سب سوالوں کا اک جواب ہے عشق

عظیم — جون 7، 2025 1:22 شام
غزل
سب سوالوں کا اک جواب ہے عشق
پھر بھی سنتے ہیں ہم، "خراب ہے عشق"
بندگی ساتھ ساتھ ہو تو ہے رحم
ورنہ کلفت کوئی، عذاب ہے عشق
ذلتیں، بے خودی، اذیت، موت!
کہنے کو اک حسین خواب ہے عشق
یہ جو خاموشیاں ہیں یوں ہی نہیں
چھپ کے بیٹھا کہیں، جناب! ہے عشق
یعنی پیچھے اسی کے پڑنا ہے
دو جہانوں میں کامیاب ہے عشق
سب سوالوں کا ہے جواب مگر
یہ بھی کہہ دوں کہ لاجواب ہے عشق
بخش دی روشنی اندھیروں میں
میری خاطر تو آفتاب ہے عشق
زندگی جس کے ساتھ ہو گی بسر
یوں لگایا گیا حساب ہے عشق
جانے وہ کون سی تھی نیکی عظیم
جانے کس چیز کا ثواب ہے عشق

×××××​
الف عین — جون 7، 2025 1:32 شام
ماشاء اللہ بہت دن بعد تمہاری غزل پڑھنے کو ملی۔
ایک مشورہ
جانے نیکی وہ کون سی تھی عظیم
عظیم — جون 7، 2025 1:34 شام
ماشاء اللہ بہت دن بعد تمہاری غزل پڑھنے کو ملی۔
ایک مشورہ
جانے نیکی وہ کون سی تھی عظیم
جزاک اللہ خیر بابا
جی بابا آپ کی اصلاح قبول ہے
مریم افتخار — جون 7، 2025 5:28 شام
خوب صورت شراکت۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ!
زیک — جون 7، 2025 5:34 شام
ماشاءاللہ آپ بھی عاشق مزاج لگتے ہیں۔
عظیم — جون 7، 2025 6:14 شام
خوب صورت شراکت۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ!
بہت شکریہ آپ کا
ماشاءاللہ آپ بھی عاشق مزاج لگتے ہیں۔
مجھے تو آپ کو اس زمرہ میں دیکھ کر حیرت ہے!
مریم افتخار — جون 7، 2025 6:26 شام
مجھے تو آپ کو اس زمرہ میں دیکھ کر حیرت ہے!
یہ جانے سے قبل سبھی محفلین پہ یکے بعد دیگرے حیرت کدے کے در وا کرنا چاہتے ہیں اور کامیاب ہیں!
سیما علی — جون 7، 2025 8:28 شام
زندگی جس کے ساتھ ہو گی بسر
یوں لگایا گیا حساب ہے عشق
واہ بہت خوب
عظیم میاں
عظیم — جون 8، 2025 10:06 صبح
واہ بہت خوب
عظیم میاں
بہت شکریہ آپ کا سیما علی بہن!
زیک — جون 9، 2025 3:41 شام
مجھے تو آپ کو اس زمرہ میں دیکھ کر حیرت ہے!
عنوان میں عشق کا ذکر کر کے آپ مجھے کھینچ لائے۔
اے خان کدھر ہو؟
عظیم — جون 9، 2025 3:44 شام
عنوان میں عشق کا ذکر کر کے آپ مجھے کھینچ لائے۔
اے خان کدھر ہو؟
یعنی ثابت ہوا کہ
یہ جو خاموشیاں ہیں یوں ہی نہیں
چھپ کے بیٹھا کہیں، جناب! ہے عشق
؟؟
اے خان — جون 9، 2025 4:55 شام
عنوان میں عشق کا ذکر کر کے آپ مجھے کھینچ لائے۔
اے خان کدھر ہو؟
یہی کہیں
کیسی ہے یہ
چل آ اک ایسی نظم کہوں
جو لفظ کہوں وہ ہو جائے
بس اشک کہوں تو اک آنسو
ترے گورے گال کو دھو جائے
میں آ لکھوں تو آ جائے
میں بیٹھ لکھوں تو آ بیٹھے
مرے شانے پر سر رکھے تو
میں نیند کہوں تو سو جائے
میں کاغذ پر ترے ہونٹ لکھوں
ترے ہونٹوں پر مسکان آئے
میں دل لکھوں تو دل تھامے
میں گم لکھوں دل کھو جائے
ترے ہاتھ بناؤں پنسل سے
پھر ہاتھ پہ تیرے ہاتھ رکھوں
کچھ الٹا سیدھا فرض کروں
کچھ سیدھا الٹا ہو جائے
میں آہ لکھوں تو ہائے کرے
بے چین لکھوں بے چین ہو تو
پھر میں بے چین کا ب کاٹوں
تجھے چین ذرا سا ہو جائے
ابھی ع لکھوں تو سوچے مجھے
پھر شین لکھوں تری نیند اڑے
جب ق لکھوں تجھے کچھ کچھ ہو
میں عشق لکھوں تجھے ہو جائے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B3%D8%A8-%D8%B3%D9%88%D8%A7%D9%84%D9%88%DA%BA-%DA%A9%D8%A7-%D8%A7%DA%A9-%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8-%DB%81%DB%92-%D8%B9%D8%B4%D9%82.121553/