راہبر دیکھ لئے ، راہ گزر دیکھ آئے

ظہیراحمدظہیر — اکتوبر 31، 2019 10:31 شام
احباب کرام ! ایک پرانی غزل پیشِ خدمت ہے ۔ اس کے اکثر اشعار چند سال پہلے پاکستان سے واپسی کے سفر کے دوران لکھے گئے تھے۔ اگر آج کل کے حالات پر نظر ڈالی جائے تو یہ شعر اتنےپرانے محسوس نہیں ہوتے ۔ شاید آپ کو پسند آئیں ۔
راہبر دیکھ لئے ، راہ گزر دیکھ آئے
بیچ رستے سے ہم انجامِ سفر دیکھ آئے
عارضے اتنے نہیں جتنے مسیحا ہیں نصیب
غمگسار اپنی دعاؤں کا اثر دیکھ آئے
دیکھنے جس کو گئے تھے وہی بستی نہ ملی
یاد کے اجڑےہوئے چند کھنڈر دیکھ آئے
نہ وہ منظر رہے باقی ، نہ وہ آنکھیں ہی رہیں
شہر ِ رفتہ کو بہ اندازِ دگر دیکھ آئے
اُس گلی میں بھی ہوا جانا جدھر جنت تھی
ہم سے دیکھا ہی نہ جاتا تھا مگر دیکھ آئے
ڈگمگائے تھے جہاں ہوش کے مدہوش قدم
ہجر پہلو میں لئے پھروہ ڈگر دیکھ آئے
محفلِ غیر بھی اُجڑی ہوئی دیکھی اِس بار
بزمِ یاراں کو بھی ہم زیر و زبر دیکھ آئے
رشکِ افلاک ہیں وہ لوگ کہ جب دل چاہا
تری دہلیز پہ پہنچے ، ترا در دیکھ آئے
ہم کھڑے تکتے ہیں قسمت کے ستاروں کوظہیرؔ
دیکھنے والے تو مریخ و قمر دیکھ آئے
***
ظہیرؔ احمد ۔۔۔۔۔ (پاکستان سے واپسی پر) ۔ ۔ ۔ ۲۰۱۲​
محمد خلیل الرحمٰن — نومبر 1، 2019 1:25 صبح
خوبصورت غزل۔
تارکین وطن کے جذبات لیکن ساتھ ہی ناسٹلجیا جو ہم بھی اکثر پرانی گلیوں میں مٹرگشت کرتے ہوئے اکثر محسوس کرتے ہیں۔ کل کافی سال بعد بندر روڈ پلازہ سنیما کے سامنے سے ٹیکسی میں گزر ہوا تو جانے پہچانے گلی کوچوں کو دیکھ کر بعینہٖ یہی جذبات تھے۔
دیکھنے جس کو گئے تھے وہی بستی نہ ملی
یاد کے اجڑےہوئے چند کھنڈر دیکھ

نہ وہ منظر رہے باقی ، نہ وہ آنکھیں ہی رہیں
شہر ِ رفتہ کو بہ اندازِ دگر دیکھ آئے

اُس گلی میں بھی ہوا جانا جدھر جنت تھی
ہم سے دیکھا ہی نہ جاتا تھا مگر دیکھ آئے
محمد خلیل الرحمٰن — نومبر 1، 2019 1:33 صبح
ابھی پچھلے دنوں اپنے اسکول کی گلی "رتن تلاؤ" پر کسی کا لکھا ہوا ایک مضمون شریکِ محفل کیا تھا اس امید کے ساتھ کہ اس گلی میں گزارے ہوئے دنوں پر کچھ لکھیں گے۔ دیکھیے کب لکھنا ہوتا ہے!
رتن تلاؤ کی مندر والی گلی: از: رضوان طاہر مبین
عاطف ملک — نومبر 2، 2019 5:14 صبح
رشکِ افلاک ہیں وہ لوگ کہ جب دل چاہا
تری دہلیز پہ پہنچے ، ترا در دیکھ آئے
لاجواب کماال:)
بہت سی داد
محمد تابش صدیقی — نومبر 2، 2019 7:19 صبح
احباب کرام ! ایک پرانی غزل پیشِ خدمت ہے ۔ اس کے اکثر اشعار چند سال پہلے پاکستان سے واپسی کے سفر کے دوران لکھے گئے تھے۔ اگر آج کل کے حالات پر نظر ڈالی جائے تو یہ شعر اتنےپرانے محسوس نہیں ہوتے ۔ شاید آپ کو پسند آئیں ۔
راہبر دیکھ لئے ، راہ گزر دیکھ آئے
بیچ رستے سے ہم انجامِ سفر دیکھ آئے
عارضے اتنے نہیں جتنے مسیحا ہیں نصیب
غمگسار اپنی دعاؤں کا اثر دیکھ آئے
دیکھنے جس کو گئے تھے وہی بستی نہ ملی
یاد کے اجڑےہوئے چند کھنڈر دیکھ آئے
نہ وہ منظر رہے باقی ، نہ وہ آنکھیں ہی رہیں
شہر ِ رفتہ کو بہ اندازِ دگر دیکھ آئے
اُس گلی میں بھی ہوا جانا جدھر جنت تھی
ہم سے دیکھا ہی نہ جاتا تھا مگر دیکھ آئے
ڈگمگائے تھے جہاں ہوش کے مدہوش قدم
ہجر پہلو میں لئے پھروہ ڈگر دیکھ آئے
محفلِ غیر بھی اُجڑی ہوئی دیکھی اِس بار
بزمِ یاراں کو بھی ہم زیر و زبر دیکھ آئے
رشکِ افلاک ہیں وہ لوگ کہ جب دل چاہا
تری دہلیز پہ پہنچے ، ترا در دیکھ آئے
ہم کھڑے تکتے ہیں قسمت کے ستاروں کوظہیرؔ
دیکھنے والے تو مریخ و قمر دیکھ آئے
***
ظہیرؔ احمد ۔۔۔۔۔ (پاکستان سے واپسی پر) ۔ ۔ ۔ ۲۰۱۲​
لاجواب کلام ظہیر بھائی
محمد عدنان اکبری نقیبی — نومبر 2، 2019 7:37 صبح
نہ وہ منظر رہے باقی ، نہ وہ آنکھیں ہی رہیں
شہر ِ رفتہ کو بہ اندازِ دگر دیکھ
بہت عمدہ
زبردست غزل ظہیر بھائی۔
ظہیراحمدظہیر — نومبر 4، 2019 2:56 صبح
لاجواب کماال:)
بہت سی داد
لاجواب کلام ظہیر بھائی
بہت عمدہ
زبردست غزل ظہیر بھائی۔

بہت بہت شکریہ صاحبان ! اللہ آپ تمام محبتی لوگوں کو خوش و خرم رکھے ، آباد رکھے! پذیرائی پر ممنون ہوں ۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B1%D8%A7%DB%81%D8%A8%D8%B1-%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE-%D9%84%D8%A6%DB%92-%D8%8C-%D8%B1%D8%A7%DB%81-%DA%AF%D8%B2%D8%B1-%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE-%D8%A2%D8%A6%DB%92.109030/