سوز جب دل میں نہیں آہ بھی دلگیر نہیں

زرقا مفتی — اگست 28، 2007 8:03 شام
اہلِ بزم
تسلیمات
اپنی ایک پرانی غزل پیش کر رہی ہوں آپ سب کی آرا کا انتظار رہے گا
والسلام
زرقا مفتی
سوز جب دل میں نہیں آہ بھی دلگیر نہیں
کیا عجب ہے کہ ترے نالوں میں تاثیر نہیں
سوچ پہروں میں ہے گو پائوں میں زنجیر نہیں
بے بسی اپنی مگر لائقِ تشہیر نہیں
دل پہ ناکام امیدوں کے اندھیرے چھائے
بجھ گئی آرزو اور آس کی تنویر نہیں
غمِ فرقت میں تری یاد کے پہرےکے تلے
قیدِ تہائی سے بڈھ کر کوئی تعزیر نہیں
اک حسیں شہرکو خوابوں سے تھاآباد کیا
اب مرے نام وھاں کوئی بھی جاگیر نہیں
کیوں خطا کار ہوئے جو رہِ اُلفت پہ چلے
کیا محبت سے بڑی دہر میں تقصیر نہیں
بخوشی موت کے پہلو میں بھی سو جاتے مگر
موت بیمادیء دل کے لئے اکسیر نہیں
ظلم کی چکی میں ہم پستے رہیں صدیوں تک
لوحِ محفوظ پہ ایسی کوئی تحریر نہیں
فاتح — اگست 28، 2007 9:26 شام
سبحان اللہ! واہ واہ واہ!
بہت خوب زرقا صاحبہ۔ ذیل کے اشعار خصوصاً انتہائی خوبصورت مضامین کو باندھے ہوئے ہیں۔
سوز جب دل میں نہیں آہ بھی دلگیر نہیں
کیا عجب ہے کہ ترے نالوں میں تاثیر نہیں
سوچ پہروں میں ہے گو پائوں میں زنجیر نہیں
بے بسی اپنی مگر لائقِ تشہیر نہیں
خوبصورت تخیل کو نظم کیا ہے۔ لطف آ گیا۔
ذیل کے مصرع پر باعتبارِ وزن نظرِ ثانی کی ضرورت ہے:
کیوں خطا کار ہوئے رہِ اُلفت پہ جو چلے

اور مصرع ھٰذا میں "شہر" کی ہ متحرک ہے جو غلط تلفظ ہے:
اک شہر اپنے حسیں خوابوں سے آباد کیا
زرقا مفتی — اگست 29، 2007 6:03 صبح
فاتح صاحب
غزل کی پذیرائی کے لئے آپ کی ممنون ہوں
ایک دو جگہ ٹائپنگ کی غلطیاں رہ گئیں تھیں اب درست کر دیں ہیں
نشاندھی کے لئے شکریہ
والسلام
زرقا مفتی
محمد وارث — اگست 30، 2007 6:20 صبح
سوز جب دل میں نہیں آہ بھی دلگیر نہیں
کیا عجب ہے کہ ترے نالوں میں تاثیر نہیں
بخوشی موت کے پہلو میں بھی سو جاتے مگر
موت بیمادیء دل کے لئے اکسیر نہیں
ظلم کی چکی میں ہم پستے رہیں صدیوں تک
لوحِ محفوظ پہ ایسی کوئی تحریر نہیں

واہ واہ، سبحان اللہ۔
بہت زبردست شاعری ہے، لاجواب۔ اور اس غزل میں جو بات مجھے سب سے اچھی لگی ہے وہ خیالات کا تنوع اور سوچ کی پختگی ہے۔ سبحان اللہ۔
اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ۔
ابوشامل — اگست 30، 2007 6:27 صبح
بہت خوبصورت خیالات پیش کیے ہیں آپ نے! لاجواب
الف عین — اگست 30، 2007 6:29 صبح
اچھی غزل ہے زرقا۔ میں سمجھا تھا کہ محض افسانے ہی لکھتی ہیں۔
زرقا مفتی — ستمبر 1، 2007 6:20 صبح

واہ واہ، سبحان اللہ۔
بہت زبردست شاعری ہے، لاجواب۔ اور اس غزل میں جو بات مجھے سب سے اچھی لگی ہے وہ خیالات کا تنوع اور سوچ کی پختگی ہے۔ سبحان اللہ۔
اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ۔
وارث صاحب
غزل کی پذیرائی کے لئے آپ کی ممنون ہوں
آپ کی دعا کے لئے بھی شکریہ
والسلام
زرقا
زرقا مفتی — ستمبر 1، 2007 6:30 صبح
بہت خوبصورت خیالات پیش کیے ہیں آپ نے! لاجواب
شکریہ ابو شامل صاحب
زرقا مفتی — ستمبر 1، 2007 6:34 صبح
اچھی غزل ہے زرقا۔ میں سمجھا تھا کہ محض افسانے ہی لکھتی ہیں۔
شکریہ اعجاز صاحب
ادب کے اعتبار سے میری پہلی محبت تو شاعری سے ہے لیکن کہانی، کالم اور انشائیہ لکھنے کی بھی کوشش کرتی ہوں
والسلام
زرقا
طاہر — ستمبر 27، 2007 10:55 صبح
اک حسیں شہرکو خوابوں سے تھاآباد کیا
اب مرے نام وھاں کوئی بھی جاگیر نہیں
واہ واہ کیا بات ہے جناب زبردست۔۔۔۔۔۔
shayar777 — اکتوبر 6، 2007 9:33 صبح
کچھ مسرت مزید ھو جائے
اس بہانے سے عید ھو جائے
عید ملنے جو آپ آ جائیں
ہماری بھی عید عید ھو جائے
شاکرالقادری — اکتوبر 27، 2007 10:32 شام
سوز جب دل میں نہیں آہ بھی دلگیر نہیں
کیا عجب ہے کہ ترے نالوں میں تاثیر نہیں

ماشاء اللہ بہت خوب پوري غزل ميں مجموعي طور پر رواني تسلسل اور مضامين کا تنوع قابل داد ہے فاتح بھائي نے خوب نشاندہي فرمائي ہے
ميں يہاں مطلع کے مصرع ثاني ميں " کيا عجب ہے" کے استعمال اور اس کے معاني کي درست تفہيم کے ليے مصرع ميں تھاڑا سا تصرف کر رہا ہوں اور يہ صرف اس ليے کہ اس "کيا عجب ہے" کے اکثر و بيشتر استعمال کے متعلق اہل بزم جان سکيں ورنہ غزل ميں تو اسے رديوف قافيہ کي پابندي کي وجہ سے اپني مجودہ صورت ميں ہي رہنا ہے
وہ تصرف کچھ اس طرح ہے
کیا عجب ہے کہ ترے نالوں میں تاثیر نہ ہو
اس " کيا عجب" کا فارسي کے مصرع ميں استعمال ديکھيے
شاہاں چہ عجب گر بنوازند گدارا
يعني بادشاہوں کے ليے يہ بات عجيب نہيں کہ وہ کسي گدا کو نواز ديں
اردو ميں بھي اسے عموما اسي مفہوم ميں استعمال کيا جاتا ہے
جاسمن — اکتوبر 10، 2017 1:52 شام
بہت خوب!
توقیر عالم — اکتوبر 10، 2017 2:48 شام
واہ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B3%D9%88%D8%B2-%D8%AC%D8%A8-%D8%AF%D9%84-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D8%A2%DB%81-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D8%AF%D9%84%DA%AF%DB%8C%D8%B1-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA.8153/