سنگ آئے کہ کوئی پھول ، اٹھا کر رکھئے

ظہیراحمدظہیر — دسمبر 22، 2015 3:19 شام
سنگ آئے کہ کوئی پھول ، اٹھا کر رکھئے
جو ملے نام پر اُس کے وہ سجا کر رکھئے
سجدہء عجز سے بڑھ کر نہیں معراج کوئی
سربلندی ہے یہی سر کو جھکا کر رکھئے
دل پہ اُترا ہوا اک حرفِ محبت نہ مٹے
اسمِ اعظم ہے یہ تعویذ بنا کر رکھئے
گر کے خاشاک ہوا جس میں انا کا شیشم
ہے وہی خاکِ شفا اُس کو اٹھا کر رکھئے
ہم یوں کھلتے نہیں دوچار ملاقاتوں میں
ایک دو روز ہمیں پاس بلا کر رکھئے
۔ ۔۔ ۔ ۔ ۲۰۰۳ ۔۔ ۔ ۔ ۔​
سید عاطف علی — دسمبر 22، 2015 3:28 شام
سجدہء عجز سے بڑھ کر نہیں معراج کوئی
سربلندی ہے یہی سر کو جھکا کر رکھئے
بہت خوب ۔۔۔
محمد تابش صدیقی — دسمبر 22، 2015 5:42 شام
کیا کہنے ظہیر صاحب۔ کیا ہی عمدہ کہا ہے
سجدہء عجز سے بڑھ کر نہیں معراج کوئی
سربلندی ہے یہی سر کو جھکا کر رکھئے
الشفاء — دسمبر 23، 2015 5:10 صبح
واہ۔ سب اشعار لاجواب ہیں۔۔۔
بہت خوب۔۔۔:)
کاشف اختر — دسمبر 23، 2015 12:27 شام
بہت عمدہ ظہیر بھائی واہ واہ​
فاتح — دسمبر 23، 2015 12:40 شام
کیا خوب اشعارنکالے ہیں۔ مزا آ گیا۔ واہ
بہت سی مبارک باد
ظہیراحمدظہیر — دسمبر 23، 2015 6:50 شام
سجدہء عجز سے بڑھ کر نہیں معراج کوئی
سربلندی ہے یہی سر کو جھکا کر رکھئے
بہت خوب ۔۔۔

کیا کہنے ظہیر صاحب۔ کیا ہی عمدہ کہا ہے

بہت عمدہ ظہیر بھائی واہ واہ​

کیا خوب اشعارنکالے ہیں۔ مزا آ گیا۔ واہ
بہت سی مبارک باد

نوازش! بہت بہت شکریہ ! بہت ممنون ہوں آپ تمام صاحبانِ ذوق کا ! خدا آپ سب کو سلامتی میں رکھے !

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B3%D9%86%DA%AF-%D8%A2%D8%A6%DB%92-%DA%A9%DB%81-%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C-%D9%BE%DA%BE%D9%88%D9%84-%D8%8C-%D8%A7%D9%B9%DA%BE%D8%A7-%DA%A9%D8%B1-%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%A6%DB%92.86587/