ایفا کوئی وعدۂ عدم کر جائیں
آؤ عہدِ الست ہم دہرائیں
شاید کچھ بندگی کا رہ جائے بھرم
گر یزداں کی خبر، بُتاں سے لائیں
آؤ عہدِ الست ہم دہرائیں
شاید کچھ بندگی کا رہ جائے بھرم
گر یزداں کی خبر، بُتاں سے لائیں
بہت عمدہ
بہت شکریہ!
رباعی چونکہ سمجھ میں نہیں آئی چنانچہ اچھی ہوگی ۔
لا المیٰ صاحبہ ، آپ کی رباعی نظر نواز ہوئی . زبان پر ماشاء اللہ آپ کو عبور حاصل ہے لہٰذا بندشیں تو چست معلوم ہوتی ہیں ، لیکن گستاخی معاف ، مجھے یہاں کچھ مسائل نظر آئے .
میرا نہیں خیال تھا کہ مفہوم تک پہنچنے میں کوئی ایسی مشکل درپیش ہو گی۔ یقینًا بیان میں ہی کوئی نقص رہا ہو گا جو ابلاغ نہیں ہو پایا۔
آپ درست کہہ رہے ہیں یہ زیادہ تر ترکیب میں ہی استعمال ہوا ہے۔ لیکن شاید مفرد حالت میں بھی اس کا استعمال روا ہی ہے۔
مجھے اخرب اور اخرم کے متعلق کچھ علم نہیں۔ بس کچھ واجبی سی معلومات ہیں کہ رباعی شاید اتنی پابند نہیں اور اس کے مختلف اوزان کو اکٹھا کیا جا سکتا ہے۔
مجھے دوسرا مصرع کے وزن رباعی کے لحاظ سے کچھ درست نہیں لگا۔ یہ فاعلاتن مفاعلن فعلن/فعلان ۔ میں لگ رہا ہے جو شاید رباعی کے اوزان میں نہیں پڑتا ۔ یا الفاظ کی کچھ لچک شاید کوئی رباعی کی بحر بناتی ہو ۔
مفعولن فاعِلن مفاعیلن فِع
Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D8%B9%DB%8C.118872/