ستارے سب مرے‘ مہتاب میرے (عمران شناور)

عمران شناور — اکتوبر 2، 2009 6:08 صبح
آج کل محفل جمی ہوئی ہے تو ایک تازہ غزل تمام احباب کی نذر

ستارے سب مرے‘ مہتاب میرے
ابھی مت ٹوٹنا اے خواب میرے
ابھی اڑنا ہے مجھ کو آسماں تک
ہوئے جاتے ہیں پر بے تاب میرے
میں تھک کر گر گیا‘ ٹوٹا نہیں ہوں
بہت مضبوط ہیں اعصاب میرے
ترے آنے پہ بھی بادِ بہاری!
گلستاں کیوں نہیں شاداب میرے
بہت ہی شاد رہتا تھا میں جن میں
وہ لمحے ہو گئے نایاب میرے
ابھی آنکھوں میں طغیانی نہیں ہے
ابھی آئے نہیں سیلاب میرے
سمندر میں ہوا طوفان برپا
سفینے آئے زیرِ آب میرے
تُو اب کے بھی نہیں‌ ڈوبا شناور
بہت حیران ہیں‌ احباب میرے
(عمران شناور)​
الف عین — اکتوبر 2، 2009 6:26 صبح
واہ، ،کیا اچھی غزل ہے عمران۔ مبارک ہو۔ مطلع کی کیا بات ہے!!
عین عین — اکتوبر 2، 2009 6:41 صبح
خوب صورت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہت عمدہ
محمد وارث — اکتوبر 2، 2009 10:17 صبح
بہت خوبصورت غزل ہے عمران صاحب، لاجواب
ستارے سب مرے، مہتاب میرے
ابھی مت ٹوٹنا اے خواب میرے
واہ واہ واہ، لاجواب
فاتح — اکتوبر 2، 2009 12:16 شام
اس انتہائی خوبصورت غزل پر مبارک باد قبول کیجیے۔ مطلع واقعی انتہائی جان دار ہے اور بجا طور پر حاصل غزل قرار دیا جا سکتا ہے۔ سبحان اللہ!
شاہ حسین — اکتوبر 2، 2009 12:42 شام
بہت خوب جناب عمران صاحب عمدہ غزل ہوئی ہے ۔
آصف شفیع — اکتوبر 3، 2009 11:07 صبح
واہ! واہ! عمران صاحب! بہت خوب، نہایت اچھی غزل ہے۔ آپ کی غزلوں میں سے سب سے اچھی غزل ہے۔ خوش رہیئے،
محمداحمد — اکتوبر 3، 2009 11:18 صبح
واہ واہ واہ
عمران بھائی بہت ہی خوبصورت غزل ہے۔ دل خوش ہوگیا پڑھ کر۔ ماشاءاللہ
بہت سی داد ، بہت ساری محبت آپ کے لئے۔ خوش رہیے۔ :flower:
اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ۔
زھرا علوی — اکتوبر 3، 2009 12:12 شام
بہت ہی خوبصورت غزل ہے ماشاءاللہ۔۔۔
بہت سی داد قبول کیجیے۔۔۔۔
سید محمد نقوی — اکتوبر 3، 2009 4:18 شام
آج کل محفل جمی ہوئی ہے تو ایک تازہ غزل تمام احباب کی نذر

ستارے سب مرے‘ مہتاب میرے
ابھی مت ٹوٹنا اے خواب میرے
ابھی اڑنا ہے مجھ کو آسماں تک
ہوئے جاتے ہیں پر بے تاب میرے
میں تھک کر گر گیا‘ ٹوٹا نہیں ہوں
بہت مضبوط ہیں اعصاب میرے
ترے آنے پہ بھی بادِ بہاری!
گلستاں کیوں نہیں شاداب میرے
بہت ہی شاد رہتا تھا میں جن میں
وہ لمحے ہو گئے نایاب میرے
ابھی آنکھوں میں طغیانی نہیں ہے
ابھی آئے نہیں سیلاب میرے
سمندر میں ہوا طوفان برپا
سفینے آئے زیرِ آب میرے
تُو اب کے بھی نہیں‌ ڈوبا شناور
بہت حیران ہیں‌ احباب میرے
(عمران شناور)​

واہ جناب بہت عمدہ غزل ہے، مبارک باد قبول کیجیئے
ش زاد — اکتوبر 3، 2009 7:53 شام
آج کل محفل جمی ہوئی ہے تو ایک تازہ غزل تمام احباب کی نذر

