عمران شناور — اکتوبر 18، 2010 9:01 صبح
تازہ اشعار اہلِ ذوق کی نذر:
راز کی بات کوئی کیا جانے
میرے جذبات کوئی کیا جانے
میرے حصے میں ہجر آیا ہے
ہجر کی رات کوئی کیا جانے
روز ہوتی ہے گفتگو تجھ سے
یہ ملاقات کوئی کیا جانے
کس قدر ٹوٹ پھوٹ ہے مجھ میں
میرے حالات کوئی کیا جانے
بے سبب خود سے دشمنی کر لی
یہ مری مات کوئی کیا جانے
(عمران شناور)
محمد وارث — اکتوبر 19، 2010 6:18 صبح
خوب ہے عمران صاحب اور چونکہ ہر شخص کی وارداتِ قلبی منفرد ہوتی ہے اس لیے کوئی کیا جانے،
میرے حصے میں ہجر آیا ہے
ہجر کی رات کوئی کیا جان
واہ واہ
الف عین — اکتوبر 20، 2010 11:13 صبح
اچھی سادہ سی غزل ہے، لیکن غیر معمولی بھی نہیں۔
ایم اے راجا — اکتوبر 21، 2010 4:24 شام
میرے حصے میں ہجر آیا ہے
ہجر کی رات کوئی کیا جانے
واہ واہ عمران صاحب بہت خوب کہی ہے واہ واہ
عمران شناور — اکتوبر 22، 2010 7:53 صبح
خوب ہے عمران صاحب اور چونکہ ہر شخص کی وارداتِ قلبی منفرد ہوتی ہے اس لیے کوئی کیا جانے،
میرے حصے میں ہجر آیا ہے
ہجر کی رات کوئی کیا جان
واہ واہ
بہت شکریہ وارث صاحب!
عمران شناور — اکتوبر 22، 2010 7:55 صبح
اچھی سادہ سی غزل ہے، لیکن غیر معمولی بھی نہیں۔
الف عین صاحب بہت شکریہ
عمران شناور — اکتوبر 22، 2010 7:56 صبح
میرے حصے میں ہجر آیا ہے
ہجر کی رات کوئی کیا جانے
واہ واہ عمران صاحب بہت خوب کہی ہے واہ واہ
بہت شکریہ راجا صاحب
محمداحمد — نومبر 23، 2010 7:36 صبح
میرے حصے میں ہجر آیا ہے
ہجر کی رات کوئی کیا جانے
روز ہوتی ہے گفتگو تجھ سے
یہ ملاقات کوئی کیا جانے
عمران بھائی بہت اچھی غزل ہے۔ داد حاضرِ خدمت ہے۔
تاخیر کے لئے معذرت۔
عمران شناور — نومبر 23، 2010 7:51 صبح
میرے حصے میں ہجر آیا ہے
ہجر کی رات کوئی کیا جانے
روز ہوتی ہے گفتگو تجھ سے
یہ ملاقات کوئی کیا جانے
عمران بھائی بہت اچھی غزل ہے۔ داد حاضرِ خدمت ہے۔
تاخیر کے لئے معذرت۔
بہت شکریہ محمد احمد صاحب
عمران شناور — نومبر 23، 2010 7:52 صبح
ایک اور غزل پوسٹ کی تھی وقت ملے تو دیکھیے گا