زندگی کی اساس کچھ بھی نہیں

صفی حیدر — جولائی 13، 2019 8:52 صبح
زندگی کی اساس کچھ بھی نہیں
حیف صد حیف پاس کچھ بھی نہیں
تشنگی کا عذاب مجھ سے پوچھ
کیا ہے صحرا کی پیاس ؟ کچھ بھی نہیں
روح کو کیسے ڈھانپوں، میرے پاس
جزدریدہ لباس کچھ بھی نہیں
وہ امیدیں ہوں خواب یا خواہش
مجھ کو ان میں سے راس کچھ بھی نہیں
گل خزاں برد ہو چکا کب کا
یاد جزاس کی باس کچھ بھی نہیں
بند ہیں سوچ کے دریچے صفی
کیا یقیں کیا قیاس کچھ بھی نہیں
محمداحمد — جولائی 17، 2019 8:21 صبح
بہت خوب!
صفی حیدر — جولائی 17، 2019 3:56 شام
بہت شکریہ سر ۔۔۔۔۔ پہلی بار میری کسی کاوش کو آپ نے سراہا ہے جس کے لیے سپاسِ گزار ہوں ۔۔۔۔ آپ کی بے مثال شاعری کا میں دل سے قدر دان ہوں ۔۔۔۔۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C-%DA%A9%DB%8C-%D8%A7%D8%B3%D8%A7%D8%B3-%DA%A9%DA%86%DA%BE-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA.107606/