سیدھا پہن لیا کبھی اُلٹا پہن لیا - عُمر سیف

عمر سیف — جنوری 1، 2017 3:25 شام
بیدل حیدری کی زمین پہ کہی ایک غزل پیشِ خدمت ہے۔ اُمید کرتا ہوں کہ آپ احباب کو پسند آئے گی۔

سیدھا پہن لیا کبھی اُلٹا پہن لیا
اُترا جو اک نقاب تو دُوجا پہن لیا
پِھرتا رہا ہُجوم کی رعنائیوں سے دور
تَن پر اُداسیوں کا لبادہ پہن لیا
صحرا بنا تو پیاس کی چادر لپیٹ لی
گرمی لگی تو اَبر کا سایہ پہن لیا
جینے کی راہ چھوڑ کر آگے نکل گیا
مرنے لگا تو موت کا رستہ پہن لیا
مجھ کو پکارتی رہیں رستے کی گردشیں
پیروں میں گردباد کا جوتا پہن لیا
بیٹھا تمام شب میں یہی سوچتا رہا
کیوں اس لباس زیست کو الٹا پہن لیا
اپنی بیاضِ زندگی پڑھ کر سُنا عُمر
لفظوں نے اضطراب کا چولا پہن لیا
________________عُمر سیف
اے خان — جنوری 1، 2017 3:41 شام
بہت خوب
Smiss Jaan Saalis — جنوری 1، 2017 3:53 شام
بیدل حیدری کی زمین پہ کہی ایک غزل پیشِ خدمت ہے۔ اُمید کرتا ہوں کہ آپ احباب کو پسند آئے گی۔

سیدھا پہن لیا کبھی اُلٹا پہن لیا
اُترا جو اک نقاب تو دُوجا پہن لیا
پِھرتا رہا ہُجوم کی رعنائیوں سے دور
تَن پر اُداسیوں کا لبادہ پہن لیا
صحرا بنا تو پیاس کی چادر لپیٹ لی
گرمی لگی تو اَبر کا سایہ پہن لیا
جینے کی راہ چھوڑ کر آگے نکل گیا
مرنے لگا تو موت کا رستہ پہن لیا
مجھ کو پکارتی رہیں رستے کی گردشیں
پیروں میں گردباد کا جوتا پہن لیا
بیٹھا تمام شب میں یہی سوچتا رہا
کیوں اس لباس زیست کو الٹا پہن لیا
اپنی بیاضِ زندگی پڑھ کر سُنا عُمر
لفظوں نے اضطراب کا چولا پہن لیا
________________عُمر سیف
Bohat he umda.
Smiss Jaan Saalis — جنوری 1، 2017 3:55 شام
ﺑﮩﺖ ﺧﻮﺏ
فاتح — جنوری 1، 2017 3:56 شام
بیدل حیدری کی زمین پہ کہی ایک غزل پیشِ خدمت ہے۔ اُمید کرتا ہوں کہ آپ احباب کو پسند آئے گی۔

سیدھا پہن لیا کبھی اُلٹا پہن لیا
اُترا جو اک نقاب تو دُوجا پہن لیا
پِھرتا رہا ہُجوم کی رعنائیوں سے دور
تَن پر اُداسیوں کا لبادہ پہن لیا
صحرا بنا تو پیاس کی چادر لپیٹ لی
گرمی لگی تو اَبر کا سایہ پہن لیا
جینے کی راہ چھوڑ کر آگے نکل گیا
مرنے لگا تو موت کا رستہ پہن لیا
مجھ کو پکارتی رہیں رستے کی گردشیں
پیروں میں گردباد کا جوتا پہن لیا
بیٹھا تمام شب میں یہی سوچتا رہا
کیوں اس لباس زیست کو الٹا پہن لیا
اپنی بیاضِ زندگی پڑھ کر سُنا عُمر
لفظوں نے اضطراب کا چولا پہن لیا
________________عُمر سیف
واہ واہ آپ تو کمال پر کمال کیے جا رہے ہیں۔ اتنی مشکل ردیف چنی آپ نے اس پر آپ کے حوصلے کو سلام۔
پہلا مصرع "سیدھا پہن لیا کبھی اُلٹا پہن لیا" سرخ کیوں ہے؟
Smiss Jaan Saalis — جنوری 1، 2017 4:04 شام
مولوی رومی کی غزل کا ایک شعر۔
دی شیخ با چراغ ہمی گشت گردِ شہر
کز دیو و دد ملولم و انسانم آرزوست


کل (ایک) شیخ چراغ لیئے سارے شہر کے گرد گھوما کیا (اور کہتا رہا) کہ میں شیطانوں اور درندوں سے ملول ہوں اور کسی انسان کا آزرو مند ہوں۔

