بڑی بڑی دو سیاہ آنکھیں
تمہارے چہرے میں کھو گئی ہیں
یہ چاہتی ہیں کہ اب عبادت
صبح ہو یا شام ہو مگر ہو
تمہارا چہرہ، تمہارا چہرہ
جو نیلگوں لہر میں ڈبودے
مجھے ڈبودے۔ ۔ ۔
مجھے ڈبودے۔ ۔ ۔ ۔
مرے بدن کے تمام کانٹے۔ ۔ ۔
چنے۔ ۔ ۔
اور اپنے بھی پاؤں رکھ دے
وفا کے ٹھنڈے سے پانیوں میں
محبتوں کی روانیوں میں
بڑی بڑی دو سیاہ آنکھیں
تمہارے چہرے میں۔ ۔ ۔
کھوگئی ہیں !!!
نیناں
۔
تمہارے چہرے میں کھو گئی ہیں
یہ چاہتی ہیں کہ اب عبادت
صبح ہو یا شام ہو مگر ہو
تمہارا چہرہ، تمہارا چہرہ
جو نیلگوں لہر میں ڈبودے
مجھے ڈبودے۔ ۔ ۔
مجھے ڈبودے۔ ۔ ۔ ۔
مرے بدن کے تمام کانٹے۔ ۔ ۔
چنے۔ ۔ ۔
اور اپنے بھی پاؤں رکھ دے
وفا کے ٹھنڈے سے پانیوں میں
محبتوں کی روانیوں میں
بڑی بڑی دو سیاہ آنکھیں
تمہارے چہرے میں۔ ۔ ۔
کھوگئی ہیں !!!
نیناں
۔