زندگی ہے کوئی سزا تو نہیں (غزل)

عظیم — جون 7، 2022 7:15 صبح

زندگی ہے کوئی سزا تو نہیں
دوست لگتا مجھے خفا تو نہیں
کوئی رہتا ہے ساتھ میرے مگر
میرا اپنا ابھی ملا تو نہیں
کچھ ہیں شکوے شکایتیں تھوڑی
لیکن اس در سے میں اٹھا تو نہیں
میں گنہگار ہوں یہ سچ ہے مگر
دنیا والوں سے کچھ کہا تو نہیں
ڈھونڈتا ہوں جسے میں باہر وہ
میرے دل سے کہیں گیا تو نہیں
کٹ ہی جائیں گے غم کے دن بھی سبھی
کوئی لمحہ کبھی رکا تو نہیں
اب تو یہ ہے کہ صرف پوری ہوں
لب پہ باقی کوئی دعا تو نہیں
حوصلے پست ہیں تو کیا غم ہے
میں سفر سے ابھی تھکا تو نہیں
جس کو کہتے ہیں بندگی سب لوگ
وہ کہیں آپ سے وفا تو نہیں؟
دل کو پتھر بنانا پڑتا ہے
عشق کچھ کھیل موم کا تو نہیں
دیکھنے کو نہیں ہے کیا کیا یہاں
آدمی سے وہ رب چھپا تو نہیں
جس کو سمجھا ہوں انتہا غم کی
وہ محبت کی ابتدا تو نہیں؟
مشکلیں ہیں کچھ ایک دو باقی
سر سلامت ہے یہ کٹا تو نہیں
میں بھی پہنچوں گا اس کے در پہ کبھی
کس طرح ، یہ میں جانتا تو نہیں
ایک پل خوش تو اک اداس عظیم
یہی عشاق کی ادا تو نہیں؟

سیما علی — جون 7، 2022 8:55 صبح
دیکھنے کو نہیں ہے کیا کیا یہاں
آدمی سے وہ رب چھپا تو نہیں
واہ واہ
بہت خوب
سیما علی — جون 7، 2022 8:56 صبح
ایک پل خوش تو اک اداس عظیم
یہی عشاق کی ادا تو نہیں؟
بہت عمدہ !!
عظیم — جون 7، 2022 10:25 صبح
بہت بہت شکریہ آپ کا
سیما علی — جون 7، 2022 6:14 شام
بہت بہت شکریہ آپ کا
جیتے رہیے بہت ساری دعائیں۔۔۔
الف عین — جون 10، 2022 5:12 صبح
اچھی غزل ہے بیٹا عظیم
عظیم — جون 10، 2022 6:19 صبح
جزاک اللہ خیر بابا
یاسر شاہ — جون 10، 2022 7:24 صبح
ماشاء اللہ عظیم بھائی خوب غزل ہے۔داد۔
دو ایک مقامات پہ تراش خراش کی ضرورت ہے ،دیکھ لیجیے گا۔مثلا
دیکھنے کو نہیں ہے کیا کیا یہاں
یہ مصرع وزن سے کچھ باہر نکل رہا ہے۔
زندگی ہے کوئی سزا تو نہیں
دوست لگتا مجھے خفا تو
دوسرا مصرع کچھ خام سا ہے۔
یوں کہیں تو واضح ہو:
دوست لگتا ہے کچھ خفا تو نہیں
وغیرہ وغیرہ
عظیم — جون 11، 2022 8:12 صبح
ماشاء اللہ عظیم بھائی خوب غزل ہے۔داد۔
دو ایک مقامات پہ تراش خراش کی ضرورت ہے ،دیکھ لیجیے گا۔مثلا
یہ مصرع وزن سے کچھ باہر نکل رہا ہے۔
دوسرا مصرع کچھ خام سا ہے۔
یوں کہیں تو واضح ہو:
دوست لگتا ہے کچھ خفا تو نہیں
وغیرہ وغیرہ
بہت شکریہ آپ کا یاسر شاہ بھائی
مصرع وزن میں ہے اور مطلع کا دوسرا مصرع بھی مجھے اس لحاظ سے واضح ہی لگ رہا ہے کہ جو میں کہنا چاہتا تھا
کہ دوست مجھے خفا تو نہیں لگتا
محمداحمد — جون 11، 2022 1:36 شام
میں بھی پہنچوں گا اس کے در پہ کبھی
کس طرح ، یہ میں جانتا تو نہیں

بہت خوب عظیم بھائی!
عظیم — جون 11، 2022 2:24 شام
بہت خوب عظیم بھائی!
بہت شکریہ آپ کا احمد بھائی!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C-%DB%81%DB%92-%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C-%D8%B3%D8%B2%D8%A7-%D8%AA%D9%88-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D8%BA%D8%B2%D9%84.118527/