روشنی ہی روشنی ہیں جس طرف سے دیکھئے

ظہیراحمدظہیر — اکتوبر 9، 2019 10:14 شام
احبابِ کرام ! ایک غزل آپ کی بصارتوں کی نذر اِس امید کے ساتھ کہ شاید کوئی لفظ باریابِ ذوق ہوجائے ۔
روشنی ہی روشنی ہیں جس طرف سے دیکھئے
جل رہے ہیں جو چراغ اُن کو شرف سے دیکھئے
اِس طرح ہو جائے شاید دوست دشمن کی تمیز
اپنے لشکر کو کبھی دشمن کی صف سے دیکھئے
سازشوں کے سلسلے چارہ گری کے نام پر !
آج کے اِس دور تک عہدِ سلف سے دیکھئے
راہبرمشعل بکف ہے ، تیرگی کا خوف کیا
راستے کو موقفِ مشعل بکف سے دیکھئے
کیا تعلق دل کا ہوتا ہے نظر سے دوستو!
ناوکِ بے مہر کو آکر ہدف سے دیکھئے
تشنگی ہوجائے گی معلوم دریا کی ظہیرؔ
ابر ِنیساں کو ذرا چشم ِصدف سے دیکھئے
٭٭٭
ظہیرؔاحمد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 2015
الف نظامی — اکتوبر 10، 2019 1:05 صبح
واہ ، بہت خوب!
احمد محمد — اکتوبر 10، 2019 3:00 صبح
ماشاء اللّٰہ۔ خوبصورت کلام
فاخر رضا — اکتوبر 10، 2019 4:03 صبح
تشنگی ہوجائے گی معلوم دریا کی ظہیرؔ
ابر ِنیساں کو ذرا چشم ِصدف سے دیکھئے
بہت اچھی غزل اور حالات کے مطابق کلام
محمد خلیل الرحمٰن — اکتوبر 10، 2019 4:11 صبح
احبابِ کرام ! ایک غزل آپ کی بصارتوں کی نذر اِس امید کہ ساتھ کہ شاید کوئی لفظ باریابِ ذوق ہوجائے ۔
روشنی ہی روشنی ہیں جس طرف سے دیکھئے
جل رہے ہیں جو چراغ اُن کو شرف سے دیکھئے
اِس طرح ہو جائے شاید دوست دشمن کی تمیز
اپنے لشکر کو کبھی دشمن کی صف سے دیکھئے
سازشوں کے سلسلے چارہ گری کے نام پر !
آج کے اِس دور تک عہدِ سلف سے دیکھئے
راہبرمشعل بکف ہے ، تیرگی کا خوف کیا
راستے کو موقفِ مشعل بکف سے دیکھئے
کیا تعلق دل کا ہوتا ہے نظر سے دوستو!
ناوکِ بے مہر کو آکر ہدف سے دیکھئے
تشنگی ہوجائے گی معلوم دریا کی ظہیرؔ
ابر ِنیساں کو ذرا چشم ِصدف سے دیکھئے
٭٭٭
ظہیرؔاحمد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 2015
خوبصورت خوبصورت۔ کیا اندازِ تکلم ہے۔ بہت داد قبول فرمائیے۔
محمد وارث — اکتوبر 10، 2019 4:27 صبح
عمدہ غزل ہے ظہیر صاحب قبلہ۔ مقطع لاجواب ہے لیکن میرا دل زیبِ مطلع لے گیا، واہ واہ واہ۔
محمد تابش صدیقی — اکتوبر 10، 2019 5:08 صبح
روشنی ہی روشنی ہیں جس طرف سے دیکھئے
جل رہے ہیں جو چراغ اُن کو شرف سے دیکھئے
اِس طرح ہو جائے شاید دوست دشمن کی تمیز
اپنے لشکر کو کبھی دشمن کی صف سے دیکھئے
سازشوں کے سلسلے چارہ گری کے نام پر !
آج کے اِس دور تک عہدِ سلف سے دیکھئے
راہبرمشعل بکف ہے ، تیرگی کا خوف کیا
راستے کو موقفِ مشعل بکف سے دیکھئے
کیا تعلق دل کا ہوتا ہے نظر سے دوستو!
ناوکِ بے مہر کو آکر ہدف سے دیکھئے
تشنگی ہوجائے گی معلوم دریا کی ظہیرؔ
ابر ِنیساں کو ذرا چشم ِصدف سے دیکھئے
لاجواب غزل ظہیر بھائی۔
آپ چاہے مصرع سے لفظ پر اور آگے حرف تک پہنچ جائیں، ہمیں غزل ہی پسند آئے گی۔ :)
ظہیراحمدظہیر — اکتوبر 10، 2019 6:26 شام
بہت نوازش نظامی صاحب!آپ جیسے صاحبانِ علم و دانش سے حرفِ ستائش ملنا میرے لئے نعمت ہے ۔ بہت ممنون ہوں ۔ اللہ کریم آپ کو سلامت رکھے !
ماشاء اللّٰہ۔ خوبصورت کلام
بہت بہت شکریہ احمد ! بہت نوازش! اللہ خوش رکھے ۔
بہت اچھی غزل اور حالات کے مطابق کلام
فاخر بھائی ، بہت ممنون ہوں پذیرائی کے لئے ۔ ذرہ نوازی ہے!
خوبصورت خوبصورت۔ کیا اندازِ تکلم ہے۔ بہت داد قبول فرمائیے۔
آداب! بڑی نوازش ! بہت شکریہ خلیل بھائی ۔ اللہ کریم آپ کو سلامت رکھے!
عمدہ غزل ہے ظہیر صاحب قبلہ۔ مقطع لاجواب ہے لیکن میرا دل زیبِ مطلع لے گیا، واہ واہ واہ۔
نوازش! بہت شکریہ! ذرہ نوازی ہے وارث صاحب ! آپ کی طرف سے تحسین کلام کے لئے سند ہے ۔ حوصلہ افزائی کے لئے بہت ممنون ہوں ۔ اللہ کریم آپ کو سلامت رکھے۔
لاجواب غزل ظہیر بھائی۔
بہت نوازش! بہت شکریہ تابش بھائی ! سخنوروں کی طرف سے داد وتحسین بڑا انعام ہوتا ہے شاعر کے لئے ۔ اللہ آپ کو شاد وآباد رکھے ۔
آپ چاہے مصرع سے لفظ پر اور آگے حرف تک پہنچ جائیں، ہمیں غزل ہی پسند آئے گی۔ :)
بہت خوب! لاجواب ! :):):)
محمداحمد — اکتوبر 12، 2019 2:12 شام
واہ واہ واہ !
ہمیشہ کی طرح لاجواب کلام!
بہت عمدہ اشعار!
اور ڈھیروں داد :redrose::redrose::redrose:

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B1%D9%88%D8%B4%D9%86%DB%8C-%DB%81%DB%8C-%D8%B1%D9%88%D8%B4%D9%86%DB%8C-%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D8%AC%D8%B3-%D8%B7%D8%B1%D9%81-%D8%B3%DB%92-%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A6%DB%92.108751/