رکھ رہا ہوں میں زمینوں میں شجر کی امید

ظہیراحمدظہیر — مئی 9، 2025 5:25 شام
احبابِ کرام! اس وقت اردگرد کی عمومی صورتحال اتنی امید افزا نہیں ۔اُدھر برصغیر میں جنگ کے بادل چھائے ہوئے ہیں اور اِدھر اردو محفل کا یومِ رحلت طے ہوچکا ۔ اگرچہ نین بھائی دھڑادھڑ مراسلہ باری کررہے ہیں لیکن اکثر اراکین چپ ہیں ، شاید ابھی تک اداسی اور مایوسی کی کیفیات سے نکلنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ اس موقع پر یہ ایک پرانی غزل یاد آئی کہ اکثر اشعار میں رجائیت نمایاں ہے۔ امید ہے کہ کچھ اشعار آپ کو پسند آئیں گے۔ گر قبول افتد زہے عز و شرف!

***
رکھ رہا ہوں میں زمینوں میں شجر کی امید
مجھے سائے کی تمنا ، نہ ثمر کی امید
جس طرف لے چلی وارفتگیِ شوق مجھے
نقشِ پا بنتے گئے راہ گزر کی امید
اور کیا کام دوانے کا ترے کوچے میں
اک تلطف کی توقع ہے ، نظر کی امید
یعنی ہے بیم و رجا کا یہ تماشائے دراز
مختصر عرصۂ ہستی میں بشر کی امید!
ایک شب خون نیا قافلے والوں پہ پڑا
جب کبھی بندھنے لگی رختِ سفر کی امید
راہ خود رہبری کردے تو کرم ہے ورنہ
کارواں چھوڑ چکا میرِ سفر کی امید
غمِ دنیا نے تو موقع دیا ہر بار نیا
غمِ جاناں سے نہیں بارِ دگر کی امید
درِ کعبہ سے ملے ہیں یہ تبرّک میں مجھے
زیرِ لب حرفِ دعا ، دل میں اثر کی امید
تیری دنیا میں مسافر ہوں ، خدایا مجھ کو
وہ سفر دے جو بنے زادِ سفر کی امید
کچھ دیئے ایسے جلے ہیں کفِ جادہ پہ ظہیؔر
سینۂ شب میں جھلکتی ہے سحر کی امید
*****
ظہیؔر احمد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 2021
نیرنگ خیال — مئی 9، 2025 6:08 شام
مشکل غزل ہے۔۔۔۔ سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔۔۔۔ کسی کو سمجھ نہ آئے تو مجھ سے رابطہ کرے۔۔۔۔ محفل کے آخری مہینو ں میں یہ ہو سکتا ہے زور لگا کر شرح بیان کرنے میں کامیاب ہو جاؤں۔
نیرنگ خیال — مئی 9، 2025 6:10 شام
غمِ دنیا نے تو موقع دیا ہر بار نیا
غمِ جاناں سے نہیں بارِ دگر کی امید
کیسا خوبصورت شعر ہے۔۔۔۔ اعلی
یعنی ہے بیم و رجا کا یہ تماشائے دراز
مختصر عرصۂ ہستی میں بشر کی امید!
