دھوپ چھاؤں کا کھیل

anwarjamal — مئی 12، 2014 4:54 شام
بے نتیجہ ھے دھوپ چھاؤں کا کھیل
میں نے کھیلا ھے دھوپ چھاؤں کا کھیل
پہلے ملتے ہیں رنج پھر خوشیاں
جاری رہتا ھے دھوپ چھاؤں کا کھیل
عمر کیا ھے ، کوئی طویل سڑک
زندگی کیا ھے ، دھوپ چھاؤں کا کھیل
میں نے سورج کو خط لکھا ، لکھا
جان لیوا ھے دھوپ چھاؤں کا کھیل
مہرباں ھے کبھی ھے نا مہرباں
تیرے جیسا ھے دھوپ چھاؤں کا کھیل
اب کوئی ہمسفر بھی ھے انور
اب گوارا ھے دھوپ چھاؤں کا کھیل
انور
محمد اسامہ سَرسَری — مئی 13، 2014 6:21 صبح
عمر کیا ہے ، کوئی طویل سڑک
زندگی کیا ہے ، دھوپ چھاؤں کا کھیل

بہت عمدہ کلام ہے۔
بہت سی داد قبول فرمائیے۔
عمار ابن ضیا — مئی 13، 2014 6:33 صبح
عمر کیا ھے ، کوئی طویل سڑک
زندگی کیا ھے ، دھوپ چھاؤں کا کھیل
میں نے سورج کو خط لکھا ، لکھا
جان لیوا ھے دھوپ چھاؤں کا کھیل​

بہت خوب، جناب۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AF%DA%BE%D9%88%D9%BE-%DA%86%DA%BE%D8%A7%D8%A4%DA%BA-%DA%A9%D8%A7-%DA%A9%DA%BE%DB%8C%D9%84.74269/