دیر لگتی ہے کہاں خاک کو پتھر ہوتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔غزل

ش زاد — دسمبر 13، 2008 12:48 صبح
دیر لگتی ہے کہاں خاک کو پتھر ہوتے
وقت کو ٹھیرتے اور آنکھ کو منظر ہوتے
دیکھتے ہم بھی ہواؤں کے نگر کے اس پار
ہم بھی آوارہ صِفت کاش کہ بے گھر ہوتے
ہم بھی چُھو آتے سبھی چاند ، ستارے ، سورج
کاش تجسیم کی اس قید سے باہر ہوتے
خوب غزلوں میں ترے عشق کے چرچے کرتے
میر و غالب کی طرح ہم جو سُخنور ہوتے
آئینہ بن کے ترے سامنے آتے پہلے
اور پھِر خوُد ہی ترے ہاتھ میں پتھر ہوتے
عشق کو کوئی دوا کوئی دُعا راس نہیں
اس کے بیمار کو دیکھا نہیں بہتر ہوتے
ش زاد
مغزل — دسمبر 13، 2008 1:07 شام
شین رسید حاضر ہے ۔
تفصیلی مراسلہ بشرطِ فرصت ان شا اللہ
ابن سعید — دسمبر 13، 2008 1:33 شام
کیا لا جواب تخیل و تغزل ہے۔ ایک ایک مصرع بولتا ہے۔ :)
دیکھتے ہم بھی ہواؤں کے نگر کے اس پار
ہم بھی آوارہ صِفت کاش کہ بے گھر ہوتے
ہم بھی چُھو آتے سبھی چاند ، ستارے ، سورج
کاش تجسیم کی اس قید سے باہر ہوتے

خوش مت ہوئیے ان اشعار کو تعریف کے لئے کوٹ نہیں کیا ایسا کرنا ہوتا تو پوری غزل اقتباس کرتا۔
در اصل ان اشعار میں کاش لفظ کی تکرار ہے اور غزل کی ترتیب میں بھی یہ دونوں آس پاس ہی ہیں تو مجھے ذرا سا لگتا ہے کہ ان کے ساتھ کچھ کر لینا چاہئے۔ ویسے بڑے جانیں کہ ان باتوں سے حسن بڑھتا ہے یا گھٹتا ہے۔
تو میں یہ عرض کر رہا تھا کہ ایک مصرعے کی ٹانگ میں تو یوں توڑتا۔
ہم بھی بنجارہ صِفت بے در و بے گھر ہوتے
اس سے ایک تو کاش لفظ سے نجات مل جاتی اور آوارگی و بنجارہ پن میں جو تھوڑا سا معنوی فرق ہے اس کا بھی فائدہ اٹھا لیتا۔
اسی طرح۔
تجسیم کی قید کو "قید ِمجسم" سے بدلتا۔ گو کہ مجھے علم نہیں کہ معنویت وہی رہتی یا کچھ گڑبڑ ہو جاتی۔ بہر حال اس ترکیب سے مجھے روانی حاصل ہو جاتی جس کا حالیہ مصرعے میں "تجسیم کی" اور "اس قید" کے نقطہء امتزاج پر تھوڑا سا فقدان ہے۔ مجھے وہاں وقف کرنا پڑ جاتا ہے ورنہ ادائگی ہی نہیں ہوتی ٹھیک سے۔
یہ ایک تک بند کی رائے ہے اس سے کچھ اخذ کرنا بجائے خود ہنر میں خسارے کا باعث ہو سکتا ہے۔
ش زاد — دسمبر 13، 2008 3:33 شام
شین رسید حاضر ہے ۔
تفصیلی مراسلہ بشرطِ فرصت ان شا اللہ
میں مُنتظر رہوں گا حضور
ش زاد — دسمبر 13، 2008 3:39 شام
کیا لا جواب تخیل و تغزل ہے۔ ایک ایک مصرع بولتا ہے۔ :)
خوش مت ہوئیے ان اشعار کو تعریف کے لئے کوٹ نہیں کیا ایسا کرنا ہوتا تو پوری غزل اقتباس کرتا۔
در اصل ان اشعار میں کاش لفظ کی تکرار ہے اور غزل کی ترتیب میں بھی یہ دونوں آس پاس ہی ہیں تو مجھے ذرا سا لگتا ہے کہ ان کے ساتھ کچھ کر لینا چاہئے۔ ویسے بڑے جانیں کہ ان باتوں سے حسن بڑھتا ہے یا گھٹتا ہے۔
