سب کے سر میں جنوں سمایا تھا

ہما حمید ناز — مئی 1، 2015 2:17 شام
حاضرینِ محفل آداب ! ایک پرانی غزل پیشِ خدمت ہے ۔
سب کے سر میں جنوں سمایا تھا
اک دوانے پہ سنگ اٹھایا تھا
بجلیوں سے مجھے شکایت ہے
میں نے کب آشیاں بنایا تھا
اپنے غم پر بھلا میں کب روئی
غم تو میرا سبھی پرایا تھا
رکھ دیا میں نے اپنے اشکوں میں
اک تبسم سے جو بھی پایا تھا
پھر خبر ہی نہیں ملی ا پنی
اسے کچھ دیر کو بھلایا تھا
کچھ تو حالات نے دکھایا عکس
اس نے کچھ آئنہ دکھایا تھا
وہ تو سچ مچ چلا گیا کہیں دور
میں نے بس یونہی آزمایا تھا
اب مجھے یاد ہی نہیں میں نے
پھول زلفوں میں کیوں سجایا تھا
جانے وہ کس نگر میں ہوگا اب
مدتوں پہلے فون آیا تھا
کوبکو جائے گی تری خوشبو
تو نے پروا سے دل لگایا تھا
اس قدر تو کبھی فریبِ وفا
تیرے دل نے ہما نہ کھایا تھا​
نور وجدان — مئی 1، 2015 2:29 شام
بہت خوب ..۔۔
تو نے پروا سے دل لگایا ..یعنی شوق سے .. خوشبو کا شوق سے تعلق سمجھ نہیں آرہا۔۔۔
غزل بہت لاجواب ہے ..دل خوش کردیا
ہما حمید ناز — مئی 1، 2015 3:36 شام
بہت خوب ..۔۔
تو نے پروا سے دل لگایا ..یعنی شوق سے .. خوشبو کا شوق سے تعلق سمجھ نہیں آرہا۔۔۔
غزل بہت لاجواب ہے ..دل خوش کردیا
بہت شکریہ سعدیہ ۔ آپ کو غزل پسند آئی ۔ خوشبو والا شعر دو طرح سے لیا جاسکتا ہے ۔ ایک تو یہ کہ اس میں محبوب سے خطاب ہے اور اپنے دربدر پھرنے کو پُروا سے مشابہت دی گئی ہے ۔ گردشِ حالات ہمیں شہرشہر اور نگر نگر اڑائے پھر رہی ہے اور تری خوشبو ہمارے ساتھ ساتھ چلی جارہی ہے ۔ لیکن اگر اس شعر کو خودکلامی سمجھا جائے تو پھر پُروا اور خوشبو کے استعاروں کی ترتیب معکوس ہوجائے گی ۔ یعنی اب مری داستان ( خوشبو) اس ہرجائی کے سا تھ کوبکو پھیل جائے گی ۔ شاید شعر کچھ مبہم سا رہ گیا ہے ۔
بائی دی وے ۔ آپ کو عموما کیا کہا جاتا ہے ، نور یا سعدیہ ؟ :)
ہما
نور وجدان — مئی 1، 2015 4:25 شام
بہت شکریہ سعدیہ ۔ آپ کو غزل پسند آئی ۔ خوشبو والا شعر دو طرح سے لیا جاسکتا ہے ۔ ایک تو یہ کہ اس میں محبوب سے خطاب ہے اور اپنے دربدر پھرنے کو پُروا سے مشابہت دی گئی ہے ۔ گردشِ حالات ہمیں شہرشہر اور نگر نگر اڑائے پھر رہی ہے اور تری خوشبو ہمارے ساتھ ساتھ چلی جارہی ہے ۔ لیکن اگر اس شعر کو خودکلامی سمجھا جائے تو پھر پُروا اور خوشبو کے استعاروں کی ترتیب معکوس ہوجائے گی ۔ یعنی اب مری داستان ( خوشبو) اس ہرجائی کے سا تھ کوبکو پھیل جائے گی ۔ شاید شعر کچھ مبہم سا رہ گیا ہے ۔
بائی دی وے ۔ آپ کو عموما کیا کہا جاتا ہے ، نور یا سعدیہ ؟ :)
ہما
شعر بہت اچھا ہے بس پیش لگانے سے بات سمجھ آگئ ہے مجھے ..۔۔ بہت اچھے طرز سے وضاحت کی ..۔
میں کبھی کبھی لکھنے کی ٹوٹی پھوٹی کوشش کرنے کی جسارت کرلیتی ہوں ..۔ قلمی نام نور استعمال کرتی ہوں ..۔ نور دل کو اچھا لگتا ہے ..۔ آپ جس نام سے بلانا چاہیں:)
ادب دوست — مئی 1، 2015 5:28 شام
بہت خوب
ادب دوست — مئی 1، 2015 6:49 شام
اب مجھے یاد ہی نہیں میں نے
پھول زلفوں میں کیوں سجایا تھا