ستارے سب مرے‘ مہتاب میرے
ابھی مت ٹوٹنا اے خواب میرے
ابھی اڑنا ہے مجھ کو آسماں تک
ہوئے جاتے ہیں پر بے تاب میرے
میں تھک کر گر گیا‘ ٹوٹا نہیں ہوں
بہت مضبوط ہیں اعصاب میرے
ترے آنے پہ بھی بادِ بہاری!
گلستاں کیوں نہیں شاداب میرے
بہت ہی شاد رہتا تھا میں جن میں
وہ لمحے ہو گئے نایاب میرے
ابھی آنکھوں میں طغیانی نہیں ہے
ابھی آئے نہیں سیلاب میرے
سمندر میں ہوا طوفان برپا
سفینے آئے زیرِ آب میرے
تُو اب کے بھی نہیں‌ ڈوبا شناور
بہت حیران ہیں‌ احباب میرے
(عمران شناور)​
واہ واہ واہ کیا عمدا کلام ہے آپ کا کلام اور یہ زمین مُجھے تحریک دے رہی یے کہ میں بھی اس میں طبع آزمائی کروں بہت عمدہ غزل ہے بہت سی داد قبول کیجیئے
عمران شناور — اکتوبر 5، 2009 6:08 صبح
جناب الف عین ۔ جناب عین عین ۔ جناب محمد وارث ۔ جناب فاتح ۔ جناب شاہ110 ۔ جناب آصف شفیع ۔ جناب محمد احمد - زھرا علوی صاحبہ ۔ جناب سید محمد نقوی اور جناب ش زاد آپ تمام احباب کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں کہ آپ نے غزل پسند فرمائی۔ آپ سب کا بہت بہت شکریہ
محمداحمد — اکتوبر 5، 2009 7:45 صبح
جناب الف عین ۔ جناب عین عین ۔ جناب محمد وارث ۔ جناب فاتح ۔ جناب شاہ110 ۔ جناب آصف شفیع ۔ جناب محمد احمد - زھرا علوی صاحبہ ۔ جناب سید محمد نقوی اور جناب ش زاد آپ تمام احباب کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں کہ آپ نے غزل پسند فرمائی۔ آپ سب کا بہت بہت شکریہ

چاند کو چاند نہ کہتا تو بھلا کیا کہتا :)
عمران شناور — اکتوبر 8، 2009 11:07 صبح
چاند کو چاند نہ کہتا تو بھلا کیا کہتا :)

ارے بھائی یہ چاند کون ہے
خرم شہزاد خرم — اکتوبر 8، 2009 11:52 شام
ماشاءاللہ واہ واہ بہت خوب عمران بھائی مبارک ہو ایک بار پھر کہوں گا بہت خوش قسمت ہو آپ
محمداحمد — اکتوبر 9، 2009 5:44 صبح
ارے بھائی یہ چاند کون ہے

ارے بھائی یہ چاند آپ کی غزل کا ماہتاب ہے جس نے ہمارا دل موہ لیا ہے۔ لفظ نہیں ملتے تعریف کے لئے بہت عمدہ غزل ہے۔
خوش رہیے۔
عمران شناور — اکتوبر 10، 2009 6:11 صبح
ماشاءاللہ واہ واہ بہت خوب عمران بھائی مبارک ہو ایک بار پھر کہوں گا بہت خوش قسمت ہو آپ

بہت شکریہ خرم شہزاد صاحب۔ یہ آپ کی محبت ہے ورنہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عمران شناور — اکتوبر 10، 2009 6:13 صبح
ارے بھائی یہ چاند آپ کی غزل کا ماہتاب ہے جس نے ہمارا دل موہ لیا ہے۔ لفظ نہیں ملتے تعریف کے لئے بہت عمدہ غزل ہے۔
خوش رہیے۔

(اس چاند کو گرہن لگانے کے لیے دوسری تازہ غزل پوسٹ کر دی ہے۔ ذرا دیکھیے)
ایک بار پھر شکریہ محمد احمد صاحب۔
اشتیاق علی — اکتوبر 10، 2009 6:32 صبح
بہت اچھی غزل ہے ۔ شئیر کرنے کا بہت شکریہ
عمران شناور — اکتوبر 12، 2009 6:26 صبح
بہت اچھی غزل ہے ۔ شئیر کرنے کا بہت شکریہ

بہت شکریہ اشتیاق صاحب
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%92-%D8%B3%D8%A8-%D9%85%D8%B1%DB%92%E2%80%98-%D9%85%DB%81%D8%AA%D8%A7%D8%A8-%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92-%D8%B9%D9%85%D8%B1%D8%A7%D9%86-%D8%B4%D9%86%D8%A7%D9%88%D8%B1.25779/