***رات***

علی صہیب — جولائی 17، 2017 7:05 شام
وقت گزرا ہے عجب سرعتِ رفتار کے ساتھ
رات پھر آئی ہے تاریکیِ آثار کے ساتھ
وحشت و سوزش و آزاریِ افکار کے ساتھ
آئی ہے میری تمناؤں کی قاتل بن کر
لائی یادوں کا دھواں میری جوانی کی فغاں
ہر طرف خوف کے قدموں کی وہی چاپ اٹھے
جس سے پھر جسم مرا روح مری کانپ اٹھے
ٹمٹماتے ہوئے کچھ آس کے بے خوف چراغ
اور کچھ امید کی جلتی ہوئی قندیلیں ہیں
جو مقابل ہیں شبِ خوف کے اس لشکر کے
دیکھیے معرکہ اب کون یہاں جیتے گا
آس جیتے گی کہ پھر وہم و گماں جیتے گا
ہائے تقدیر سے کب کون کہاں جیتے گا
علی صہیب
علی صہیب — جولائی 17، 2017 7:08 شام
الف عین
محمد وارث
محمد تابش صدیقی
عباد اللہ
محمد وارث — جولائی 18، 2017 3:48 صبح
خوب نظم ہے حافظ صاحب، لاجواب!
محمد تابش صدیقی — جولائی 18، 2017 4:08 صبح
بہت اعلیٰ جناب۔ کی کہنے۔
ٹمٹماتے ہوئی کچھ آس کے بے خوف چراغ
ٹائپو درست کر لیں۔
کاشف اختر — جولائی 18، 2017 5:14 صبح
ماشاء اللہ بہت خوب
علی صہیب — جولائی 18، 2017 9:59 صبح
خوب نظم ہے حافظ صاحب، لاجواب!
شکریہ جناب! ❤
بہت اعلیٰ جناب۔ کی کہنے۔
شکریہ! ❤
ٹائپو درست کر لیں۔
جی درست کر لیا ہے!
ماشاء اللہ بہت خوب
نوازش! ❤
عباد اللہ — جولائی 18، 2017 10:04 صبح
بہت عمدہ ہے حافظ صاحب
علی صہیب — جولائی 18، 2017 10:09 صبح
بہت عمدہ ہے حافظ صاحب
بہت شکریہ عباد! ❤
لاریب مرزا — جولائی 18، 2017 8:11 شام
بہت خوب کاوش ہے۔ :)
عرفان سعید — جولائی 18، 2017 8:24 شام
بہت عمدہ، کیا کہنے!
الف عین — جولائی 19، 2017 8:09 صبح
خوب ماشاءاللہ۔کئی مصرعوں میں قوافی استعمال کئے گئے ہیں اور اس وجہ سے کانپ اور چاپ کے 'غیر قوافی' پسند نہیں آئے
علی صہیب — جولائی 22، 2017 4:51 شام
بہت شکریہ محترمہ!
بہت عمدہ، کیا کہنے!
بہت شکریہ محترم!
خوب ماشاءاللہ۔کئی مصرعوں میں قوافی استعمال کئے گئے ہیں اور اس وجہ سے کانپ اور چاپ کے 'غیر قوافی' پسند نہیں آئے
ذرہ نوازی محترم! ❤
کچھ متبادل سوچتا ہوں اور آئندہ اس سے پرہیز برتوں گا!
عبد الرحمٰن — جولائی 22، 2017 5:05 شام
ہائے تقدیر سے کب کون کہاں جیتے گا
خوب تقدیر سے کون جیتے گا
علی صہیب — جولائی 22، 2017 5:13 شام
خوب تقدیر سے کون جیتے گا
بیشک!
یوں جکڑ رکھا ہے تقدیر کی زنجیروں نے
جہدِ پیہم کا نتیجہ بھی صفر لگتا ہے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B1%D8%A7%D8%AA.97624/