راحیل فاروق — ستمبر 27، 2016 6:04 صبح
زمانۂِ طالبِ علمی کے دور کی ایک بیاض سے برآمد ہونے والی میری زندگی کی پہلی اور تاحال آخری رباعی:
مقصودِ مساعی کو سمجھتے ہی نہیں
اوزانِ سباعی کو سمجھتے ہی نہیں
میں ہوں کہ مجھے صاف نہ کہنا آیا
تم ہو کہ رباعی کو سمجھتے ہی نہیں!
راحیلؔ فاروق
۲۰۰۶ء
محمد وارث — ستمبر 27، 2016 1:30 شام
خوب ہے قبلہ

مریم افتخار — ستمبر 27، 2016 4:44 شام
محمد وارث — ستمبر 27، 2016 5:09 شام
کم ازکم اس رباعی کی بنا پر جناب راحیل صاحب آپ کے اُس فتوے کی رُو سے واجب القتل نہیں رہے جس میں آپ نے شاعرو ں کے جھوٹ باندھنے کو وجہ بنا یا ہے کیونکہ اِ س میں انہوں نے سچ بولا ہے

محمد تابش صدیقی — ستمبر 27، 2016 5:24 شام
تدبیرِ دفاعی کو سمجھتے ہی نہیں

مریم افتخار — ستمبر 27، 2016 5:24 شام
کم ازکم اس رباعی کی بنا پر جناب راحیل صاحب آپ کے اُس فتوے کی رُو سے واجب القتل نہیں رہے جس میں آپ نے شاعرو ں کے جھوٹ باندھنے کو وجہ بنا یا ہے کیونکہ اِ س میں انہوں نے سچ بولا ہے

بہت اہم نکتہ اٹھایا ہے آپ نے!

مریم افتخار — ستمبر 27، 2016 5:26 شام
اتنے معصوم شاعر کو معافی ہے !

محمد وارث — ستمبر 27، 2016 5:34 شام

بہت اہم نکتہ اٹھایا ہے آپ نے!
اتنے معصوم شاعر کو معافی ہے !
جو چاہے آپ کا "فتویٰ " کرشمہ ساز کرے

راحیل فاروق — ستمبر 28، 2016 4:46 صبح
جاسمن — اکتوبر 1، 2016 3:31 صبح
پیاری رباعی۔
واہ بھئی واہ۔ بہت ساری داد۔
محمداحمد — اکتوبر 3، 2016 11:56 صبح
تم ہو کہ رباعی کو سمجھتے ہی نہیں!
بہت ہی خوب!
محمدابوعبداللہ — اکتوبر 3، 2016 1:20 شام
سو بار کہا ہم نے کہ اتنی نہ پیو
کڑواہٹِ "
صافی" کو سمجھتے ہی نہیں
الف نظامی — فروری 26، 2024 8:54 صبح
تدبیرِ دفاعی کو سمجھتے ہی نہیں
تفسیرِ رفاعی کو سمجھتے ہی نہیں