زندگی نے تو گزرنا ہےگزر جائے گی

سید اِجلاؔل حسین — نومبر 20، 2013 9:42 شام
زندگی نے تو گزرنا ہے گزر جائے گی
سب ہی ٹھکرا دیں مگر موت تو اپنائے گی
میری معصوم محبت کی صداقت اے دوست
اک نہ اک روز تمہیں یاد بہت آئے گی
ہے خریدار کوئی اِس دلِ انمول کا بھی؟
یہ وہ دولت ہے جو بن مول بھی مل جائے گی
آج تم شاد سہی مجھ کو رلا کر لیکن
کل کو میری بھی تو آہوں پہ بہار آئے گی!
گردشِ وقت کہو یا اِسے حالات کارخ
بات اتنی ہے وفا تم کو کہاں آئے گی
تم بھی اِجلؔال بسا لو گے جو راحت گھر میں
شامِ غم لَوٹ کے پھر اور کہاں جائے گی

الف عین — نومبر 21، 2013 5:06 صبح
بہت خوب
سید اِجلاؔل حسین — نومبر 21، 2013 11:22 صبح

بہت شکریہ استادِ محترم!
اللہ آپ کو سلامت رکھے۔
محدثہ — نومبر 21، 2013 11:40 صبح
خوب۔۔ !
سید اِجلاؔل حسین — نومبر 22، 2013 12:20 شام
جیتی رہیے!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C-%D9%86%DB%92-%D8%AA%D9%88-%DA%AF%D8%B2%D8%B1%D9%86%D8%A7-%DB%81%DB%92%DA%AF%D8%B2%D8%B1-%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92-%DA%AF%DB%8C.69462/