اک مسلسل تشنگی کا ذائقہ کڑوا لگا
مجھ کو اپنی زندگی کا ذائقہ کڑوا لگا
مصلحت کی میز پر جتنے بھی کھانے کھائے تھے
مجھ کو ان میں سے سبھی کا ذائقہ کڑوا لگا
میں نے بھی مانا کہ اب وہ بات گاؤں میں نہیں
جب مجھے بھی دیسی گھی کا ذائقہ کڑوا لگا
عشق تھا پہلے پہل خوش ذائقہ اے چارہ گر
بعد میں دیوانگی کا ذائقہ کڑوا لگا
دوستوں کو آزمانا بیوقوفی تھی مری
کیونکہ پھر ہر دوستی کا ذائقہ کڑوا لگا
دل کو شہرت کی چمک اچھی لگی انور ، مگر
آنکھ کو اس روشنی کا ذائقہ کڑوا لگا
انور جمال انور
مجھ کو اپنی زندگی کا ذائقہ کڑوا لگا
مصلحت کی میز پر جتنے بھی کھانے کھائے تھے
مجھ کو ان میں سے سبھی کا ذائقہ کڑوا لگا
میں نے بھی مانا کہ اب وہ بات گاؤں میں نہیں
جب مجھے بھی دیسی گھی کا ذائقہ کڑوا لگا
عشق تھا پہلے پہل خوش ذائقہ اے چارہ گر
بعد میں دیوانگی کا ذائقہ کڑوا لگا
دوستوں کو آزمانا بیوقوفی تھی مری
کیونکہ پھر ہر دوستی کا ذائقہ کڑوا لگا
دل کو شہرت کی چمک اچھی لگی انور ، مگر
آنکھ کو اس روشنی کا ذائقہ کڑوا لگا
انور جمال انور