شائِد یہ رنگِ خونِ جگر کی نمود ہے

محمود احمد غزنوی — نومبر 15، 2009 11:35 صبح
شائِد یہ رنگِ خونِ جگر کی نمود ہے
بنجر زمیں پہ پھولوں کے آثار ہوگئے
پھیلی ہوئی ہےچارسُو زردی سی دھوپ کی
جانے کہاں اس راہ کے اشجار کھو گئے
کس سے ملے گا منزلِ مقصود کا نشاں
رہزن جو تھے وہ قافلہ سالار ہوگئے
اب سنگباری ہوگی ہماری ہی ذات پر
عاصی سبھی تو صاحبِ کردار ہوگئے
ہم بھی خیالِ یار کی رعنائیوں کے سنگ
زندانِ آرزو میں گرفتار ہو گئے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اک زلزلہ بپا ہے دلِ ناصبور میں
پیمانِ ضبط ریت کی دیوار ہوگئے
دل کے افق پہ ڈوب رہا تھا اک آفتاب
آنکھوں میں کچھ ستارے نمودار ہوگئے
محمود جاوداں ہے وہ چھوٹا سا قافلہ
راہِ عدم میں لشکرِ جرّار کھو گئے​
محمود احمد غزنوی — نومبر 17، 2009 7:07 صبح
آپ نے کچھ تو میرے نام کا بھیجا ہوتا:):)
اک سندیسہ کوئی آہٹ کوئی جھونکا ہوتا
الف عین — نومبر 17، 2009 5:29 شام
یہ تو میں نے دیکھی ہی نہیں تھی اب تک!!! بہتر اچھی غزل ہے، عروض کی اغلاط بھی نہیں کے برابر ہیں۔ صرف اس مصرع میں
جانے کہاں اس راہ کے اشجار کھو گئے
’اس‘ مکمل نہیں آتا، ’جانے کہاں پہ‘ آتا ہے، یا ایک صورت یہ کہ اسی خیال کو یوں کہیں
اس راستے کے کس طرف اشجار کھو گئے
اور سوچو، میں بھی سوچوں گا۔
محمد وارث — نومبر 17، 2009 5:48 شام
اعجاز صاحب کچھ 'ردیف' پر بھی بیان فرمائیں :)
الف عین — نومبر 17، 2009 6:20 شام
اوہو، دو اشعار میں ’کھو‘ ہے اور باقی میں ’ہو‘ ، ردیف میں واقعی گڑبڑ ہے۔ پہلے میرا دھیان اس طرف نہیں گیا تھا۔
ایم اے راجا — نومبر 21، 2009 7:43 شام
بہت خوب غزنوی صاحب

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B4%D8%A7%D8%A6%D9%90%D8%AF-%DB%8C%DB%81-%D8%B1%D9%86%DA%AF%D9%90-%D8%AE%D9%88%D9%86%D9%90-%D8%AC%DA%AF%D8%B1-%DA%A9%DB%8C-%D9%86%D9%85%D9%88%D8%AF-%DB%81%DB%92.26605/