دی - گزرا ہوا کل
کز - کہ از کا مخفف
دد - درندہ

واہ واہ آپ تو کمال پر کمال کیے جا رہے ہیں۔ اتنی مشکل ردیف چنی آپ نے اس پر آپ کے حوصلے کو سلام۔
پہلا مصرع "سیدھا پہن لیا کبھی اُلٹا پہن لیا" سرخ کیوں ہے؟
wo asal me use smj ni ata k kya kre q k kbi sidha pehn raha h or kbi ulta
La Alma — جنوری 1، 2017 4:11 شام
مجھ کو پکارتی رہیں رستے کی گردشیں
پیروں میں گردباد کا جوتا پہن لیا
بیٹھا تمام شب میں یہی سوچتا رہا
کیوں اس لباس زیست کو الٹا پہن لیا
اپنی بیاضِ زندگی پڑھ کر سُنا عُمر
لفظوں نے اضطراب کا چولا پہن لیا
بہت اعلیٰ .
غدیر زھرا — جنوری 1، 2017 4:27 شام
کیا کہنے عمر لالہ بہت عمدہ :)
محمد بلال اعظم — جنوری 1، 2017 4:48 شام
پِھرتا رہا ہُجوم کی رعنائیوں سے دور
تَن پر اُداسیوں کا لبادہ پہن لیا
صحرا بنا تو پیاس کی چادر لپیٹ لی
گرمی لگی تو اَبر کا سایہ پہن لیا
جینے کی راہ چھوڑ کر آگے نکل گیا
مرنے لگا تو موت کا رستہ پہن لیا
مجھ کو پکارتی رہیں رستے کی گردشیں
پیروں میں گردباد کا جوتا پہن لیا
واہ عمر بھائی
ایک کے بعد ایک بہترین کلام
بالا اشعار نے بہت لطف دیا
بہت سی داد
محمد تابش صدیقی — جنوری 1، 2017 4:56 شام
بہت عمدہ عمر بھائی.
صحرا بنا تو پیاس کی چادر لپیٹ لی
گرمی لگی تو اَبر کا سایہ پہن لیا
ابن رضا — جنوری 1، 2017 5:09 شام
بہت خوب، واہ واہ
بھلکڑ — جنوری 1، 2017 5:17 شام
:) :)
ڈاکوں کی وارداتیں تیز کرنی پڑیں گی :)
ہادیہ — جنوری 1، 2017 5:23 شام
زبردست لاجواب۔۔۔
عمر سیف — جنوری 1، 2017 6:26 شام



کیا کہنے عمر لالہ بہت عمدہ :)

بہت عمدہ عمر بھائی.


:) :)
ڈاکوں کی وارداتیں تیز کرنی پڑیں گی :)


فردا فردا سب کا بہت شکریہ ۔ بہت خوش ہوں کہ آپ سب کو پسند آیا
عمر سیف — جنوری 1، 2017 6:29 شام
واہ واہ آپ تو کمال پر کمال کیے جا رہے ہیں۔ اتنی مشکل ردیف چنی آپ نے اس پر آپ کے حوصلے کو سلام۔
پہلا مصرع "سیدھا پہن لیا کبھی اُلٹا پہن لیا" سرخ کیوں ہے؟
شکریہ فاتح بھائی۔ آپ کی طرف سے داد ملی بہت خوشی ہے۔ لال اس لیے تھا کہ غزل کا پہلا مصرع تھا جیسے سکول کالج میں بولڈ اور کسی مارکر سے ہیڈ لائن لکھی جاتے ہے اس لیے رنگ دے دیا۔
wo asal me use smj ni ata k kya kre q k kbi sidha pehn raha h or kbi ulta
آپ یہ دیکھیں وہ پہن رہا ہے،عریاں نہیں ہے۔
پِھرتا رہا ہُجوم کی رعنائیوں سے دور
تَن پر اُداسیوں کا لبادہ پہن لیا
صحرا بنا تو پیاس کی چادر لپیٹ لی
گرمی لگی تو اَبر کا سایہ پہن لیا
جینے کی راہ چھوڑ کر آگے نکل گیا
مرنے لگا تو موت کا رستہ پہن لیا
مجھ کو پکارتی رہیں رستے کی گردشیں
پیروں میں گردباد کا جوتا پہن لیا
واہ عمر بھائی
ایک کے بعد ایک بہترین کلام
بالا اشعار نے بہت لطف دیا
بہت سی داد
منے بہت شکریہ تمھیں پسند آیا۔
یوسف سلطان — جنوری 1، 2017 7:44 شام
بہت عمدہ
کاشفی — جنوری 1، 2017 7:58 شام
واہ بہت ہی خوب۔۔ آپ شاعر بھی ہیں مجھے معلوم نہیں تھا۔۔۔خوش رہیئے۔
اپنا دیوان عنایت کیجئے۔۔عمر سیف بھائی۔۔
عمر سیف — جنوری 1، 2017 9:07 شام
شکریہ یوسف
واہ بہت ہی خوب۔۔ آپ شاعر بھی ہیں مجھے معلوم نہیں تھا۔۔۔خوش رہیئے۔
اپنا دیوان عنایت کیجئے۔۔عمر سیف بھائی۔۔
بہت نوازش۔۔ ابھی دیوان کہاں چند غزلیں نظمیں کہہ رکھی ہیں۔ محفل پہ موجود ہیں اسی زمرے میں۔ یا میرے فیسبک پیج پر
ظفری — جنوری 2، 2017 2:00 صبح
بہت ہی زبردست، بہت ہی اعلی ۔ :thumbsup:
عمر سیف — جنوری 2، 2017 4:05 صبح
بہت ہی زبردست، بہت ہی اعلی ۔ :thumbsup:
شکریہ ظفری بھائی
صفحات: 1 2 3

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B3%DB%8C%D8%AF%DA%BE%D8%A7-%D9%BE%DB%81%D9%86-%D9%84%DB%8C%D8%A7-%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D8%A7%D9%8F%D9%84%D9%B9%D8%A7-%D9%BE%DB%81%D9%86-%D9%84%DB%8C%D8%A7-%D8%B9%D9%8F%D9%85%D8%B1-%D8%B3%DB%8C%D9%81.93903/