سر پھوڑ کے مر جائیں؟ سرکار، کدھر جائیں؟

راحیل فاروق — مئی 18، 2016 6:51 شام
لے کر یہ محبت کے آزار کدھر جائیں؟
سر پھوڑ کے مر جائیں؟ سرکار، کدھر جائیں؟
بیٹھیں تو کہاں بیٹھیں اس کوئے ملامت میں؟
اٹھ جائیں تو ہم اہلِ پندار کدھر جائیں؟
مانا کہ مسیحا کو ہیں اور ہزاروں کام
یہ بھی تو کہو کوئی، بیمار کدھر جائیں؟
یہ کرب، یہ سناٹا، یہ رنگ کی ننگی لاش
لالے تو گئے صاحب! گلزار کدھر جائیں؟
اندھوں کو بتا دینا، باہر بھی اندھیرے ہیں
بے فائدہ کیا گھومیں؟ بے کار کدھر جائیں؟
کس اینٹ پہ سر پٹکیں؟ کس در پہ کریں گریہ؟
راحیل ؔ بتا، تیرے غم خوار کدھر جائیں؟
راحیلؔ فاروق​
مشمولہ: زار
سعیدالرحمن سعید — مئی 18، 2016 6:57 شام
بہت خوب راحیل بھائی۔
واہ کیا انقلابی انداز لئے ہے غزل​
فاتح — مئی 18، 2016 7:00 شام
واہ واہ نظمیت سے بھرپور غزل ہے۔ مبارک باد راحیل صاحب
محمد تابش صدیقی — مئی 18، 2016 7:00 شام
واہ، بہت خوب۔
بندہ نام پڑھے بغیر بھی غزل پڑھے تو پتہ چل جائے راحیل بھائی کی ہے۔ منفرد انداز
مانا کہ مسیحا کو ہیں اور ہزاروں کام
یہ بھی تو کہو کوئی، بیمار کدھر جائیں؟

یہ کرب، یہ سناٹا، یہ رنگ کی ننگی لاش
لالے تو گئے صاحب! گلزار کدھر جائیں؟
یاز — مئی 18، 2016 7:15 شام
زبردست جناب۔
کمال کی آمد ہوئی ہے۔
یوسف سلطان — مئی 18، 2016 7:43 شام
بہت عمدہ
محمد خلیل الرحمٰن — مئی 18، 2016 8:03 شام
بہت خوب صورت
سید عاطف علی — مئی 18، 2016 8:11 شام
خوب رنگ جمایاہے راحیل ۔ بہت خوب۔
کاشف اختر — مئی 19، 2016 3:48 صبح
بہت عمدہ غزل ہے! راحیل بھائی واہ واہ
جاسمن — مئی 19، 2016 5:04 صبح
بیٹھیں تو کہاں بیٹھیں اس کوئے ملامت میں؟
اٹھ جائیں تو ہم اہلِ پندار کدھر جائیں؟
حالیہ دھاگے کے "کامیاب"اختتام پہ آمدِ شعر
مانا کہ مسیحا کو ہیں اور ہزاروں کام
یہ بھی تو کہو کوئی، بیمار کدھر جائیں؟
نبیل بھائی اور ابن سعید بھائی کے لئے کہا گیا۔
یہ کرب، یہ سناٹا، یہ رنگ کی ننگی لاش
لالے تو گئے صاحب! گلزار کدھر جائیں؟
شمشاد بھائی ،@جیہ وغیرہ کے لئے۔
بہت ہی پیاری غزل۔ بہت حسین،مہ جبین غزل ہے۔:)
بہت خوبصورت۔
واہ واہ!
دعاؤں بھری داد۔
لاریب مرزا — مئی 19، 2016 6:23 صبح
بہت خوب غزل کہی راحیل فاروق بھائی!!
محمد وارث — مئی 19، 2016 6:37 صبح
خوب غزل ہے جناب، لاجواب۔
محمداحمد — مئی 19، 2016 6:41 صبح
لے کر یہ محبت کے آزار کدھر جائیں؟
سر پھوڑ کے مر جائیں؟ سرکار، کدھر جائیں؟

