سلام یا حسین :: گوشۂ چشم جس نے نَم رکھّا :: از : م۔م۔مغل ؔ

مغزل — نومبر 24، 2012 4:30 شام
سلام یا حسین
(غیر روایتی حرفِ چند عقیدت)​
گوشۂ چشم جس نے نَم رکھّا
فرشِ احساس پر قدم رکھّا
دل کے سب نون کردیے آباد
اُس نے جب لوح پر قلم رکھّا
سورۂ عنکبوت پڑھتے ہوئے
یار نے یار کا بھرم رکھّا
گونج اٹھّا ہے خانۂ دل میں
سینۂ عرش پر الم رکھّا
’’لیسَ‘‘ رکھّا ’’کمِثلِ شیئ ‘‘ پر
اور پھر کربلا کا غم رکھّا
آس کا التزام رہنے دیا
آب اور پیاس کو بہم رکھّا
نوکِ نیزہ نے مسکرا کے کہا
خم وہی جس کو حق نے خم رکھّا
اک فرات آنکھ میں اُتر آیا
اور محمود ؔ نے قلم رکھّا
م۔م۔مغل ؔ
الف نظامی — نومبر 24، 2012 4:35 شام
جزاک اللہ۔ بہت خوب!
مغزل — نومبر 24، 2012 4:51 شام
جزاک اللہ۔ بہت خوب!
محض محبت ہے آپ کی نظامی بھیّا سلامت باشید روز بخیر۔۔ اللہ میری ٹوٹی پھوٹی عقیدت کو قبول کرے آمین۔
شعبان نظامی — نومبر 24، 2012 5:05 شام
محض محبت ہے آپ کی نظامی بھیّا سلامت باشید روز بخیر۔۔ اللہ میری ٹوٹی پھوٹی عقیدت کو قبول کرے آمین۔

اللہ تعالیٰ آپ کی عقیدت میں اضافہ فرمائے۔ آمین
نایاب — نومبر 24، 2012 5:16 شام
حق قبول فرمائے اس سلام پرنور کو آمین
سدا خیر ہو مغزل صاحب
بلاشبہ " نقظے " کے " ن" میں " داستان حق " مکمل سمو دی ۔۔۔۔۔​
دل کے سب نون کردیے آباد
اُس نے جب لوح پر قلم رکھّا
الف نظامی — نومبر 24، 2012 5:23 شام
حق قبول فرمائے اس سلام پرنور کو آمین​
سدا خیر ہو مغزل صاحب​
بلاشبہ " نقظے " کے " ن" میں " داستان حق " مکمل سمو دی ۔۔۔ ۔۔​
دل کے سب نون کردیے آباد
اُس نے جب لوح پر قلم رکھّا
نایاب بھائی "نون" کی تشریح کرنے کا بہت شکریہ۔
مغزل — نومبر 24، 2012 5:25 شام
حق قبول فرمائے اس سلام پرنور کو آمین​
سدا خیر ہو مغزل صاحب​
بلاشبہ " نقظے " کے " ن" میں " داستان حق " مکمل سمو دی ۔۔۔ ۔۔​
دل کے سب نون کردیے آباد
اُس نے جب لوح پر قلم رکھّا