ویسے تو تمام اشعار اچھے ہیں مگر خاص طور پر مجھے یہ شعر بہت پسند آیا۔
ہما حمید ناز — مئی 4، 2015 6:52 شام
ویسے تو تمام اشعار اچھے ہیں مگر خاص طور پر مجھے یہ شعر بہت پسند آیا۔
بہت بہت شکریہ ۔ اپنی آئیڈیل پروین شاکرہ کی نقالی کرنے کی کوشش کرتی ہوں ۔ اسی لئے اکشر موضوعات میں نسوانی پہلوؤں کی ترجمانی کو کوشش ہوتی ہے ۔
ہما حمید ناز — مئی 4، 2015 7:01 شام
شعر بہت اچھا ہے بس پیش لگانے سے بات سمجھ آگئ ہے مجھے ..۔۔ بہت اچھے طرز سے وضاحت کی ..۔
میں کبھی کبھی لکھنے کی ٹوٹی پھوٹی کوشش کرنے کی جسارت کرلیتی ہوں ..۔ قلمی نام نور استعمال کرتی ہوں ..۔ نور دل کو اچھا لگتا ہے ..۔ آپ جس نام سے بلانا چاہیں:)
نور خوبصورت قلمی نام ہے ۔ مجھے بھی اچھا لگا ۔
ادب دوست — مئی 8، 2015 11:45 شام
بہت بہت شکریہ ۔ اپنی آئیڈیل پروین شاکرہ کی نقالی کرنے کی کوشش کرتی ہوں ۔ اسی لئے اکشر موضوعات میں نسوانی پہلوؤں کی ترجمانی کو کوشش ہوتی ہے ۔

گھنے درخت کے سائے میں کوئی اور گھنا درخت نہیں اُگتا !!
قرۃالعین اعوان — مئی 8، 2015 11:56 شام
خوب!-:)
جاسمن — مئی 9، 2015 2:52 صبح
بہت خوب! بہت داد۔
محمداحمد — مئی 9، 2015 2:36 شام
سب کے سر میں جنوں سمایا تھا
اک دوانے پہ سنگ اٹھایا تھا
اب مجھے یاد ہی نہیں میں نے
پھول زلفوں میں کیوں سجایا تھا
جانے وہ کس نگر میں ہوگا اب
مدتوں پہلے فون آیا تھا
۔۔۔۔۔۔
واہ !
بہت اچھی غزل ہے۔
داد حاضرِ خدمت ہے۔ :)
ہما حمید ناز — مئی 12، 2015 5:29 شام
گھنے درخت کے سائے میں کوئی اور گھنا درخت نہیں اُگتا !!
بجا کہتے ہیں آپ ۔ لیکن ایک ننھے سے پودے کو تو شروع میں سائے کی ضرورت ہوا ہی کرتی ہے ۔ میری شاعری کا قد جب بڑا ہونا شروع ہوگا تب دیکھا جائے گا ۔:smile-big:
ہما حمید ناز — مئی 12، 2015 5:30 شام
سب کے سر میں جنوں سمایا تھا
اک دوانے پہ سنگ اٹھایا تھا
اب مجھے یاد ہی نہیں میں نے
پھول زلفوں میں کیوں سجایا تھا
جانے وہ کس نگر میں ہوگا اب
مدتوں پہلے فون آیا تھا
۔۔۔۔۔۔
واہ !
بہت اچھی غزل ہے۔
داد حاضرِ خدمت ہے۔ :)
بہت بہت شکریہ احمد بھائی ۔ آپ کی طرف سے داد میرے لئے باعثِ افتخار ہے ۔ بہت نوازش!
عمر سیف — مئی 12، 2015 5:34 شام
خوبصورت شعر ۔۔
اب مجھے یاد ہی نہیں میں نے
پھول زلفوں میں کیوں سجایا تھا

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B3%D8%A8-%DA%A9%DB%92-%D8%B3%D8%B1-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%AC%D9%86%D9%88%DA%BA-%D8%B3%D9%85%D8%A7%DB%8C%D8%A7-%D8%AA%DA%BE%D8%A7.81684/