ہائے۔۔۔ کیسا نوحہ منظوم کیا ہے۔۔۔
کچھ دیئے ایسے جلے ہیں کفِ جادہ پہ ظہیؔر
سینۂ شب میں جھلکتی ہے سحر کی امید
واہ واہ۔۔۔ امید رہنی چاہیے۔۔۔ اعلی اعلی
ظہیراحمدظہیر — مئی 11، 2025 10:40 شام
کیسا خوبصورت شعر ہے۔۔۔۔ اعلی
ہائے۔۔۔ کیسا نوحہ منظوم کیا ہے۔۔۔
واہ واہ۔۔۔ امید رہنی چاہیے۔۔۔ اعلی اعلی
نوازش، بہت شکریہ! نین بھائی، غزل لگانے کا ارداہ تو نہیں تھا لیکن رنج وغم کی فضا میں امیدکا کچھ رنگ گھولنے اور موضوعِ گفتگو بدلنے کا خیال اس کا محرک بنا۔
اب محفل نہیں رہے گی تو داد بیداد کے یہ سلسلے بھی قصۂ پارینہ ہوجائیں گے۔ اللہ آپ کو سلامت رکھے! شاد و آباد رہیں۔
نیرنگ خیال — مئی 12، 2025 10:15 صبح
نوازش، بہت شکریہ! نین بھائی، غزل لگانے کا ارداہ تو نہیں تھا لیکن رنج وغم کی فضا میں امیدکا کچھ رنگ گھولنے اور موضوعِ گفتگو بدلنے کا خیال اس کا محرک بنا۔
اب محفل نہیں رہے گی تو داد بیداد کے یہ سلسلے بھی قصۂ پارینہ ہوجائیں گے۔ اللہ آپ کو سلامت رکھے! شاد و آباد رہیں۔
بہت ہی عمدہ غزل ہے۔۔۔ آپ کا شکریہ ظہیر بھائی کہ آپ نے محروم نہیں رکھا۔
ظہیراحمدظہیر — مئی 12، 2025 6:54 شام
مشکل غزل ہے۔۔۔۔ سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔۔۔۔ کسی کو سمجھ نہ آئے تو مجھ سے رابطہ کرے۔۔۔۔ محفل کے آخری مہینو ں میں یہ ہو سکتا ہے زور لگا کر شرح بیان کرنے میں کامیاب ہو جاؤں۔
خبردار اگر جاتے جاتے آپ نے اس معصوم سی غزل پر ہتھیار اٹھائے تو ۔۔۔۔۔ ورنہ اس طرف ہمارے ڈرون ہائے ہجو بھی پرواز کے لیے تیار ہیں ۔
نیرنگ خیال — مئی 13، 2025 3:08 شام
خبردار اگر جاتے جاتے آپ نے اس معصوم سی غزل پر ہتھیار اٹھائے تو ۔۔۔۔۔ ورنہ اس طرف ہمارے ڈرون ہائے ہجو بھی پرواز کے لیے تیار ہیں ۔
آپ تو سائلنٹ ٹیکنالوجی استعمال کریں گے؟
ظہیراحمدظہیر — مئی 13، 2025 7:12 شام
آپ تو سائلنٹ ٹیکنالوجی استعمال کریں گے؟
جی نہیں ۔ ہم تیز آواز میں آپ کی شان میں "ملی نغمے" بجاتے ہوئے ڈرون آپ کی طرف بھیجیں گے تاکہ ارد گرد کے تمام لوگوں کو معاملے سے آگاہی حاصل ہوسکے۔
الف نظامی — مئی 13، 2025 7:19 شام
واہ ، بہت خوب!
درِ کعبہ سے ملے ہیں یہ تبرّک میں مجھے
زیرِ لب حرفِ دعا ، دل میں اثر کی امید
ظہیراحمدظہیر — مئی 14، 2025 9:00 شام
واہ ، بہت خوب!
درِ کعبہ سے ملے ہیں یہ تبرّک میں مجھے
زیرِ لب حرفِ دعا ، دل میں اثر کی امید
بہت شکریہ ، نوازش ، نظامی صاحب!
بیشک یہی امید اندھیروں کو دور کرتی ہے اور قلب و جاں میں اجالے کا باعث ہے۔ اللہ کریم اسے مرتے دم تک برقرار رکھے۔ آمین
نیرنگ خیال — مئی 15، 2025 10:57 صبح
جی نہیں ۔ ہم تیز آواز میں آپ کی شان میں "ملی نغمے" بجاتے ہوئے ڈرون آپ کی طرف بھیجیں گے تاکہ ارد گرد کے تمام لوگوں کو معاملے سے آگاہی حاصل ہوسکے۔
لگتا ہے مجھ پر جنگ مسلط کی جا رہی ہے۔۔۔ اب میدان میں اترے بغیر چارہ نہ ہوگا۔
La Alma — مئی 15، 2025 1:40 شام
تیری دنیا میں مسافر ہوں ، خدایا مجھ کو
وہ سفر دے جو بنے زادِ سفر کی امید
کیا خوب ہے!
