زندگی دشتِ انا ہے یہاں کس کا سایا

ظہیراحمدظہیر — فروری 3، 2016 5:04 شام
زندگی دشتِ انا ہے یہاں کس کا سایا
اپنے سائے کے علاوہ نہیں ملتا سایا
دور جائیں جوشجرسے تو جھلس جانے کا ڈر
چھاؤں میں بیٹھیں تو اپنا نہیں بنتا سایا
بڑھ گئی میری تھکن اور بھی اے شہر ِ امان
آزما کر تری دیوار کا دیکھا سایا
عکس شیشے کے گھروں میں نظر آتے ہیں ہزار
دھوپ آجائے تو ڈھونڈے نہیں ملتا سایا
اُس کے آنچل کی دھنک کو تو ذرا کُھلنے دو
جلتا سورج بھی پکارے گا کہ سایا سایا
ایک دیوارِ عداوت تھی کہ گرتے گرتے
شہر میں چھوڑ گئی خوف کا گہرا سایا
جب بھی کاندھے پہ اٹھاتا ہوں میں بچوں کو ظہیر
میری قامت سے بھی بڑھ جاتا ہے میرا سایا
ظہیر احمد ظہیر ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ جولائی ۲۰۰۷​
ظہیراحمدظہیر — فروری 3، 2016 5:05 شام
کاشف اختر محمد تابش صدیقی فاتح سید عاطف علی
محمد تابش صدیقی — فروری 3، 2016 5:16 شام
کیا ہی خوب کہا ہے ظہیر بھائی، کیا تخیل ہے۔
دور جائیں جوشجرسے تو جھلس جانے کا ڈر
چھاؤں میں بیٹھیں تو اپنا نہیں بنتا سایا
بہت خوبصورت پیرایۂ اظہار
جب بھی کاندھے پہ اٹھاتا ہوں میں بچوں کو ظہیر
میری قامت سے بھی بڑھ جاتا ہے میرا سایا
کاشف اختر — فروری 4، 2016 7:27 صبح
بہت خوب ظہیر بھائی ! واہ واہ واہ
دور جائیں جوشجرسے تو جھلس جانے کا ڈر
چھاؤں میں بیٹھیں تو اپنا نہیں بنتا سایا
محمد بلال اعظم — فروری 4، 2016 10:48 صبح
عکس شیشے کے گھروں میں نظر آتے ہیں ہزار
دھوپ آجائے تو ڈھونڈے نہیں ملتا سایا

اُس کے آنچل کی دھنک کو تو ذرا کُھلنے دو
جلتا سورج بھی پکارے گا کہ سایا سایا

ایک دیوارِ عداوت تھی کہ گرتے گرتے
شہر میں چھوڑ گئی خوف کا گہرا سایا

جب بھی کاندھے پہ اٹھاتا ہوں میں بچوں کو ظہیر
میری قامت سے بھی بڑھ جاتا ہے میرا سایا

واہ واہ واہ
سرکار کیا اشعار کہے ہیں۔
خاص طور پہ مقطع کے تو کیا کہنے
سبحان اللہ
بہت سی داد
واہہہہہہہہہ
عثمان قادر — فروری 4، 2016 11:37 صبح
اُس کے آنچل کی دھنک کو تو ذرا کُھلنے دو
جلتا سورج بھی پکارے گا کہ سایا سایا
بہت خوب

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C-%D8%AF%D8%B4%D8%AA%D9%90-%D8%A7%D9%86%D8%A7-%DB%81%DB%92-%DB%8C%DB%81%D8%A7%DA%BA-%DA%A9%D8%B3-%DA%A9%D8%A7-%D8%B3%D8%A7%DB%8C%D8%A7.87715/