سڑک بننے میں برگد کٹ گیا ہے ۔۔۔

بشارت گیلانی — فروری 12، 2014 5:25 شام
سکوں اب گاؤں میں بھی گھٹ گیا ہے۔
سڑک بننے میں برگد کٹ گیا ہے۔
٭٭٭
اسے فرصت کہاں جو خود کو ڈھونڈے۔
وہ گھر والوں میں ایسے بٹ گیا ہے۔
٭٭٭
اب ہر منزل پہ خود کو دیکھتا ہوں۔
حجاب آخر نظر سے ہٹ گیا ہے۔
٭٭٭
یہ کس کا نام لے کر چل پڑے تھے۔
زمانہ راستوں میں کٹ گیا ہے۔
٭٭٭
میں اپنے سامنے کیا آ رکا ہوں۔
کوئی بادل سا جیسے چھٹ گیا ہے۔
٭٭٭
سفر کی اور اب کیا ہو نشانی۔
یہ سر جو کہکشاں سے اٹ گیا ہے۔
محمد اسامہ سَرسَری — فروری 12، 2014 6:10 شام
واہ بہت خوب۔۔۔۔
بشارت گیلانی — فروری 12، 2014 7:31 شام
شکریہ جناب۔ ذرہ نوازی ہے۔ دعاوں میں یاد رکھئے۔
حاتم راجپوت — فروری 12، 2014 7:44 شام
زبردست جناب۔۔۔ عنوان نے ہی دل لوٹ لیا۔۔۔
سڑک بننے میں برگد کٹ گیا ہے۔۔۔ واہ بہت خوب۔۔ :)
سید عاطف علی — فروری 12، 2014 7:59 شام
واہ بہت اچھا۔
اب ہر منزل پہ خود کو دیکھتا ہوں۔
حجاب آخر نظر سے ہٹ گیا ہے۔
یہاں اب کا ب درست نہیں ہر کے ہ سے مل کر ھ کی طرح بگڑ سارہا ہے۔ جیسے ۔ابھر۔ اسے درست کر نا چاہیے۔
الف عین — فروری 13، 2014 3:16 صبح
عاطف کی بات پر غور کریں، باقی خوب غزل ہے۔
عمر سیف — فروری 13، 2014 4:13 صبح
خوب
بشارت گیلانی — مارچ 23، 2014 12:34 شام
بڑی عنایت حضرات۔ سید عاطف صاحب کا مشورہ بہت مناسب ہے۔ جواب میں تاخیر کی معذرت چاہتا ہوں۔ مصروفات کچھ غیر معمولی طور پر زیادہ تھیں۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B3%DA%91%DA%A9-%D8%A8%D9%86%D9%86%DB%92-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A8%D8%B1%DA%AF%D8%AF-%DA%A9%D9%B9-%DA%AF%DB%8C%D8%A7-%DB%81%DB%92-%DB%94%DB%94%DB%94.72064/