"راہِ مضمونِ تازہ بند نہیں" ۔ از ۔ محمد احمد

محمداحمد — اگست 20، 2013 7:40 صبح
کچھ عرصے پہلے ایک تضمین "تاقیامت کھلا ہے بابِ سخن" کے نام سے یہاں پیش کی تھی۔ اُس کے کچھ دنوں بعد اس شعر کا مصرعہ اولیٰ بھی مشقِ ستم کا نشانہ بن گیا سو شاملِ محفل کر رہا ہوں۔

وہ جو شادی سے پہلے کہتا تھا
اُس کو یکسانیت پسند نہیں
اُس کی بیوی نے کر دیا ثابت
"راہِ مضمونِ تازہ بند نہیں"

نیرنگ خیال — اگست 20، 2013 8:51 صبح
یہ رات آپ نے بتا کر ٹرخا دیا تھا۔۔۔ سنایا نہ تھا۔۔۔ بہت اعلیٰ۔۔۔ لاجواب۔۔۔
محمداحمد — اگست 20، 2013 8:54 صبح
یہ رات آپ نے بتا کر ٹرخا دیا تھا۔۔۔ سنایا نہ تھا۔۔۔ بہت اعلیٰ۔۔۔ لاجواب۔۔۔

ارے بھیجا تو تھا یہ بھی۔۔۔۔۔۔! چیک کیجے۔ :)
نیرنگ خیال — اگست 20، 2013 9:06 صبح
ارے بھیجا تو تھا یہ بھی۔۔۔ ۔۔۔ ! چیک کیجے۔ :)
نہیں یہ نہیں ہے۔۔۔ :)
الف عین — اگست 21، 2013 3:39 صبح
خوب،تو آج کل مزاحیہ کا دور چل رہا ہے
محمد بلال اعظم — اگست 21، 2013 5:33 صبح
کل کمنٹ کرنے لگا تو انٹرنیٹ چلا گیا اور بعد میں۔۔۔
احمد بھائی تو کمال لکھتے ہیں۔ چاہے نثر ہو، نظم ہوں۔ کوئی بھی صنفِ سخن ہو۔ آپ ماسٹر ہیں۔
لاجواب قطعہ ہے۔
محمد منظور فرید — اگست 21، 2013 5:50 صبح
احمد بھائی بہت خوب ۔۔ ۔ ۔ ۔ اعلیٰ
محمد منظور فرید — اگست 21، 2013 5:51 صبح
محمداحمد — اگست 21، 2013 7:47 صبح
خوب،تو آج کل مزاحیہ کا دور چل رہا ہے

بس یوں ہی تفریحِ طبع کے لئے یہ حرکتیں سرزد ہوئیں ہیں۔ :)
محمداحمد — اگست 21، 2013 7:50 صبح
کل کمنٹ کرنے لگا تو انٹرنیٹ چلا گیا اور بعد میں۔۔۔
احمد بھائی تو کمال لکھتے ہیں۔ چاہے نثر ہو، نظم ہوں۔ کوئی بھی صنفِ سخن ہو۔ آپ ماسٹر ہیں۔
لاجواب قطعہ ہے۔

بہت شکریہ بلال۔۔۔!
بہت محبت ہے آپ کی۔
احمد بھائی بہت خوب ۔۔ ۔ ۔ ۔ اعلیٰ

بڑی نوازش فرید صاحب۔۔۔۔!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B1%D8%A7%DB%81%D9%90-%D9%85%D8%B6%D9%85%D9%88%D9%86%D9%90-%D8%AA%D8%A7%D8%B2%DB%81-%D8%A8%D9%86%D8%AF-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%DB%94-%D8%A7%D8%B2-%DB%94-%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF.66916/