہ غزل ہے جناب۔۔۔
بہت سی داد قبول فرمائیں۔
”حضرتِ سلمان“ سے ”حضرت سلیمان“ مراد ہیں نا؟
ذوالفقار نقوی — دسمبر 19، 2013 11:38 صبح
مرے آغاز میں مجھ کو ہی رونا تھا، سو میں رویا
نہ جانے کیوں مرے انجام پہ شاہ و گدا روئے
بہت خوب نقوی صاحب ۔ بہت اعلیٰ ۔

بہت شکریہ ظفری صاحب
ذوالفقار نقوی — دسمبر 19، 2013 11:43 صبح
ماشاءاللہ۔۔۔
بہت ہی عمدہ غزل ہے جناب۔۔۔
بہت سی داد قبول فرمائیں۔
”حضرتِ سلمان“ سے ”حضرت سلیمان“ مراد ہیں نا؟

جی محترم......بالکل درست ....یہاں حضرت سلیمان ہی مراد ہیں.....لیکن سلیمان _دوراں سے مراد امام مہدی ء آخر الزماں ....لیا گیا ہے....
حوصلہ افزائی کے لئے ممنون ہوں....بہت شکریہ محترم
محمد اسامہ سَرسَری — دسمبر 19، 2013 2:07 شام
جی محترم......بالکل درست ....یہاں حضرت سلیمان ہی مراد ہیں.....لیکن سلیمان _دوراں سے مراد امام مہدی ء آخر الزماں ....لیا گیا ہے....
حوصلہ افزائی کے لئے ممنون ہوں....بہت شکریہ محترم
مگر سلیمان کے بجائے سلمان کیسے لکھا جاسکتا ہے؟
ذوالفقار نقوی — دسمبر 20، 2013 12:22 صبح
جس طرح اشعار میں اساتذہ نے حضرت ابراہیم کر براہیم لکها ہے....اسی طرح حضرت سلیمان کو سلمان کہا گیا ہے ....لیکن اگر اس طرح کی مثال اکابرین کے ہاں نہ ملے تو اس مصرعے کو بدلا جا سکتا ہے....
آپ اپنی رائے سے نوازیں ...
محمد اسامہ سَرسَری — دسمبر 20، 2013 6:08 صبح
جس طرح اشعار میں اساتذہ نے حضرت ابراہیم کر براہیم لکها ہے....اسی طرح حضرت سلیمان کو سلمان کہا گیا ہے ....لیکن اگر اس طرح کی مثال اکابرین کے ہاں نہ ملے تو اس مصرعے کو بدلا جا سکتا ہے....
آپ اپنی رائے سے نوازیں ...
رائے تو اساتذہ کرام ہی دیں گے۔:)
ذوالفقار نقوی — دسمبر 20، 2013 9:50 صبح
محترم محمد اسامہ سرسری صاحب ..میرے نزدیک آپ ایک استاد ہیں....آپ جس باریک بینی، گیرائی اور گہرائی کا مظاہرہ کر رہے ہیں وہ ایک عام قاری کی دسترس سے باہر کی بات ہے....
میری غزلوں میں بعض اشعار تجرباتی نوعیت کے ہوتے ہیں....
آس کی ایک مثال میری وہ غزل ہے جس میں حرف روی کا معاملہ ہے....
میں اپنی غلطیوں کو جدت کا نام کر دینے کا عادی ہوں....
لیکن یہاں مسئلہ کچھ الگ سا ہے اور مصرعہ آسانی سے یوں کیا جا سکتا ہے....
"سریر _حجت _یزداں زمیں پر کیا اتر آیا؟"
محمد اسامہ سَرسَری — دسمبر 20، 2013 11:25 صبح
"سریر _حجت _یزداں زمیں پر کیا اتر آیا؟"
ماشاءاللہ ۔۔۔ اب ٹھیک ہے۔
ذرہ نوازی پر متشکر ہوں۔
ذوالفقار نقوی — دسمبر 20، 2013 1:13 شام
بہت شکریہ محترم سرسری صاحب ...
قیصرانی — دسمبر 20، 2013 1:16 شام
بہت خوب :)
ذوالفقار نقوی — دسمبر 20، 2013 1:21 شام

بہت نوازش قیصرانی صاحب
سلمان حمید — دسمبر 20، 2013 1:23 شام
بہت ہی عمدہ غزل ہے نقوی صاحب۔ ہر شعر بہت خوب ہے :)
ذوالفقار نقوی — دسمبر 20، 2013 1:25 شام
بہت ہی عمدہ غزل ہے نقوی صاحب۔ ہر شعر بہت خوب ہے :)

بہت ممنون ہوں جناب سلمان حمید صاحب
محمد علم اللہ — دسمبر 22، 2013 10:06 صبح
عجب حدت مرے اطراف میں جلوہ فروزاں تھی
کہ میری خاک سے شعلے لپٹ کر بار ہا روئے
کیا بات ہے ۔۔
خوب است
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AF%DA%BE%D9%88%D8%A7%DA%BA-%D8%AA%DA%BE%D8%A7-%DA%86%D8%A7%D8%B1-%D8%B3%D9%88-%D8%A7%D8%AA%D9%86%D8%A7-%DA%A9%DB%81-%DB%81%D9%85-%D8%A8%DB%92-%D8%A7%D9%86%D8%AA%DB%81%D8%A7-%D8%B1%D9%88%D8%A6%DB%92.69973/