واقعی زادِ سفر مختصر ہو تو سفر طویل اور کٹھن لگنا شروع ہو جاتا ہے۔
ظہیراحمدظہیر — مئی 15، 2025 7:51 شام
لگتا ہے مجھ پر جنگ مسلط کی جا رہی ہے۔۔۔ اب میدان میں اترے بغیر چارہ نہ ہوگا۔
اگر محفل میں کچھ ہلچل مچانے اور آپ کی شرنگاری۔۔۔ معاف کیجیے گا۔۔۔ نثر نگاری کو تحریک دینے کے لیے ایک معصوم غزل کی قربانی دینا پڑے تو سودا برا نہیں ۔ :D
کہیے کہیے کہ لوگ کہتے ہیں۔۔۔۔۔۔
ظہیراحمدظہیر — مئی 15، 2025 7:53 شام
کیا خوب ہے!
واقعی زادِ سفر مختصر ہو تو سفر طویل اور کٹھن لگنا شروع ہو جاتا ہے۔
بالکل ٹھیک کہا آپ نے ۔ اپنے ارد گرد دیکھیں تو یہ احساس شدید تر ہوجاتا ہے ۔
آپ کی توجہ کے لیے ممنون ہوں ۔ بہت شکریہ ، نوازش!
عرفان علوی — مئی 16، 2025 6:56 صبح
احبابِ کرام! اس وقت اردگرد کی عمومی صورتحال اتنی امید افزا نہیں ۔اُدھر برصغیر میں جنگ کے بادل چھائے ہوئے ہیں اور اِدھر اردو محفل کا یومِ رحلت طے ہوچکا ۔ اگرچہ نین بھائی دھڑادھڑ مراسلہ باری کررہے ہیں لیکن اکثر اراکین چپ ہیں ، شاید ابھی تک اداسی اور مایوسی کی کیفیات سے نکلنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ اس موقع پر یہ ایک پرانی غزل یاد آئی کہ اکثر اشعار میں رجائیت نمایاں ہے۔ امید ہے کہ کچھ اشعار آپ کو پسند آئیں گے۔ گر قبول افتد زہے عز و شرف!

***
رکھ رہا ہوں میں زمینوں میں شجر کی امید
مجھے سائے کی تمنا ، نہ ثمر کی امید
جس طرف لے چلی وارفتگیِ شوق مجھے
نقشِ پا بنتے گئے راہ گزر کی امید
اور کیا کام دوانے کا ترے کوچے میں
اک تلطف کی توقع ہے ، نظر کی امید
یعنی ہے بیم و رجا کا یہ تماشائے دراز
مختصر عرصۂ ہستی میں بشر کی امید!
ایک شب خون نیا قافلے والوں پہ پڑا
جب کبھی بندھنے لگی رختِ سفر کی امید
راہ خود رہبری کردے تو کرم ہے ورنہ
کارواں چھوڑ چکا میرِ سفر کی امید
غمِ دنیا نے تو موقع دیا ہر بار نیا
غمِ جاناں سے نہیں بارِ دگر کی امید
درِ کعبہ سے ملے ہیں یہ تبرّک میں مجھے
زیرِ لب حرفِ دعا ، دل میں اثر کی امید
تیری دنیا میں مسافر ہوں ، خدایا مجھ کو
وہ سفر دے جو بنے زادِ سفر کی امید
کچھ دیئے ایسے جلے ہیں کفِ جادہ پہ ظہیؔر
سینۂ شب میں جھلکتی ہے سحر کی امید
*****
ظہیؔر احمد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 2021
ظہیر بھائی ، بہت دنوں بعد اس طرف آنا ہوا . آپ کی عمدہ غزل کا لطف محفل کی برخاستگی کی خبر نے کسی قدر ماند کر دیا . بہر حال ، داد حاضر ہے . اب نہ جانے آپ سے ملاقات اور گفتگو کب اور کہاں ہو .