تو میں یہ عرض کر رہا تھا کہ ایک مصرعے کی ٹانگ میں تو یوں توڑتا۔
ہم بھی بنجارہ صِفت بے در و بے گھر ہوتے
اس سے ایک تو کاش لفظ سے نجات مل جاتی اور آوارگی و بنجارہ پن میں جو تھوڑا سا معنوی فرق ہے اس کا بھی فائدہ اٹھا لیتا۔
اسی طرح۔
تجسیم کی قید کو "قید ِمجسم" سے بدلتا۔ گو کہ مجھے علم نہیں کہ معنویت وہی رہتی یا کچھ گڑبڑ ہو جاتی۔ بہر حال اس ترکیب سے مجھے روانی حاصل ہو جاتی جس کا حالیہ مصرعے میں "تجسیم کی" اور "اس قید" کے نقطہء امتزاج پر تھوڑا سا فقدان ہے۔ مجھے وہاں وقف کرنا پڑ جاتا ہے ورنہ ادائگی ہی نہیں ہوتی ٹھیک سے۔
یہ ایک تک بند کی رائے ہے اس سے کچھ اخذ کرنا بجائے خود ہنر میں خسارے کا باعث ہو سکتا ہے۔

حضور پہلے تو غزل کی پسندیدگی کا بہت شکریہ
دوم ایک تُک بند کے لیے دوسرے تُک بند کی رائے بہت اہم ہوتی ہے
""ہم بھی بنجارہ صِفت بے در و بے گھر ہوتے""
ہم نے آپ کا مصرع قبول کیا
نوازش
ابن سعید — دسمبر 13، 2008 3:45 شام
ہائیں آپ بھی!!!!!!!!!! :eek:
یہ کتنے دعوے دار آ کھڑے ہوئے تک بندی کے میدان میں۔
خیر میں نے تووہ مصرع یوں ہی کہہ دیا تھا۔ آپ کے اشعار میں شاید پیوند لگے۔ میں تو سمجھتا تھا کہ آپ ضرورت ہی محسوس کریں گے تو کچھ نیا پیش کریں گے۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ معاذ اللہ مجھے اس بات سے کوئی اعتراض ہے۔
الف عین — دسمبر 13، 2008 3:48 شام
بہت اچھی غزل ہے، خاص کر سعود کے مشورے کو قبول کر لینے کے بعد۔۔۔ مبارک ہو۔۔
ش زاد — دسمبر 13، 2008 7:32 شام
ہائیں آپ بھی!!!!!!!!!! :eek:
یہ کتنے دعوے دار آ کھڑے ہوئے تک بندی کے میدان میں۔
خیر میں نے تووہ مصرع یوں ہی کہہ دیا تھا۔ آپ کے اشعار میں شاید پیوند لگے۔ میں تو سمجھتا تھا کہ آپ ضرورت ہی محسوس کریں گے تو کچھ نیا پیش کریں گے۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ معاذ اللہ مجھے اس بات سے کوئی اعتراض ہے۔
سعود بھائی یقین جانیئے میرا دامن آپ سب کی محبتیں سمیٹنے سے قاصر ہے:):)
ش زاد — دسمبر 13، 2008 7:33 شام
بہت اچھی غزل ہے، خاص کر سعود کے مشورے کو قبول کر لینے کے بعد۔۔۔ مبارک ہو۔۔
بہت بہت نوازش اعجاز صاحب
اللہ آپ کو سُکھی رکھے آمین
ابن سعید — دسمبر 13، 2008 7:50 شام
اللہ آپ کے قلم کو مزید رو شنائی دے۔
ش زاد — دسمبر 13، 2008 8:00 شام
اللہ آپ کے قلم کو مزید رو شنائی دے۔
آمین
اور آپ کے دستِ ہُنر کو فن کے کامل عروج سے سرفراز کرے
آمین
ابن سعید — دسمبر 13، 2008 8:03 شام
آمین۔۔۔۔۔!