جزاک اللہ نایاب بھائی ۔ آمین خدا اس نون کے صدقے ہمیں حسین علیہ السلام کی راہ پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
(ویسے یہ ’’صاحب‘‘ کا لقب ؟؟)
نایاب — نومبر 24، 2012 5:36 شام
جزاک اللہ نایاب بھائی ۔ آمین خدا اس نون کے صدقے ہمیں حسین علیہ السلام نے راہ پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
(ویسے یہ ’’صاحب‘‘ کا لقب ؟؟)
آمین ثم آمین
معذرت میرے محترم بھائی
یہ " صاحب " کا لقب اتنا " عام " کہاں ۔؟
" مدح اہل بیت " سے سرفراز ہونے والا " صدق و امن کے ساتھ حق کا بلاغ " کرتے " سچا صاحب " ہی قرار پاتا ہے ۔
الف نظامی — نومبر 24، 2012 5:40 شام
اک فرات آنکھ میں اُتر آیا
اور محمود ؔ نے قلم رکھّا
الف عین — نومبر 25، 2012 5:50 صبح
بہت خوب محمود، واقعی بہت عمدہ ہے÷
سیدہ شگفتہ — نومبر 25، 2012 5:56 صبح
بہت متاثر کن
ترجمان احساس!
سیدہ شگفتہ — نومبر 25، 2012 5:57 صبح
اک فرات آنکھ میں اُتر آیا
اور محمود ؔ نے قلم رکھّا
گوشۂ چشم جس نے نَم رکھّا
فرشِ احساس پر قدم رکھّا
محمد بلال اعظم — نومبر 25، 2012 1:00 شام
سبحان اللہ​
لاجواب​
بے مثال​
کیا بات ہے آپ کی۔​
اک فرات آنکھ میں اُتر آیا
اور محمود ؔ نے قلم رکھّا
امیداورمحبت — نومبر 25، 2012 3:21 شام
جزاک اللہ۔ بہت خوب!​
محمد وارث — نومبر 26، 2012 7:35 صبح
کیا کہنے محمود صاحب، بہت خوبصورت سلام ہے اور انتہائی متاثر کن، جزاک اللہ برادرم۔
غ۔ن۔غ — دسمبر 2، 2012 3:02 شام
سلام یا حسین
(غیر روایتی حرفِ چند عقیدت)​
گوشۂ چشم جس نے نَم رکھّا
فرشِ احساس پر قدم رکھّا
دل کے سب نون کردیے آباد
اُس نے جب لوح پر قلم رکھّا
سورۂ عنکبوت پڑھتے ہوئے
یار نے یار کا بھرم رکھّا
گونج اٹھّا ہے خانۂ دل میں
سینۂ عرش پر الم رکھّا
’’لیسَ‘‘ رکھّا ’’کمِثلِ شیئ ‘‘ پر
اور پھر کربلا کا غم رکھّا
آس کا التزام رہنے دیا
آب اور پیاس کو بہم رکھّا
نوکِ نیزہ نے مسکرا کے کہا
خم وہی جس کو حق نے خم رکھّا
اک فرات آنکھ میں اُتر آیا
اور محمود ؔ نے قلم رکھّا
م۔م۔مغل ؔ

واہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ۔ ۔ ۔۔۔۔:good:
سبحان اللہ ، ماشاءاللہ ۔ ۔ ۔
بے اختیاری میں بس یہی کلمات زبان پہ آ‎ئے اور جی چاہا کہ یہاں بس یہی لکھ جاؤں ۔ ۔ ۔ ۔
بہت ہی بہترین ۔ ۔ :zabardast1:
بہت ہی اعلی ۔ ۔ ۔
اور مقطع تو بہت ہی بے مثال بہت ہی لاجواب ۔ ۔ ۔۔۔ :good: :great:
عظیم اللہ قریشی — دسمبر 3، 2012 5:52 شام
سینہ عرش پر الم لکھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ذومعنی ہے۔۔۔۔ ال م اور الم ایک کا مطلب غم اور دوسرا تو مقطعات میں سے ہے
نیلم — دسمبر 3، 2012 5:54 شام
ماشاءاللہ ،،بہت خُوب

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85-%DB%8C%D8%A7-%D8%AD%D8%B3%DB%8C%D9%86-%DA%AF%D9%88%D8%B4%DB%82-%DA%86%D8%B4%D9%85-%D8%AC%D8%B3-%D9%86%DB%92-%D9%86%D9%8E%D9%85-%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D9%91%D8%A7-%D8%A7%D8%B2-%D9%85%DB%94%D9%85%DB%94%D9%85%D8%BA%D9%84-%D8%94.56589/