رسمِ دار و رسن بدل ڈالو : چند سال پرانی غزل

محمد شکیل خورشید — اگست 25، 2020 9:56 صبح
رسمِ دار و رسن بدل ڈالو
سر بریدہ بدن بدل ڈالو
جب زمانے کی چال بدلی گئی
تم بھی اپنا چلن بدل ڈالو
زخم بھر دو نمک کے مرہم سے
درد کا پیرہن بدل ڈالو
سچ کے لمحے میں لکھ دیا تھا جو خط
اس کا سارا متن بدل ڈالو
نئے انداز سے سجاؤ چمن
برگ و بار و سمن بدل ڈالو
اڑ گئے شاخ سے سبھی پنچھی
تم بھی اپنا وطن بدل ڈالو
مار ڈالے نہ ایک دن یہ شکیل
دل کی ساری تھکن بدل ڈالو
چند سال پرانی یہ غزل
محترم الف عین
محترم محمد خلیل الرحمٰن
و دیگر اساتذہ اور احباب کی نذر
الف عین — اگست 25، 2020 3:28 شام
واہ اچھی غزل ہے
بس متن قافیہ نہیں ہو سکتا اور بہ بحر میں آتا ہے کہ ت پر فتحہ نہیں، ساکن درست ہے
محمد شکیل خورشید — اگست 26، 2020 6:01 صبح
واہ اچھی غزل ہے
بس متن قافیہ نہیں ہو سکتا اور بہ بحر میں آتا ہے کہ ت پر فتحہ نہیں، ساکن درست ہے
رہنمائی کا شکریہ استادِ محترم
کچھ متبادل سوچتا ہوں
نور وجدان — اگست 26، 2020 6:33 صبح
رسمِ دار و رسن بدل ڈالو
سر بریدہ بدن بدل ڈالو
جب زمانے کی چال بدلی گئی
تم بھی اپنا چلن بدل ڈالو
زخم بھر دو نمک کے مرہم سے
درد کا پیرہن بدل ڈالو
سچ کے لمحے میں لکھ دیا تھا جو خط
اس کا سارا متن بدل ڈالو
نئے انداز سے سجاؤ چمن
برگ و بار و سمن بدل ڈالو
اڑ گئے شاخ سے سبھی پنچھی
تم بھی اپنا وطن بدل ڈالو
مار ڈالے نہ ایک دن یہ شکیل
دل کی ساری تھکن بدل ڈالو
چند سال پرانی یہ غزل
محترم الف عین
محترم محمد خلیل الرحمٰن
و دیگر اساتذہ اور احباب کی نذر
غزل اچھی لگی، ردیف اچھی نبھائی. دو تین اشعار تو بہت اچھے. مطلع پسند آیا
محمد شکیل خورشید — اگست 26، 2020 10:46 صبح
غزل اچھی لگی، ردیف اچھی نبھائی. دو تین اشعار تو بہت اچھے. مطلع پسند آیا
دو تین شعر اور مطلع، مطلب 60٪ تو ہوگیا ناں فرسٹ ڈویژن :)
حوصلہ افزائی کا شکریہ محترمہ،

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B1%D8%B3%D9%85%D9%90-%D8%AF%D8%A7%D8%B1-%D9%88-%D8%B1%D8%B3%D9%86-%D8%A8%D8%AF%D9%84-%DA%88%D8%A7%D9%84%D9%88-%DA%86%D9%86%D8%AF-%D8%B3%D8%A7%D9%84-%D9%BE%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%8C-%D8%BA%D8%B2%D9%84.112968/