راحیل فاروق — اپریل 30، 2016 10:37 شام
رحم کھا کشمکشِ جاں پہ، کوئی راہ نکال
زندہ کرنا ہے تو کر، ورنہ مجھے مار ہی ڈال
ہو گئی مات بھی، اور ہم اسی دبدھا میں رہے
ہم چلے کون سی چال؟ آپ چلے کون سی چال؟
یا تو اس رنگ سے کہیے کہ بپا کیجیے حشر
ورنہ پھر کہیے ہی کیوں حشرِ الم کا احوال
اس کنویں سے کسی یوسف کی مہک آتی ہے
اے! کہ ہے صاحبِ دل تو بھی، یہاں ڈول نہ ڈال
بھول جاؤ کہ تمھارا کوئی دل تھا راحیلؔ
ہمیں دیکھو! نہ تقاضا، نہ تمنا، نہ خیال
راحیلؔ فاروق
مشمولہ: زار
یاز — اپریل 30، 2016 11:11 شام
بھول جاؤ کہ تمھارا کوئی دل تھا راحیلؔ
ہمیں دیکھو! نہ تقاضا، نہ تمنا، نہ خیال
بہت ہی عمدہ راحیل بھائی۔
یوسف سلطان — مئی 1، 2016 12:05 صبح
رحم کھا کشمکشِ جاں پہ، کوئی راہ نکال
زندہ کرنا ہے تو کر، ورنہ مجھے مار ہی ڈال
ہو گئی مات بھی، اور ہم اسی دبدھا میں رہے
ہم چلے کون سی چال؟ آپ چلے کون سی چال؟
بہت اعلی راحیل بھائی
کاشف اختر — مئی 1، 2016 7:03 صبح
بھول جاؤ کہ تمھارا کوئی دل تھا راحیلؔ
ہمیں دیکھو! نہ تقاضا، نہ تمنا، نہ خیال
واہ واہ!کیا کہنے! بہت ہی عمدہ کلام ہے راحیل بھائی! ماشاء اللہ
سید عاطف علی — مئی 1، 2016 7:07 صبح
بہت اچھے راحیل ۔ خوب کلام ہے۔ماشاء اللہ
محمد تابش صدیقی — مئی 1، 2016 8:09 صبح
واہ راحیل بھائی، بہت عمدہ.
یا تو اس رنگ سے کہیے کہ بپا کیجیے حشر
ورنہ پھر کہیے ہی کیوں حشرِ الم کا احوال
بھول جاؤ کہ تمھارا کوئی دل تھا راحیلؔ
ہمیں دیکھو! نہ تقاضا، نہ تمنا، نہ خیال
ابن رضا — مئی 1، 2016 10:11 صبح
بہت ہی عمدہ راحیل بھائی
ابن رضا — مئی 1، 2016 10:12 صبح
بہت ہی عمدہ راحیل بھائی
فاتح — مئی 1، 2016 10:14 صبح
واہ واہ کیا کہنے جناب
محمداحمد — مئی 1، 2016 10:44 صبح
واہ واہ
خوبصورت کلام
بہت سی داد

کاشف اسرار احمد — مئی 1، 2016 11:37 صبح
ماشا اللہ۔
خوب غزل ہے راحیل بھائی۔
اس کنویں سے کسی یوسف کی مہک آتی ہے
اے! کہ ہے صاحبِ دل تو بھی، یہاں ڈول نہ ڈال
ویسے اگر کوئی یوسف ہے بھی تو ڈول ڈال کر نکالنے میں کوئی "دویدھا" کیوں ہے؟

مزمل حسین — مئی 1، 2016 7:53 شام
ہو گئی مات بھی، اور ہم اسی دبدھا میں رہے
ہم چلے کون سی چال؟ آپ چلے کون سی چال؟
واہ واہ واہ!!
بھول جاؤ کہ تمھارا کوئی دل تھا راحیلؔ
ہمیں دیکھو! نہ تقاضا، نہ تمنا، نہ خیال
آہا!
راحیل فاروق بھائی ہمیشہ کی طرح بہترین، باکمال، لاجواب!
مزمل حسین — مئی 2، 2016 3:40 شام
اس کنویں سے کسی یوسف کی مہک آتی ہے
اے! کہ ہے صاحبِ دل تو بھی، یہاں ڈول نہ ڈال
آئے ہائے
اے کہ ہے صاحبِ دل تُو بھی، یہاں دول نہ ڈال!
کیا کہنے!
جاسمن — مئی 6، 2016 3:47 صبح
بھول جاؤ کہ تمھارا کوئی دل تھا راحیلؔ
ہمیں دیکھو! نہ تقاضا، نہ تمنا، نہ خیال
بہت خوب!
واہ واہ!
ڈھیروں داد۔
قاضی واجد الدائم — مئی 6، 2016 6:41 شام
بھول جاؤ کہ تمھارا کوئی دل تھا راحیلؔ
ہمیں دیکھو! نہ تقاضا، نہ تمنا، نہ خیال
زبردست
ظہیراحمدظہیر — مئی 8، 2016 4:57 صبح
بہت خوب راحیل بھائی ! کیا بات ہے !!! کیا اچھے اشعار ہیں ! سلامت رہیں!