رباعیات

وجاہت حسین — اگست 31، 2018 11:17 صبح
ایک حقیر سی کوشش ہے۔ چند رباعیات پیشِ خدمت ہیں۔
ناچار سے، مجبور سے، پڑھ لیں گے سلام
ہم سینہِ رنجور سے پڑھ لیں گے سلام
گو فکرِ معاش میں ہیں جکڑے حافظؔ
اس سال بھی ہم دور سے پڑھ لیں گے سلام
دیکھو ذرا دل کو، کیا نظارہ ہے!
پتھر کا جبل کیوں پارہ پارہ ہے؟
کیوں پھوٹ رہے ہیں یہ غزل کے چشمے؟
کیا عشق کے موسی نے عصا مارا ہے؟
دل حُسن کے جنگل میں لیے تِیر گیا،
پہنے زِرہ مع خنجر و شمشیر گیا،
جب مستِ شکار اِس نے نشانہ باندھا،
تب عشق کا شیر آکے اِسے چیر گیا،
کرتا ہے عشق حال ایسا واللہ
لا حول ولا قوۃ الا باللہ
چیخے کوئی رام رام مسجد جا کر
مندر میں کرے کوئی اللہ اللہ
تیرے دل پر اگر سیاہی ہوگی
اے عشق کے یوسف! یہ تباہی ہوگی
بچ نکلا نفس کے کنویں سے گر تُو
تو مصر پہ تیری بادشاہی ہوگی
پاؤ گے سایہ نہ کہیں پر صاحب
ہو گرچہ محراب جبیں پر صاحب
محشر میں اگر قدموں پر چلنا ہے
تو سر کے بل چلو زمیں پر صاحب
لکھتا ہے جو وجود کے زیر و بم،
بے شک یہ ہے حافظؔ پر اللہ کا کرم
ہو بات ہنر کی تو اٹھائے نہ اٹھے
فیضانِ مروتؔ ہے جو چلتا ہے قلم
(مروتؔ احمد میرے استادِ محترم کا اسمِ گرامی ہے)​
اکمل زیدی — ستمبر 1، 2018 6:17 صبح
محشر میں اگر قدموں پر چلنا ہے
تو سر کے بل چلو زمیں پر صاحب
واہ کیا عمدہ ہے ۔ ۔ ۔
اکمل زیدی — ستمبر 1، 2018 6:18 صبح
تیرے دل پر اگر سیاہی ہوگی
اے عشق کے یوسف! یہ تباہی ہوگی
بچ نکلا نفس کے کنویں سے گر تُو
تو مصر پہ تیری بادشاہی ہوگی
بہت اعلیٰ۔ ۔ ۔
الف عین — ستمبر 2، 2018 6:04 صبح
مروت صاحب کی خدمت میں سلام کہہ دیں لیکن کیا اس مصرع کا قافیہ وہ درست مانتے ہیں؟
لا حول ولا قوۃ الا باللہ
با پر کسرہ ہے جب کہ فتحہ والے قوافی ہیں واللہ اور اللہ
ویسے خوشی ہوئی کہ اب بھی رباعی کا فن معدوم نہیں ہوا، کیا اچھی رباعیات ہیں
وجاہت حسین — ستمبر 2، 2018 9:57 صبح
شکریہ جناب۔
وجاہت حسین — ستمبر 2، 2018 10:03 صبح
مروت صاحب کی خدمت میں سلام کہہ دیں لیکن کیا اس مصرع کا قافیہ وہ درست مانتے ہیں؟
لا حول ولا قوۃ الا باللہ
با پر کسرہ ہے جب کہ فتحہ والے قوافی ہیں واللہ اور اللہ
ویسے خوشی ہوئی کہ اب بھی رباعی کا فن معدوم نہیں ہوا، کیا اچھی رباعیات ہیں

بہت نوازش سر۔ میں اگلی ملاقات میں ان کی خدمت میں آپ کا سلام ضرور عرض کر دوں گا۔ سر یہ رباعی ابھی تک میں ان کی خدمت میں پیش نہیں کر سکا۔ میں آپ کا ممنون ہوں کہ آپ نے غلطی کی نشاندہی فرما دی۔ یقیناً میں نے قافیہ غلط استعمال کیا ہے۔ میں انشاء اللہ اس میں تبدیلی کر دوں گا۔جزاک اللہ خیر۔
عرفان سعید — ستمبر 2، 2018 10:34 صبح
ماشاءاللہ وجاہت صاحب
خوبصورت رباعیات ہیں۔
یہ بطورِ خاص پسند آئیں۔
کرتا ہے عشق حال ایسا واللہ
لا حول ولا قوۃ الا باللہ
چیخے کوئی رام رام مسجد جا کر
مندر میں کرے کوئی اللہ اللہ

تیرے دل پر اگر سیاہی ہوگی
اے عشق کے یوسف! یہ تباہی ہوگی
بچ نکلا نفس کے کنویں سے گر تُو
تو مصر پہ تیری بادشاہی ہوگی

پاؤ گے سایہ نہ کہیں پر صاحب
ہو گرچہ محراب جبیں پر صاحب
محشر میں اگر قدموں پر چلنا ہے
تو سر کے بل چلو زمیں پر صاحب
وجاہت حسین — ستمبر 2، 2018 1:52 شام
ماشاءاللہ وجاہت صاحب
خوبصورت رباعیات ہیں۔
یہ بطورِ خاص پسند آئیں۔
بہت نوازش سر۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D8%AA.103038/