دے تلے آسمان نے مارا

راحیل فاروق — فروری 24، 2017 4:27 شام
دے تلے آسمان نے مارا
مجھ کو میری اُٹھان نے مارا
دل کی دنیا کو یاد لُوٹ گئی
یہ جہان اس جہان نے مارا
تیغِ بُرّاں ہے حلق میں گویا
مجھے میری زَبان نے مارا
آگ کا کاروبار خوب نہ تھا
خود کو شعلہ بیان نے مارا
دل میں ارمان بستے تھے کیا کیا
خلق کو حکمران نے مارا
عنفوانِ شباب اور وہ گلی
اس زمان و مکان نے مارا
حسن راحیلؔ کو پچھاڑ گیا
زور کتنا جوان نے مارا
راحیلؔ فاروق​
محمد ریحان قریشی — فروری 24، 2017 4:37 شام
عنفوانِ شباب اور وہ گلی
اس زمان و مکان نے مارا
خوبصورت!
محمد وارث — فروری 25، 2017 3:28 صبح
کیا کہنے، لاجواب!
فہد اشرف — فروری 25، 2017 4:09 صبح
لاجواب؎
تیغِ بُرّاں ہے حلق میں گویا
مجھے میری زَبان نے مارا
آگ کا کاروبار خوب نہ تھا
خود کو شعلہ بیان نے مارا
دل میں ارمان بستے تھے کیا کیا
خلق کو حکمران نے مارا
الف عین — فروری 25، 2017 6:06 صبح
مطلع میرے اوپر سے نکل گیا۔ باقی اشعار تو سبھان اللہ یا بقول ٬محمد وارث لا جواب
محمد تابش صدیقی — فروری 25، 2017 6:35 صبح
واہ واہ جناب.
تیغِ بُرّاں ہے حلق میں گویا
مجھے میری زَبان نے مارا
آگ کا کاروبار خوب نہ تھا
خود کو شعلہ بیان نے مارا
دل میں ارمان بستے تھے کیا کیا
خلق کو حکمران نے مارا
ہم کو تیرے دیوان نے مارا
یاز — فروری 25، 2017 6:43 صبح
زبردست جناب
حسن محمود جماعتی — فروری 25، 2017 7:11 صبح
واہ قبلہ کیا کہنے بہت خوب۔ کمال ہے۔ لاجواب!
آگ کا کاروبار خوب نہ تھا
خود کو شعلہ بیان نے مارا
عنفوانِ شباب اور وہ گلی
اس زمان و مکان نے مارا
حسن راحیلؔ کو پچھاڑ گیا
زور کتنا جوان نے مارا
عمدہ!
یوسف سلطان — فروری 26، 2017 1:01 صبح
تیغِ بُرّاں ہے حلق میں گویا
مجھے میری زَبان نے مارا
عنفوانِ شباب اور وہ گلی
اس زمان و مکان نے مارا
حسن راحیلؔ کو پچھاڑ گیا
زور کتنا جوان نے مارا
بہت خوب!!
عاطف ملک — فروری 27، 2017 3:20 شام
عنفوانِ شباب اور وہ گلی
اس زمان و مکان نے مارا
حسن راحیلؔ کو پچھاڑ گیا
زور کتنا جوان نے مارا
اللہ اللہ۔۔۔۔۔۔۔کیا بات ہے بھائی!
"زمان و مکان" نے واقعی میں مار ڈالا ہے.
"جن کو تیغِ نظر نہ مار سکی
ان کو حسنِ بیان نے مارا"
عاطف ملک — فروری 28، 2017 9:05 صبح
راحیل فاروق بھائی!
معذرت کے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔
"پِیڈز"(Paeds) کے امتحان نے مارا
"مجھ کو میری اُٹھان نے مارا"
"طب" میں آ جاؤ، پھر تو عیش ہی عیش
ایسے اچھے گمان نے مارا
پرسوں پِیٹا تھا اک مہاجر نے
آج پھر اک پٹھان نے مارا
گڑ بڑِ پیٹ ہے کئی دن سے
تیری دعوت کے نان نے مارا
اُس کو ماری تھی گیند غلطی سے
اِس پہ اک پہلوان نے مارا
نَیٹو سَپلائی راستہ دے کر
ہاتھ کیسا ایران نے مارا
"عین" "بحروں" میں "پِٹ گیا" راحیل
"زور کتنا جوان نے مارا"
جاسمن — مارچ 20، 2017 6:23 شام
حسین غزل۔
بہت ساری داد۔
ظہیراحمدظہیر — مارچ 23، 2017 1:54 شام
کیا بات ہے راحیل بھائی! بہت خوب! آپ ہی کے رنگ کی غزل ہے! بہت خوب!!
بس مطلع کا مصرع اول آپ کا نہیں لگتا ۔ خیر ۔ کبھی کبھی ادھار بھی چلتا ہے۔ :):):)
ظہیر عباس ورک — مارچ 23، 2017 3:01 شام
بہت عمدہ راحیل بھائی!
حسن راحیلؔ کو پچھاڑ گیا
زور کتنا جوان نے مارا
کہانی ہر جوان کی:)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AF%DB%92-%D8%AA%D9%84%DB%92-%D8%A2%D8%B3%D9%85%D8%A7%D9%86-%D9%86%DB%92-%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7.95022/