رات بھی کچھ گہری گہری ہے درد بھی گہرا گہرا ہے

محمود احمد غزنوی — ستمبر 7، 2009 9:42 صبح
ایک غزل۔ ۔ ۔ ۔ ۔
رات بھی کچھ گہری گہری ہے درد بھی گہرا گہرا ہے
سُلگی سُلگی اوس پڑی ہے اور آنکھوں میں کہرا ہے
پھول تو سب تھک ہار کے شائد گردن ڈال کے سو بیٹھے
کیا جانیں کیوں ہوا ہے بے کل، پتّہ پتّہ لرزا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ٹیڑھی میڑھی لمبی سڑکیں پھر سے تیری راہ تکیں
بند گلی میں حبس ہے جتنا، باہر اتنی برکھا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
نہ جانے کیا بات ہے شائد ساون اس کو کہتے ہیں
حدّ ِ نظر تک صحرا ہے اور آنکھ پہ بادل برسا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ہر اک کے سنگ چل پڑتا ہے چاند جسے تم کہتے ہو
چاند میں ایسی بات ہی کیا ہے گھٹتا بڑھتا رہتا ہے۔ ۔
جن باتوں پر پہرہ تھا مدّت سے اک خاموشی کا
کیا کہیئے اب اُن باتوں کا قریہ قریہ شہرہ ہے۔ ۔ ۔
محمود احمد غزنوی — ستمبر 7، 2009 10:17 صبح
لاہور کی برساتوں کے نام
الف عین — ستمبر 7، 2009 5:51 شام
بہت اچھی غزل ہے محمود۔ وزن میں دو مصرعوں میں ایک رکن زائد ہے،
ٹیڑھی میڑھی لمبی سڑکیں پھر سے تیری راہ تکیں ہیں
بند گلی میں حبس ہے جتنا، باہر اتنی برکھا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
پہلا مصرع، محض ’راہ تکیں‘ پر مکمل ہو جاتا ہے، ’ہیں‘ کی ضرورت نہیں
نہ جانے کیا بات ہے شائد ساون رت اس کو کہتے ہیں
حدّ ِ نظر تک صحرا ہے اور آنکھ پہ بادل برسا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔
أس کا بھی پہلا مصرع۔۔
نا جانے (سبب خفیف کی بات پر پھر وارث مجھ سے متفق نہیں ہوں گے)، کیا بات ہے شاید ساون اس کو کہتے ہیں
سے بات مکمل ہو جاتی ہے، ’رُت‘ کی ضرورت نہیں۔
اور مطلع بدل دو، اس میں ایطا ہے۔
ایم اے راجا — ستمبر 8، 2009 12:26 صبح
بہت خوب جناب غزنوی صاحب
محمود احمد غزنوی — ستمبر 8، 2009 4:58 صبح
بہت اچھی غزل ہے محمود۔ وزن میں دو مصرعوں میں ایک رکن زائد ہے،
ٹیڑھی میڑھی لمبی سڑکیں پھر سے تیری راہ تکیں ہیں
بند گلی میں حبس ہے جتنا، باہر اتنی برکھا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
پہلا مصرع، محض ’راہ تکیں‘ پر مکمل ہو جاتا ہے، ’ہیں‘ کی ضرورت نہیں
نہ جانے کیا بات ہے شائد ساون رت اس کو کہتے ہیں
حدّ ِ نظر تک صحرا ہے اور آنکھ پہ بادل برسا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔
أس کا بھی پہلا مصرع۔۔
نا جانے (سبب خفیف کی بات پر پھر وارث مجھ سے متفق نہیں ہوں گے)، کیا بات ہے شاید ساون اس کو کہتے ہیں
سے بات مکمل ہو جاتی ہے، ’رُت‘ کی ضرورت نہیں۔
اور مطلع بدل دو، اس میں ایطا ہے۔

شکریہ سر۔ ۔ ۔ تبدیلی کر دی ہے۔:)
الف عین — ستمبر 8، 2009 11:17 صبح
شکریہ اب مطلع باقی ہے، اس کا بھی کچھ کرو، قافیہ بدل دو جس میں ایطا ہے۔ آسان الفاظ میں یوں سمجھو کہ رہتا، شہرہ (شہرا) وغیرہ ہیں جس میں قدر مشترک صرف "آخری الف" ہے۔ یعنی تا، سا، ہا وغیرہ قافیے تو درست ہیں، لیکن مطلع میں ’ہرا‘ مشترک حروف ہیں، پہرا، گہرا قافیے تو ہو سکتے ہیں، لیکن تا، سا کے ساتھ نہیں۔ اس لے علاوہ کہرہ میں کاف پر پیش ہے، جب کہ گہرا میں گاف پر کسر (زیر)۔
محمود احمد غزنوی — ستمبر 9، 2009 5:10 صبح
اس پر مجھے اکبر کا یہ شعر یاد آگیا:)
میں نے چاہا تھا کہ کٹ جائیں جو ناقص شعر ہوں
یہ نتیجہ تھا کہ کُل دیوان رخصت ہو گیا:):):)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B1%D8%A7%D8%AA-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%DA%A9%DA%86%DA%BE-%DA%AF%DB%81%D8%B1%DB%8C-%DA%AF%DB%81%D8%B1%DB%8C-%DB%81%DB%92-%D8%AF%D8%B1%D8%AF-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%DA%AF%DB%81%D8%B1%D8%A7-%DA%AF%DB%81%D8%B1%D8%A7-%DB%81%DB%92.25129/