روزِ حساب

محمد ریحان قریشی — دسمبر 30، 2019 7:52 شام
یہ جو لغزشوں کے ہیں سلسلے کوئی ان کا روزِ شکست ہو
مرے مہرباں کوئی دن تو ہو
کوئی ایسا دن
کوئی دن کہ جب ترا امتحاں مری خستگی کا بھرم رکھے
مری بے بسی نہ عیاں کرے
مری بے دلی کو نہ جوش دے
مری یاسِ خفتہ کی نیند میں بھی مخل نہ ہو
کوئی سرخوشی کوئی حوصلہ پسِ دوش دے
کوئی ایسا دن مرے مہرباں
ترے محشروں سے مرا وجود بکھر چکا
تری منصفی کے اصول بھی تو ہیں خشمناک مرے لیے
ترا کون سا وہ سوال ہے کہ جو رشکِ زلفِ دوتا نہیں؟
یہ جو کشمکش سی ہے درمیاں یہ بھی فرقتوں سے جدا نہیں
یہ جو لغزشوں کے ہیں سلسلے انھیں انتصار میں ڈھال کر
کسی ایک روزِ حساب کو کبھی رشکِ صبحِ وصال کر
عرفان سعید — دسمبر 30، 2019 8:35 شام
ان الفاظ کے معانی سے واقف نہیں ہوں، کچھ رہنمائی فرمائیے

انتصار میں ڈھال کر
محمد ریحان قریشی — دسمبر 31، 2019 4:41 صبح
ان الفاظ کے معانی سے واقف نہیں ہوں، کچھ رہنمائی فرمائیے
اس کے لیے آپ کسی لغت سے بھی رجوع کر سکتے ہیں. مدعا سمجھنے کے لیے ہر لفظ کا معنی جاننا ضروری نہیں ہوتا۔
برونِ لفظ محال است جلوۂ معنی
همان ز کسوتِ اسما طلب مسما را
محمد احسن سمیع راحلؔ — دسمبر 31، 2019 7:20 صبح
اس کے لیے آپ کسی لغت سے بھی رجوع کر سکتے ہیں. مدعا سمجھنے کے لیے ہر لفظ کا معنی جاننا ضروری نہیں ہوتا۔
برونِ لفظ محال است جلوۂ معنی
همان ز کسوتِ اسما طلب مسما را
جناب، گستاخی معاف، اگر کسی نے معنی دریافت کرلئے تو اس میں برا ماننے والی کیا بات ہے؟ آپ نے جواب لکھنے کی زحمت تو اٹھائی ہی، اگر آپ اس دوران معنی بھی ارشاد فرما دیتے تو زیادہ بہتر نہیں ہوتا؟ یوں بھی لغت ہر لمحہ تو دسترس میں نہیں ہوتی! حسبِ مشورہ، میں نے اردو لغت بورڈ والوں کی آن لائن لغت سے رجوع کیا۔ دوتائی کے معنی وہاں ’’دو ہونا‘‘ بیان کئے گئے ہیں، سو رشکِ زلفِ دوتا کی ترکیب ہنوز تشریح طلب ہے۔
انتصار عربی میں تو عموماً بمعنی فتح استعمال ہوتا ہے، لیکن لازم نہیں کہ اردو میں بھی ان ہی معنی میں مستعمل ہو۔ اردو لغت بورڈ والوں کی لغت کے آن لائن ورژن میں یہ لفظ موجود نہیں۔ ہم چونکہ فی الوقت وطن میں موجود نہیں سو طبع شدہ لغات تک رسائی مشکل ہے۔ امید ہے آپ کرم فرمائیں گے۔
دعاگو،
راحلؔ
محمد ریحان قریشی — دسمبر 31، 2019 1:42 شام
جناب، گستاخی معاف، اگر کسی نے معنی دریافت کرلئے تو اس میں برا ماننے والی کیا بات ہے؟ آپ نے جواب لکھنے کی زحمت تو اٹھائی ہی، اگر آپ اس دوران معنی بھی ارشاد فرما دیتے تو زیادہ بہتر نہیں ہوتا؟ یوں بھی لغت ہر لمحہ تو دسترس میں نہیں ہوتی! حسبِ مشورہ، میں نے اردو لغت بورڈ والوں کی آن لائن لغت سے رجوع کیا۔ دوتائی کے معنی وہاں ’’دو ہونا‘‘ بیان کئے گئے ہیں، سو رشکِ زلفِ دوتا کی ترکیب ہنوز تشریح طلب ہے۔
انتصار عربی میں تو عموماً بمعنی فتح استعمال ہوتا ہے، لیکن لازم نہیں کہ اردو میں بھی ان ہی معنی میں مستعمل ہو۔ اردو لغت بورڈ والوں کی لغت کے آن لائن ورژن میں یہ لفظ موجود نہیں۔ ہم چونکہ فی الوقت وطن میں موجود نہیں سو طبع شدہ لغات تک رسائی مشکل ہے۔ امید ہے آپ کرم فرمائیں گے۔
دعاگو،
راحلؔ
انتصار: فتح
زلفِ دوتا: خم دار زلف
محمد احسن سمیع راحلؔ — دسمبر 31، 2019 1:44 شام
انتصار: فتح
زلفِ دوتا: خم دار زلف
شکریہ حضرت
عرفان سعید — دسمبر 31، 2019 1:45 شام
انتصار: فتح
زلفِ دوتا: خم دار زلف
بہت شکریہ!
ظہیراحمدظہیر — جنوری 2، 2020 5:30 صبح
واہ! بہت خوب ریحان! اچھی نظم ہے!
مجموعی طور پر نظم میں خیال کی روانی قائم ہے اور لفظیات زیادہ تر واضح ہیں ۔ بس ایک دو جگہوں پر کچھ ابہام ہے۔ پسِ دوش کی ترکیب اردو میں مستعمل نہیں ۔ محشر کی جمع محشروں بھی محلِ نظر ہے کہ محشر آخری اور فیصلہ کن دن کو کہتے ہیں ۔ (اس کے برعکس قیامت کی جمع قیامتوں بمعنی شدید مصیبت اور غم عام مستعمل ہے ۔)
مجموعی طور پر اچھی نظم ہے!
محمد ریحان قریشی — اپریل 14، 2023 7:38 شام
رستاخیز
یہ جو لغزشوں کے ہیں سلسلے کوئی ان کا روزِ شکست ہو
مرے مہرباں کوئی دن تو ہو
کوئی ایسا دن
کوئی دن کہ جب ترا امتحاں مری خستگی کا بھرم رکھے
مری بے بسی نہ عیاں کرے
مری بے دلی کو نہ جوش دے
مری یاسِ خفتہ کی نیند میں بھی مخل نہ ہو
کوئی سرخوشی کوئی حوصلہ کوئی گوشِ نالہ نیوش دے
کوئی ایسا دن مرے مہرباں
تری حشر خیز عداوتوں سے مرا وجود بکھر چکا
تری منصفی کے اصول بھی تو ہیں خشمناک مرے لیے
ترا کون سا وہ سوال ہے کہ جو رشکِ زلفِ دوتا نہیں؟
یہ جو کشمکش سی ہے درمیاں یہ بھی فرقتوں سے جدا نہیں
یہ جو لغزشوں کے ہیں سلسلے انھیں انتصار میں ڈھال کر
کسی ایک روزِ حساب کو کبھی رشکِ صبحِ وصال کر

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B1%D9%88%D8%B2%D9%90-%D8%AD%D8%B3%D8%A7%D8%A8.109774/