سوائے تیرے بھلا کیا ہے اور میرے پاس

امان زرگر — جنوری 3، 2019 5:19 صبح
۔۔۔۔
یہ سوچنے کو ہیں کتنے ہی طور میرے پاس
کہ جز تمہارے بھلا کیا ہے اور میرے پاس
وہ تیرے پاس جو پہنچے تو خود کو بھول گئے
جو کائنات میں کرتے تھے غور میرے پاس
وہ آج بزم میں بیٹھے ہیں میرے پہلو میں
رکا ہے جام و سبو کا بھی دور میرے پاس
ہے میرے پاس یہ ساری زمیں جفا پرور
یہ آسماں بھی ہے مائل بہ جور میرے پاس
میں وقفِ تلخئِ آلام ہو گیا ہوں یہاں
یہ زندگی ہے سزا کے بطور میرے پاس
میں سر نگوں جبلِ ثور عرش کا ہم سر
یہ میرا فخر کہ ہے غارِ ثور میرے پاس
ہیں محو سوچ سے زرگر وہ قصہ ہائے جنوں
بِنائے عشقِ جدید اب ہے اور میرے پاس
امان زرگر
امان زرگر — جنوری 4، 2019 9:52 صبح
اس غزل کو مزید بہتری کے بعد جلد ہی نئی لڑی میں ارسال کرتا ہوں۔ کیونکہ تدوین کی اجازت میسر نہیں ہے یہاں۔
محمد تابش صدیقی — جنوری 4، 2019 10:05 صبح
یہیں کمنٹ کر دیجیے گا۔ تدوین کر دی جائے گی۔
شکیل احمد خان23 — جنوری 4، 2019 10:07 صبح
جناب اِ س خوبصورت غزل پر تبصرے کے ساتھ مشورے کی اجازت ہے؟
امان زرگر — جنوری 4، 2019 11:58 صبح
جناب اِ س خوبصورت غزل پر تبصرے کے ساتھ مشورے کی اجازت ہے؟
جی بالکل۔۔۔
شکیل احمد خان23 — جنوری 4، 2019 12:38 شام
بہت شکریہ،بڑی نوازش!
شکیل احمد خان23 — جنوری 4، 2019 2:24 شام
yd6xPZ4.jpg
امان زرگر — جنوری 5، 2019 5:13 صبح
کرم نوازی پر شکر گزار ہوں۔ لیکن اس غزل میں بہت سی تبدیلیاں کر چکا ہوں۔ جلد ہی نئی شکل خدمت میں پیش کرتا ہوں۔
شکیل احمد خان23 — جنوری 5، 2019 6:20 صبح
یقیناً خوب سے خوب تر کی سعی آپ کے فنپارہ کو شہپارہ بنادے گی، انشاء اللہ!
ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں۔۔۔۔۔۔اب ٹھہرتی ہے دیکھئے جاکر نظر کہاں
یادفرمائی کا شکریہ۔
امان زرگر — جنوری 5، 2019 10:25 صبح
سر محمد تابش صدیقی
اصل مراسلے اور لڑی کے عنوان میں تدوین کی درخواست ہے۔ میں معذرت خواہ ہوں کہ اس غزل کو پوسٹ کرنے میں جلد بازی سے کام لیا تھا۔
۔۔۔۔
یہ سوچنے کو ہیں کتنے ہی طور میرے پاس
کہ جز تمہارے بھلا کیا ہے اور میرے پاس
وہ تیرے پاس جو پہنچے تو خود کو بھول گئے
جو کائنات میں کرتے تھے غور میرے پاس
وہ آج بزم میں بیٹھے ہیں میرے پہلو میں
رکا ہے جام و سبو کا بھی دور میرے پاس
ہے میرے پاس یہ ساری زمیں جفا پرور
یہ آسماں بھی ہے مائل بہ جور میرے پاس
میں وقفِ تلخئِ آلام ہو گیا ہوں یہاں
یہ زندگی ہے سزا کے بطور میرے پاس
میں سر نگوں جبلِ ثور عرش کا ہم سر
یہ میرا فخر کہ ہے غارِ ثور میرے پاس
ہیں محو سوچ سے زرگر وہ قصہ ہائے جنوں
بِنائے عشقِ جدید اب ہے اور میرے پاس
امان زرگر
شکیل احمد خان23 — جنوری 5، 2019 10:50 صبح
ترمیم کے بعدغزل اور نکھر گئی ہے،ماشاء اللہ!
اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ!
امان زرگر — جنوری 5، 2019 10:54 صبح
ترمیم کے بعدغزل اور نکھر گئی ہے،ماشاء اللہ!
اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ!
شکر گزار ہوں۔۔
امان زرگر — جنوری 5، 2019 1:16 شام
سر الف عین
سر محمد ریحان قریشی
الف عین — جنوری 6، 2019 5:16 صبح
درست ہیں اشعار ماشاء اللہ
سفیر آفریدی — جنوری 6، 2019 5:24 صبح
آداب صبح کی سلوٹیں
جفاوں پہ جفاوں کی ساری خدائی رو رہی ہے
آشرف المخلوقات صبح کے غم رات کو نکهارتے ہیں ابھی ساری خدائی چیختے چیختے نہ جانے کیا کیا سوچتے اور کرتے مگن دنیا کے خیال کی تقاضوں سے ہم آہنگ بہتر خود کو تصور کرتے ہیں
حیرت ہے جیسے بیکاری کوئی کام ہی نہ ہو
سفیر آفریدی — جنوری 6، 2019 5:27 صبح
کہ جز بهلا کیا ہے اور میرے پاس
تلخی گهبراہٹ نقطے کئ غور میرے پاس
سفیر آفریدی — جنوری 6، 2019 5:29 صبح
ہے میرے پاس ساری زمین جفا پرور
سفیر آفریدی — جنوری 6، 2019 5:30 صبح
تهے جنون دل کے پیار اور شور میرے پاس
امان زرگر — جنوری 8، 2019 2:49 شام
آداب صبح کی سلوٹیں
جفاوں پہ جفاوں کی ساری خدائی رو رہی ہے
آشرف المخلوقات صبح کے غم رات کو نکهارتے ہیں ابھی ساری خدائی چیختے چیختے نہ جانے کیا کیا سوچتے اور کرتے مگن دنیا کے خیال کی تقاضوں سے ہم آہنگ بہتر خود کو تصور کرتے ہیں
حیرت ہے جیسے بیکاری کوئی کام ہی نہ ہو
ماشاء اللہ خود کلامی خوب کرتے ہیں آپ۔۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B3%D9%88%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92-%D8%A8%DA%BE%D9%84%D8%A7-%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%DB%81%DB%92-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92-%D9%BE%D8%A7%D8%B3.104923/