بیٹھیں تو کہاں بیٹھیں اس کوئے ملامت میں؟
اٹھ جائیں تو ہم اہلِ پندار کدھر جائیں؟

مانا کہ مسیحا کو ہیں اور ہزاروں کام
یہ بھی تو کہو کوئی، بیمار کدھر جائیں؟

اندھوں کو بتا دینا، باہر بھی اندھیرے ہیں
بے فائدہ کیا گھومیں؟ بے کار کدھر جائیں؟

سبحان اللہ !
خوبصورت غزل ہے بھائی۔۔۔!
شاد آباد رہیے۔ :)
الف عین — مئی 19، 2016 7:28 صبح
زار میں شامل میری پسندیدہ غزلوں میں شامل۔ ماشاء اللہ، لا جواب غزل
حسن ترمذی — مئی 19، 2016 7:38 صبح
واہ واہ واہ بہت خوب راحیل بھائی
محمداحمد — مئی 19، 2016 7:42 صبح
حالیہ دھاگے کے "کامیاب"اختتام پہ آمدِ شعر

بیل بھائی اور ابن سعید بھائی کے لئے کہا گیا۔

:) :) :)
الشفاء — مئی 19، 2016 8:43 صبح
بیٹھیں تو کہاں بیٹھیں اس کوئے ملامت میں؟
واہ۔ بہت خوب غزل ۔۔۔:)
ابن سعید — مئی 19، 2016 2:18 شام
خوب است راحیل بھائی۔ :) :) :)
مانا کہ مسیحا کو ہیں اور ہزاروں کام
یہ کرب، یہ سناٹا، یہ رنگ کی ننگی لاش
کیا صرف ہمیں ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ان دونوں مصرعوں میں کچھ تو ایسا ہے جو باقی مصرعوں کے وزن سے کچھ ہٹ کر ہے؟ اور یہ کہ اگر ایسا ہے تو کیا اس بحر میں اس کی اجازت موجود ہے؟ یا ہم سے گنگنانے میں کوئی گڑبڑ ہو رہی ہے؟ :) :) :)
محمد ریحان قریشی — مئی 19، 2016 2:24 شام
خوب است راحیل بھائی۔ :) :) :)
کیا صرف ہمیں ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ان دونوں مصرعوں میں کچھ تو ایسا ہے جو باقی مصرعوں کے وزن سے کچھ ہٹ کر ہے؟ اور یہ کہ اگر ایسا ہے تو کیا اس بحر میں اس کی اجازت موجود ہے؟ یا ہم سے گنگنانے میں کوئی گڑبڑ ہو رہی ہے؟ :) :) :)
مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن ہے بحر۔
دوسرے مصرعے میں روانی کی تھوڑی کمی ہے۔
فاتح — مئی 19، 2016 3:06 شام
خوب است راحیل بھائی۔ :) :) :)
کیا صرف ہمیں ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ان دونوں مصرعوں میں کچھ تو ایسا ہے جو باقی مصرعوں کے وزن سے کچھ ہٹ کر ہے؟ اور یہ کہ اگر ایسا ہے تو کیا اس بحر میں اس کی اجازت موجود ہے؟ یا ہم سے گنگنانے میں کوئی گڑبڑ ہو رہی ہے؟ :) :) :)
ان دونوں مصرعوں میں عمل تسبیغ واقع ہو رہا ہے۔
مفعول مفاعیلن کو مفعول مفاعیلان کرنا جائز ہے
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B3%D8%B1-%D9%BE%DA%BE%D9%88%DA%91-%DA%A9%DB%92-%D9%85%D8%B1-%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA%D8%9F-%D8%B3%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%B1%D8%8C-%DA%A9%D8%AF%DA%BE%D8%B1-%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA%D8%9F.89972/