ساتھ کب تک کوئی چلا مت پوچھ
کس نے کی کس قدر وفا مت پوچھ مختصر یہ کہ ہو گئے آزاد
کون کس سے ہوا رِہا مت پوچھ تھی قیامت مگر گزر ہی گئی
تذکرہ اس کا بارہا مت پوچھ پوچھ مجھ سے جو میرے دل میں ہے
لوگ کہتے ہیں کس سے کیا، مت پوچھ تب مجھے بھی نہیں تھی اپنی خبر
جو ہوا اس کو بھول جا مت پوچھ صبر کا میرے امتحاں مت لے
کیا تھی وہ آہِ نارسا مت پوچھ ٹوٹ جائے گا ضبط کا بندھن
ظلم مجھ پر ہیں جو روا، مت پوچھ اپنی وقعت بھی جانتا ہوں مگر
خود فریبی کی انتہا مت پوچھ کہہ دیا جب کہ خوش ہوں تیرے بغیر
مان لے، دل کا مدعا مت پوچھ تابشیں دیکھ شمع کی عاطفؔ
جلنے والوں کا ماجرا مت پوچھ عاطفؔ ملک
جون ۲۰۱۹
محمد تابش صدیقی — جون 23، 2019 7:25 صبح
بہت خوب عاطف بھائی۔
بغیر اجازت تابشیں استعمال کرنے پر مقدمہ ہو سکتا ہے
ساتھ کب تک کوئی چلا مت پوچھ
کس نے کی کس قدر وفا مت پوچھ مختصر یہ کہ ہو گئے آزاد
کون کس سے ہوا رِہا مت پوچھ تھی قیامت مگر گزر ہی گئی
تذکرہ اس کا بارہا مت پوچھ پوچھ مجھ سے جو میرے دل میں ہے
لوگ کہتے ہیں کس سے کیا، مت پوچھ تب مجھے بھی نہیں تھی اپنی خبر
جو ہوا اس کو بھول جا مت پوچھ صبر کا میرے امتحاں مت لے
کیا تھی وہ آہِ نارسا مت پوچھ ٹوٹ جائے گا ضبط کا بندھن
ظلم مجھ پر ہیں جو روا، مت پوچھ اپنی وقعت بھی جانتا ہوں مگر
خود فریبی کی انتہا مت پوچھ کہہ دیا جب کہ خوش ہوں تیرے بغیر
مان لے، دل کا مدعا مت پوچھ تابشیں دیکھ شمع کی عاطفؔ
جلنے والوں کا ماجرا مت پوچھ عاطفؔ ملک
جون ۲۰۱۹
واہ واہ واہ عاطف بھائی! کیا بات ہے اس غزل کی! بہت ہی خوب! مختصر یہ کہ ہو گئے آزاد
کون کس سے ہوا رِہا مت پوچھ
تابشیں دیکھ شمع کی عاطفؔ
جلنے والوں کا ماجرا مت پوچھ اچھے اشعار ہیں ! سلامت رہیئے! زندہ باد!