زیست بے رنگ تھی تجدیدِ وفا سے پہلے

ابن رضا — اپریل 26، 2016 6:03 شام

زیست بے رنگ تھی تجدیدِ وفا سے پہلے

میں تغافل میں رہا، شوقِ لقا سے پہلے

میں وہ احسان فراموش ہوں جس کا مالک
تھام لیتا ہے اُسے لغزشِ پا سے پہلے
کیا یہ کم لُطف و کرم ہے کہ وہ سُن لیتا ہے
میرا ہر حرفِ دُعا عرضِ دُعا سے پہلے
جب بھی گھیرا ہے مجھے گردشِ حالات نے، وہ
مُلتفت مجھ پہ ہُوا رنج و بلا سے پہلے
پیش کرتا ہوں جو اشکوں کا میں نذرانہ اُسے
بخش دیتا ہے مجھے آہ و بکا سے پہلے
اُس کے دربار میں پہنچا تو یہ احساس ہوا
میں شناسا ہی نہ تھا جُود و سخا سے، پہلے
لَوٹنا پڑتا نہ در در سے مجھے خالی ہاتھ
مانگ لیتا جو رضا اپنے خدا سے، پہلے

جاسمن — اپریل 26، 2016 6:08 شام
اُس کے دربار میں پہنچا تو یہ احساس ہوا
میں شناسا ہی نہ تھا جُود و سخا سے، پہلے
بے شک۔
پیش کرتا ہوں جو اشکوں کا میں نذرانہ اُسے
بخش دیتا ہے مجھے آہ و بکا سے پہلے
بے شک۔
کیا یہ کم لُطف و کرم ہے کہ وہ سُن لیتا ہے
میرا ہر حرفِ دُعا عرضِ دُعا سے پہلے
بے شک۔ الحمد اللہ۔

لَوٹنا پڑتا نہ در در سے مجھے خالی ہاتھ
مانگ لیتا جو رضا اپنے خدا سے، پہلے
آہ!
کس قدر خوبصورت حمدیہ اشعار ہیں۔ بے شک۔ بے شک۔
بہت پیارا،بہت ہی پیارا کلام ہے۔ جزاک اللہ!ہمارے سب کے دل کی آواز۔ اللہ قبول کرے۔ آمین!
محمد تابش صدیقی — اپریل 26، 2016 6:17 شام
بہت عمدہ ابنِ رضا بھائی، کیا کہنے۔
میں وہ احسان فراموش ہوں جس کا مالک
تھام لیتا ہے جسے لغزشِ پا سے پہلے

کیا یہ کم لُطف و کرم ہے کہ وہ سُن لیتا ہے
میرا ہر حرفِ دُعا عرضِ دُعا سے پہلے

جب بھی گھیرا ہے مجھے گردشِ حالات نے، وہ
مُلتفت مجھ پہ ہُوا رنج و بلا سے پہلے

پیش کرتا ہوں جو اشکوں کا میں نذرانہ اُسے
بخش دیتا ہے مجھے آہ و بکا سے پہلے

اُس کے دربار میں پہنچا تو یہ احساس ہوا
میں شناسا ہی نہ تھا جُود و سخا سے، پہلے

ہر شعر الگ داد کا مستحق ہے۔
لَوٹنا پڑتا نہ در در سے مجھے خالی ہاتھ
مانگ لیتا جو رضا اپنے خدا سے، پہلے
لاریب مرزا — اپریل 26، 2016 6:19 شام
بہت خوب کلام پیش کیا ہے رضا بھائی!!
یکے بعد دیگرے اتنی عمدہ شاعری پیش کرنے پر بہت سی داد!!
ظہیراحمدظہیر — اپریل 26، 2016 6:31 شام
زیست بے رنگ تھی تجدیدِ وفا سے پہلے
دلِ غافل میں جو تھا، شوقِ لقا سے پہلے
میں وہ احسان فراموش ہوں جس کا مالک
تھام لیتا ہے جسے لغزشِ پا سے پہلے
کیا یہ کم لُطف و کرم ہے کہ وہ سُن لیتا ہے
میرا ہر حرفِ دُعا عرضِ دُعا سے پہلے
جب بھی گھیرا ہے مجھے گردشِ حالات نے، وہ
مُلتفت مجھ پہ ہُوا رنج و بلا سے پہلے
پیش کرتا ہوں جو اشکوں کا میں نذرانہ اُسے
بخش دیتا ہے مجھے آہ و بکا سے پہلے
اُس کے دربار میں پہنچا تو یہ احساس ہوا
میں شناسا ہی نہ تھا جُود و سخا سے، پہلے
لَوٹنا پڑتا نہ در در سے مجھے خالی ہاتھ
مانگ لیتا جو رضا اپنے خدا سے، پہلے


