سیکنڈ ائیر میں کہی ایک غزل آپ کے لئے

سلیمان جاذب — جنوری 22، 2009 9:36 صبح
جناب یہ غزل سیکنڈ ائیر میں کہی تھی کل پرانے پیپرز کی ادلا بدلی میں سامنے آ گئ سوچا آپ سے شئیر کئے دیتے ہیں
کالج میں عرض کیا تھا اب لکھ رہا ہوں
دل کو بہت ستائے تری آرزو صنم
شام و سحر جلائے تری آرزو صنم
رہتا ہوں جان جاناں میں تیرے خیال میں
بسمل مجھے بنائے تری آرزو صنم
صورت ملن کی تجھ سے نہ کوئی دکھائی دے
سپنے مگر دکھائے تری آرزو صنم
تیری جدائی میں ہے کٹھن سی یہ زندگی
کانٹوں پہ لا بٹھائے تری آرزو صنم
پت جھڑ کی رت میں ہے دل جاذب کی آرزو
فصل بہار لائے تری آرزو صنم​
ِ
محمد وارث — جنوری 22، 2009 11:25 صبح
کیا ردیف ہے 'تری آرزو صنم' اور کیا اب بھی یہی ردیف ہے، میرا مطلب ہے، تری، آرزو اور صنم میں سے کیا کیا بدل چکا ہے ;)
الف عین — جنوری 22، 2009 4:35 شام
تو سلیمان سیکنڈ ائر میں بھی اچھے شاعر ہی تھے۔ یہ دوسری بات ہے کہ لفظیات اور خیالات اس کچی عمر کے تھے۔
مغزل — جنوری 23، 2009 9:07 صبح
سلیمان بھائی جب اکثریت حامی ہو تو میں کیوں دور رہو ں ۔ میری جانب سے بھی مبارکباد قبول کیجیے ۔
سلیمان جاذب — جنوری 23، 2009 10:52 صبح
عبید صاحب وارث بھائی اور مغل بھائی آپ سب کا شکریہ
صنم کی آرزو رنگ تو بدل سکتی ہے ختم نہیں ہو سکتی کیوں وارث بھائی کیا خیال ہے
مغزل — جنوری 23، 2009 11:46 صبح
تو صنم کو مان یا نہ مان ، ریاضت کر نہ کر
’’ یار تیرا مسئلہ ہے میرا دردِ‌سر نہیں ‘‘
شکریہ
سلیمان جاذب — جنوری 24، 2009 8:33 صبح
آنکھوں نے کئی بار تراشا ترا پیکر
اشکوں نے کئی بار ترا نام لکھا ہے
ایم اے راجا — فروری 1، 2009 6:31 شام
بہت خوب جاذب صاحب
مرک — فروری 1، 2009 7:09 شام
واہ:biggrin:
سلیمان جاذب — فروری 2، 2009 5:19 صبح

شکریہ جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سلیمان جاذب — فروری 2، 2009 5:20 صبح
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اچھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B3%DB%8C%DA%A9%D9%86%DA%88-%D8%A7%D8%A6%DB%8C%D8%B1-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%DA%A9%DB%81%DB%8C-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A2%D9%BE-%DA%A9%DB%92-%D9%84%D8%A6%DB%92.18530/