زمیں آسماں

زیف سید — ستمبر 24، 2010 6:43 صبح
بڑے ملک کے اک بڑے شہر کی
تنگ و تیرہ گلی میں کھڑا ہوں
فلک
اونچے برجوں کے بھالوں سے کٹ کر افق تا افق کرچی کرچی پڑا ہے
زمیں
پاؤں کے نیچے بدمست کشتی کی مانند ہچکولے کھاتی ہے
اور میں کھڑا سوچتا ہوں
کہ دستار کو دونوں ہاتھوں سے تھاموں
کہ فٹ پاتھ کی گرتی دیوار سے
اپنے سر کو بچاؤں
محمد وارث — ستمبر 24، 2010 7:14 صبح
بہت خوب زیف صاحب۔
فلک
اونچے برجوں کے بھالوں سے کٹ کر افق تا افق کرچی کرچی پڑا ہے
کیا خوبصورت اور منفرد تشبیہات ہیں، لاجواب۔
میر انیس — ستمبر 24، 2010 3:07 شام
سبحان اللہ ۔ بہت خوبصورت اور معنی انگیز بات کی ہے۔
زیف سید — ستمبر 24، 2010 5:39 شام
بہت خوب زیف صاحب۔
فلک
اونچے برجوں کے بھالوں سے کٹ کر افق تا افق کرچی کرچی پڑا ہے
کیا خوبصورت اور منفرد تشبیہات ہیں، لاجواب۔

ذرہ نوازی کے لیے ممنون ہوں۔
زیف
الف عین — ستمبر 24، 2010 6:47 شام
واہ، اچھی نظم ہے، لیکن میرے لئے ممنون ہونے کی ضرورت نہیں، میں خاص طور پر تعریف نہیں کر رہا۔کہ مجھے معلوم ہے کہ زیف اچھی شاعری کرتے ہیں!!
زیف سید — ستمبر 25، 2010 5:25 صبح
سبحان اللہ ۔ بہت خوبصورت اور معنی انگیز بات کی ہے۔

انیس صاحب، نظم پسند فرمانے کا بہت شکریہ۔
زیف
محمداحمد — ستمبر 25، 2010 12:39 شام
زیف سید صاحب،
بہت خوب، بہت خوبصورت نظم ہے، نذرانہء تحسین حاضرِ خدمت ہے۔
مزید کلام بھی شریکِ محفل کیجے گا۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B2%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A2%D8%B3%D9%85%D8%A7%DA%BA.31586/