سیلاب ، بھوک، پیاس

انیس فاروقی — اگست 13، 2010 3:16 شام
ہفت روزہ جنگ کینیڈا میں شائع ہونے والا قطعہ
لہر در لہر یہ کیسا ہے اثر پانی میں
ہو گئے غرق مرے لعل و گہر پانی میں
چار سُو ایک سمندر ہے مگر لب تشنہ
" بوند پانی کی نہیں آتی نظر پانی میں"
(میرتقی میر کی زمین میں)
انیس فاروقی
فیس بک پر رائے دینے کے لئے براہ مہربانی یہاں کلک کریں
الف عین — اگست 13، 2010 3:55 شام
اچھا قطعہ ہے انیس، پہلا مصرع میں ’موج در موج‘ ہونا تھا، لہر ہندی ہے، اس کی ’در‘ کے ساتھ ترکیب نہیں بنتی
زیف سید — اگست 13، 2010 5:32 شام
اس پر انگریز شاعر ایس ٹی کولرج کی نظم ‘رائم آف دی اینشنٹ مرینر‘ کا بند یاد آتا ہے
Water, water, everywhere
And all the boards did shrink
Water, water, everywhere
Nor any drop to drink
زیف

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B3%DB%8C%D9%84%D8%A7%D8%A8-%D8%8C-%D8%A8%DA%BE%D9%88%DA%A9%D8%8C-%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B3.31067/