نیرنگ خیال — مئی 16، 2025 11:13 صبح
اگر محفل میں کچھ ہلچل مچانے اور آپ کی شرنگاری۔۔۔ معاف کیجیے گا۔۔۔ نثر نگاری کو تحریک دینے کے لیے ایک معصوم غزل کی قربانی دینا پڑے تو سودا برا نہیں ۔ :D
کہیے کہیے کہ لوگ کہتے ہیں۔۔۔۔۔۔
ہوہوہوہوہوہو۔۔۔ ہوتی آئی ہے اچھوں کو برا کہتے ہیں۔۔۔۔ خیر کوئی بات نہیں۔۔۔۔ مقابلہ تو دل ناتواں کرے گا ہی۔۔۔ شکست و شکست مقدر سے ہے دشمنوں کو بھلے امیر۔۔۔۔ ایسا ہی تھا کچھ۔۔۔ ۔
ظہیراحمدظہیر — مئی 16، 2025 8:48 شام
ظہیر بھائی ، بہت دنوں بعد اس طرف آنا ہوا . آپ کی عمدہ غزل کا لطف محفل کی برخاستگی کی خبر نے کسی قدر ماند کر دیا . بہر حال ، داد حاضر ہے . اب نہ جانے آپ سے ملاقات اور گفتگو کب اور کہاں ہو .
جی ہاں عرفان بھائی ، محفل سے وابستہ ہر شخص ہی اس متوقع جدائی کو محسوس کررہا ہے اور رنجیدہ ہے۔ لیکن ہر کمالے را زوالے۔ محفل اپنا مقصد پورا کرچکی۔ کئی احباب ایک متبادل بیٹھک تلاش تو کررہے ہیں ۔ دیکھیے کیا ہوتا ہے۔
ظہیراحمدظہیر — مئی 16، 2025 8:52 شام
ہوہوہوہوہوہو۔۔۔ ہوتی آئی ہے اچھوں کو برا کہتے ہیں۔۔۔۔ خیر کوئی بات نہیں۔۔۔۔ مقابلہ تو دل ناتواں کرے گا ہی۔۔۔ شکست و شکست مقدر سے ہے دشمنوں کو بھلے امیر۔۔۔۔ ایسا ہی تھا کچھ۔۔۔ ۔
واہ! ناتواں کو ظالم و جابر اور ستمگر کے معنوں میں کیا خوب استعمال کیا ہے آپ نے!!!:)
تو گویا اب میں جل تو جلال تو کا ورد شروع کردوں ۔۔۔۔
نیرنگ خیال — مئی 17، 2025 7:56 صبح
واہ! ناتواں کو ظالم و جابر اور ستمگر کے معنوں میں کیا خوب استعمال کیا ہے آپ نے!!!:)
تو گویا اب میں جل تو جلال تو کا ورد شروع کردوں ۔۔۔۔
دل چاہتا نہ تو ورد میں اثر کہاں
ظہیراحمدظہیر — مئی 17، 2025 7:10 شام
دل چاہتا نہ تو ورد میں اثر کہاں
زیرِ سطور ، بالائے سطور اور بین السطور پڑھنے کے ماہر جناب رئیس القاطعین بالقلم ، امیر المفسدین فی الشعر حضرت ذوالقرنین علیہ السلام !!!!:notworthy:
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B1%DA%A9%DA%BE-%D8%B1%DB%81%D8%A7-%DB%81%D9%88%DA%BA-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%B2%D9%85%DB%8C%D9%86%D9%88%DA%BA-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%B4%D8%AC%D8%B1-%DA%A9%DB%8C-%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%AF.121441/