محمد امین — دسمبر 27، 2008 11:09 صبح
ہم بھی ہوتے جو اس قیمتی فن سے آشنا،
خدا کی قسم شین کے جیسے شاعر ہوتے، :music::mrgreen::hatoff:
بہت خوب شین صاحب۔۔۔ بالخصوص کاش تجسیم کی اس قید سے باہر ہوتے کا جواب نہیں!!! ہر شعر کلاسیکی رنگ لیے ہوئے ہے :)
ب وقوف — دسمبر 27، 2008 1:22 شام
ایک ا ور لاجواب غزل ش زاد ۔ ۔ ۔
اپنی شاعری جلدی جلدی پیش کرتے رہا کرو، مجھے نشہ سا ہوگیا ہے۔
ش زاد — جنوری 3، 2009 6:05 شام
ہم بھی ہوتے جو اس قیمتی فن سے آشنا،
خدا کی قسم شین کے جیسے شاعر ہوتے، :music::mrgreen::hatoff:
بہت خوب شین صاحب۔۔۔ بالخصوص کاش تجسیم کی اس قید سے باہر ہوتے کا جواب نہیں!!! ہر شعر کلاسیکی رنگ لیے ہوئے ہے :)
بہت بہت شکریہ امین بھائی
کلاسیکیت بذاتِ خود ایک طرح کی جدت ہے مگر کوئی سمجھے تو:)
آداب عرض ہے:hatoff:
ش زاد — جنوری 3، 2009 6:29 شام
ایک ا ور لاجواب غزل ش زاد ۔ ۔ ۔
اپنی شاعری جلدی جلدی پیش کرتے رہا کرو، مجھے نشہ سا ہوگیا ہے۔
آداب عرض ہے حضور
غزل کی پسندیدگی کے لیے بہت شکریہ
میرا بہت سا کلام محفل میں موجود ہے حضور جن کے روابط یہ درج زیل ہیں
http://www.urduweb.org/mehfil/showthread.php?t=17144
http://www.urduweb.org/mehfil/showthread.php?t=17313
http://www.urduweb.org/mehfil/showthread.php?t=17287
http://www.urduweb.org/mehfil/showthread.php?t=17318
http://www.urduweb.org/mehfil/showthread.php?t=17281
http://www.urduweb.org/mehfil/showthread.php?t=17187
http://www.urduweb.org/mehfil/showthread.php?t=16052
http://www.urduweb.org/mehfil/showthread.php?t=15730
http://www.urduweb.org/mehfil/showthread.php?t=17185
http://www.urduweb.org/mehfil/showthread.php?t=15701
http://www.urduweb.org/mehfil/showthread.php?t=16269
http://www.urduweb.org/mehfil/showthread.php?t=17135
http://www.urduweb.org/mehfil/showthread.php?t=17134
http://www.urduweb.org/mehfil/showthread.php?t=17145
http://www.urduweb.org/mehfil/showthread.php?t=15680
http://www.urduweb.org/mehfil/showthread.php?t=15708
http://www.urduweb.org/mehfil/showthread.php?t=16037
http://www.urduweb.org/mehfil/showthread.php?t=15725
http://www.urduweb.org/mehfil/showthread.php?t=15690
شکریہ صاحب:hatoff:
فاتح — جنوری 3، 2009 6:34 شام
سبحان اللہ! ش زاد صاحب انتہائی خوبصورت کلام ہے۔ نوازتے رہیے گا۔
تجسیم کی قید کی ترکیب اور مقطع تو لاجواب ہیں۔
ش زاد — جنوری 8، 2009 3:10 شام
سبحان اللہ! ش زاد صاحب انتہائی خوبصورت کلام ہے۔ نوازتے رہیے گا۔
تجسیم کی قید کی ترکیب اور مقطع تو لاجواب ہیں۔
بہت بہت نوازش بشیر بھائی
ش زاد — فروری 9، 2009 5:28 شام
زاھد کے قول و فعل میں کِتنا تضاد ہے
پاؤں بھی جس جگہ نہ دھرے سر وہاں دھرے
ش زاد

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AF%DB%8C%D8%B1-%D9%84%DA%AF%D8%AA%DB%8C-%DB%81%DB%92-%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA-%D8%AE%D8%A7%DA%A9-%DA%A9%D9%88-%D9%BE%D8%AA%DA%BE%D8%B1-%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%92%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%D8%BA%D8%B2%D9%84.17310/