شکوے سے وہ ہو جائے ہمارا مشکل
کیا کیجیے گلہ دے ہی چکے ہیں جب دل
قسمت میں ہماری نہیں گر بادۂ وصل
زہرِ غمِ ہجراں ہی سہی اے کاملؔ
کیا کیجیے گلہ دے ہی چکے ہیں جب دل
قسمت میں ہماری نہیں گر بادۂ وصل
زہرِ غمِ ہجراں ہی سہی اے کاملؔ
الف عین صاحب، زہے نصیب۔آپ نے نظر کرم فرمائی۔ سچ تو یہ ہے کہ جو لطف نوجوانی میں غزل میں آتا تھا، اب اس سے بڑھ کر رباعی میں آتا ہے (ڈرتے ڈرتےکہہ رہا ہوں، کہ یہاں اکثریت کشتگانِ تیغِ تیزِ غزل کی ہے)۔