سپنے دیکھو، پَر اپنے دیکھو

نوید رزاق بٹ — جنوری 7، 2014 4:08 شام
ایک کرکٹ میچ کے دوران غالبا کسی موٹر سائیکل کے اشتہار میں بار بار یہ جملہ آرہا تھا 'سپنے دیکھو!'۔ خیال آیا کہ مشورہ تو اچھا ہے، مگر شاید نامکمل ہے، کہ سپنے بھی اپنے ہی دیکھنے چاہیئیں، نہ کہ دوسروں کے دکھائے ہوئے یا ادھار لیے ہوئے۔

سپنے دیکھو
پَر اپنے دیکھو
گھر گھر کی چھوڑو
گھر اپنے دیکھو
جھکنے نہ پائیں
سر اپنے، دیکھو
اشکوں سے سینچو
تھر اپنے دیکھو
افلاک تمھارے
پر اپنے دیکھو

(نوید رزاق بٹ)​
محمداحمد — جنوری 8، 2014 1:14 شام
بہت خوب نوید رزاق صاحب،
اتنی چھوٹی بحر میں شعر کہنا بڑا مشکل کام ہے۔
نوید رزاق بٹ — جنوری 8، 2014 8:11 شام
بہت خوب نوید رزاق صاحب،
اتنی چھوٹی بحر میں شعر کہنا بڑا مشکل کام ہے۔

بہت شکریہ :)
شمشاد — جنوری 8، 2014 8:44 شام
بہت خوب جناب
بہت داد قبول فرمائیں۔
نوید رزاق بٹ — جنوری 8، 2014 9:11 شام
بہت خوب جناب
بہت داد قبول فرمائیں۔

بہت شکریہ شمشاد بھائی :)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B3%D9%BE%D9%86%DB%92-%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%88%D8%8C-%D9%BE%D9%8E%D8%B1-%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92-%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%88.70972/