ذرا ذرا سا نہیں بے حساب تم سا ہے

Tahir Shahzad — ستمبر 22، 2016 8:30 شام
ذرا ذرا سا نہیں بے حساب تم سا ہے
کھلا ہوا یہ چمن میں گلاب تم سا ہے
تمام رات جسے دیکھتا رہا ہوں میں
عجیب بات ہے وہ ماہتاب تم سا ہے
بہار آئی تو لے آئی یاد پھر سے تری
سنو بہار کا سارا شباب تم سا ہے
یقیں ہے تمہی بستے ہو آس پاس مرے
یہ میری جاگتی آنکھوں میں خواب تم سا ہے
مری غزل پہ بہت شاد ہے تیری محفل
مری کتاب کا دلکش نصاب تم سا ہے
تمہی عزیز ہو شہزاد کو جہاں بھر میں
بھلا بتائو جو کوئی جناب تم سا ہے
طاہر شہزاد طائر
نایاب — ستمبر 23، 2016 5:29 صبح
واہہہہ
بہت خوب
آج کل رومان بھری شاعری کم ہی دکھتی ہے ۔
اگر ممکن ہو تو شراکت جاری رکھیئے گا ۔
بہت دعائیں
اکمل زیدی — ستمبر 23، 2016 6:06 صبح
خوب لکھا ۔۔۔۔اچھی روانی ہے۔۔۔خوب بے ساختگی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
Tahir Shahzad — ستمبر 23، 2016 6:23 صبح
شکریہ،
انشااللہ کوشش کروں گا کہ شرکت جاری رکھی جائے۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B0%D8%B1%D8%A7-%D8%B0%D8%B1%D8%A7-%D8%B3%D8%A7-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D8%A8%DB%92-%D8%AD%D8%B3%D8%A7%D8%A8-%D8%AA%D9%85-%D8%B3%D8%A7-%DB%81%DB%92.92065/