زندہ ہزاروں لوگ جہاں مر کے ہوگئے

ظہیراحمدظہیر — ستمبر 12، 2018 8:37 شام
زندہ ہزاروں لوگ جہاں مر کے ہوگئے
ہم بھی خدا کا شکر اُسی در کے ہوگئے
جو راس تھا ہمیں وہی قسمت نے لکھ دیا
ہم جور آشنا تھے ستم گر کے ہوگئے
نکلے تھے ہم جزیرۂ زر کی تلاش میں
ساحل کی ریت چھوڑ کے ساگر کے ہوگئے
کچھ ایسا رائگانیٔ دستک کا خوف تھا
پہلا جو در کھلا ہم اُسی در کے ہوگئے
میرے ستم گروں کا بھی معیار بڑھ گیا
پتھر جو آرہے تھے وہ مرمر کے ہوگئے
بالیدگی ہوائے سیاست کی دیکھنا !
بالشتیئے اک آن میں گز بھر کے ہوگئے
کرنے لگے ہیں وہ بھی لو بچپن کو اپنے یاد
بچّے ظہیرؔ میرے برابر کے ہوگئے
(۲۰۰۸)
محمد تابش صدیقی — ستمبر 13، 2018 4:21 صبح
کیا کہنے ظہیر بھائی۔
صبح صبح ہی تازہ کلام پڑھ کر طبیعت خوش ہو گئی۔
زندہ ہزاروں لوگ جہاں مر کے ہوگئے
ہم بھی خدا کا شکر اُسی در کے ہوگئے

جو راس تھا ہمیں وہی قسمت نے لکھ دیا
ہم جور آشنا تھے ستم گر کے ہوگئے

کچھ ایسا رائگانیٔ دستک کا خوف تھا
پہلا جو در کھلا ہم اُسی در کے ہوگئے

بالیدگی ہوائے سیاست کی دیکھنا !
بالشتیئے اک آن میں گز بھر کے ہوگئے
خالد محمود چوہدری — ستمبر 13، 2018 4:30 صبح
بہت شاندار ظہیر بھائی ، بہت ہی اچھے اشعار ہیں۔ جیتے رہیئے خوش رہئیے
محمد عدنان اکبری نقیبی — ستمبر 13، 2018 6:44 صبح
بالیدگی ہوائے سیاست کی دیکھنا !
بالشتیئے اک آن میں گز بھر کے ہوگئے
کیا بات ہے قبلہ ، سبحان اللہ
زبردست غزل مزہ آگیا ۔
سید عاطف علی — ستمبر 13، 2018 8:04 صبح
بالشتیئے اک آن میں گز بھر کے ہوگئے
آہا ۔ خوب ۔بہت خوب۔
الف نظامی — ستمبر 13، 2018 8:20 صبح
زندہ ہزاروں لوگ جہاں مر کے ہوگئے
ہم بھی خدا کا شکر اُسی در کے ہوگئے
اللہ اللہ موت کو کس نے مسیحا کر دیا​
سین خے — ستمبر 14، 2018 8:53 صبح
میرے ستم گروں کا بھی معیار بڑھ گیا
پتھر جو آرہے تھے وہ مرمر کے ہوگئے
بالیدگی ہوائے سیاست کی دیکھنا !
بالشتیئے اک آن میں گز بھر کے ہوگئے

واہ!!!!!! بہت اعلیٰ :)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B2%D9%86%D8%AF%DB%81-%DB%81%D8%B2%D8%A7%D8%B1%D9%88%DA%BA-%D9%84%D9%88%DA%AF-%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA-%D9%85%D8%B1-%DA%A9%DB%92-%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A6%DB%92.103222/