بہت خوب !! ابن رضا بھائی ، کیا اچھی غزل ہے !
مقطع بہت زوردار ہے ۔ تخلص کا ذومعنی استعمال اچھا ہے! اللہ کرے زورِقلم اور زیادہ!
بس ایک چھوٹی سی لسانی لغزش درست کرلیجئے ۔ دوسرے شعر میں جسے کے بجائے اُسے ہوگا۔ شاید ٹائپو ہوگیا ہے ۔
قاضی واجد الدائم — اپریل 26، 2016 6:33 شام
زبردست --- بہت خوب
کاشف اختر — اپریل 26، 2016 6:45 شام
بہترین عمدہ کلام پیش کرنے پر بہت سی داد قبول فرمائیں!
ابن رضا — اپریل 26، 2016 7:18 شام
بے شک۔
آہ!
کس قدر خوبصورت حمدیہ اشعار ہیں۔ بے شک۔ بے شک۔
بہت پیارا،بہت ہی پیارا کلام ہے۔ جزاک اللہ!ہمارے سب کے دل کی آواز۔ اللہ قبول کرے۔ آمین!
مطلع اگرچہ ابھی کچھ توجہ چاہتا ہے تاہم میرے دل کی آواز آپ کو پسند آئی۔۔۔ بہت ممنون ہوں۔بقول سر محمد یعقوب آسی صاحب کہ شاعری وہی جو دل کے تار چھیڑ دے۔ ہمیشہ خوش رہیے
ابن رضا — اپریل 26، 2016 7:19 شام
بہت عمدہ ابنِ رضا بھائی، کیا کہنے۔
ہر شعر الگ داد کا مستحق ہے۔
داد وصول۔ محبت بھری داد اور توجہ کے لیے ممنون ہوں
ابن رضا — اپریل 26، 2016 7:22 شام
بہت خوب کلام پیش کیا ہے رضا بھائی!!
یکے بعد دیگرے اتنی عمدہ شاعری پیش کرنے پر بہت سی داد!!
پسند آوری کا شکریہ، شاد و آباد رہیے۔
بہت خوب !! ابن رضا بھائی ، کیا اچھی غزل ہے !
مقطع بہت زوردار ہے ۔ تخلص کا ذومعنی استعمال اچھا ہے! اللہ کرے زورِقلم اور زیادہ!
بس ایک چھوٹی سی لسانی لغزش درست کرلیجئے ۔ دوسرے شعر میں جسے کے بجائے اُسے ہوگا۔ شاید ٹائپو ہوگیا ہے ۔
بہت نوازش حضور توجہ اور صلاح کے لیے سراپا سپاس ہوں۔ سلامت رہیے
پسند آوری کا شکریہ محترم۔ خوش رہیے۔
بہترین عمدہ کلام پیش کرنے پر بہت سی داد قبول فرمائیں!
پسند آوری کا شکریہ محترم۔ خوش رہیے۔
محمد یعقوب آسی — اپریل 26، 2016 7:36 شام
مطلع اگرچہ ابھی کچھ توجہ چاہتا ہے تاہم میرے دل کی آواز آپ کو پسند آئی۔۔۔ بہت ممنون ہوں۔بقول سر محمد یعقوب آسی صاحب کہ شاعری وہی جو دل کے تار چھیڑ دے۔ ہمیشہ خوش رہیے
بقول پروفیسر انور مسعود: "شعر وہ ہے جو آپ کو چھیڑ دے اور آپ کا ذہن اس کے پیچھے یوں لپکے جیسے بچہ تتلی کے پیچھے دوڑتا ہے"۔ میں نے ان کا یہ بیان بہت جگہ پورے حوالے سے ساتھ نقل کیا ہے۔ یہ بڑے لوگوں کی کہی ہوئی بڑی بات ہے، یہ فقیر اتنی جوگا کہاں!
یاز — اپریل 26، 2016 7:39 شام
میں وہ احسان فراموش ہوں جس کا مالک
تھام لیتا ہے اُسے لغزشِ پا سے پہلے

بہت عمدہ ابنِ رضا بھائی۔
یوسف سلطان — اپریل 26، 2016 7:46 شام
ماشاء اللہ بہت عمدہ کلام ہے ۔
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ
ابن رضا — اپریل 27، 2016 6:08 صبح
بہت عمدہ ابنِ رضا بھائی۔
بہت نوازش. پسند آوری کا شکریہ.
ابن رضا — اپریل 27، 2016 6:09 صبح
ماشاء اللہ بہت عمدہ کلام ہے ۔
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ
بہت نوازش. شاد رہیں
سید عاطف علی — اپریل 27، 2016 6:20 صبح
بہت اچھے رضا بھائی ۔ بہت خوب
مزمل حسین — اپریل 27، 2016 6:37 صبح
ابن رضا صاحب بہت بہت مبارک باد ایسی خوبصورت حمد تخلیق کرنے کے لئے۔
ہر شعر پر دل جھوم جھوم اٹھا ہے۔
تمام اشعار از بر ہونے تک بارہا پڑھوں میں، بحر بھی آسان ہے۔
بہت داد آپ کے لئے!
الشفاء — اپریل 27، 2016 8:21 صبح
کیا کہنے ابن رضا بھائ۔ ماشاءاللہ۔۔۔:)
ابن رضا — اپریل 27، 2016 9:27 صبح
بہت اچھے رضا بھائی ۔ بہت خوب
بہت نوازش شاہ جی. شاد و آباد رہیے
ابن رضا — اپریل 27، 2016 9:29 صبح
ابن رضا صاحب بہت بہت مبارک باد ایسی خوبصورت حمد تخلیق کرنے کے لئے۔
ہر شعر پر دل جھوم جھوم اٹھا ہے۔
تمام اشعار از بر ہونے تک بارہا پڑھوں میں، بحر بھی آسان ہے۔
بہت داد آپ کے لئے!
بہت نوازش. پسند آوری کا شکریہ خوش رہیے
کیا کہنے ابن رضا بھائ۔ ماشاءاللہ۔۔۔:)
بہت شکریہ حضور۔ سلامت رہیے
صفحات: 1 2 3

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B2%DB%8C%D8%B3%D8%AA-%D8%A8%DB%92-%D8%B1%D9%86%DA%AF-%D8%AA%DA%BE%DB%8C-%D8%AA%D8%AC%D8%AF%DB%8C%D8%AF%D9%90-%D9%88%D9%81%D8%A7-%D8%B3%DB%92-%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92.89585/